عبدالله حماد – PUBG اور اب یہ فتنہ




ہر دور میں یہودی سامراج نے اپنے شاطرانہ ذہن کو استعمال کرتے ہوئے دین اسلام اور مسلمان نوجوانان کے ایمان پر کاری ضرب لگانے کی کوشش کی ہے اس پر فتن دور میں جہاں کئی فتنے ہمارے ارد گرد پھیلے ہوئے ہیں وہیں ویڈیو گیمز جیسا خطرناک اور تباہ کن فتنہ ہماری نوجوان نسل کی صلاحیتوں اور ایمان کو برباد کرنے میں اپنا بھرپور کردار ادا کر رہا ہے ۔ ویڈیو گیمز کے ذریعے سے مرتب ہونے والے اثرات ایک طویل عرصے تک انسان کی ذہنی نشو و نما کو پروان چڑھنے سے روکتے ہیں ۔ جب کوئی شخص فطرت کے خلاف اپنی زندگی بسر کرتا ہے اور رات رات بھر موبایل کی اسکرین کے سامنے بیٹھا رہتا ہے تو انسان کے مزاج میں موجود فطری روحانیت زائل ہوجاتی ہے جس کے نتیجے میں مزاج میں چڑ چڑا پن ، بےزاری ، تھکاوٹ کا پیدا ہونا لازمی سی بات ہے ۔ اسلام کی رو سے دیکھا جاۓ تو ایک مسلمان کا ان گیمز میں مشغول ہو کر اپنے دن کا بڑا حصہ اس میں صرف کرنا سراسر گھاٹے کا سودا ہے کیوں کے قیامت کے دن انسان کے ہر ہر لمحے کا حساب اس سے لیا جاے گا ۔ ابھی دو سال پہلے یعنی مارچ 2017 میں آئر لینڈ کے رہنے والے بڑینڈن گرین نامی ایک شخص نے ساؤتھ کوریا میں PUBG کے نام سے ایک ویڈیو گیم لاونچ کیا اس گیم نے دیکھتے ہی دیکھتے پوری دنیا میں مقبولیت حاصل کرلی ۔ اس گیم کو لاونچ کرنے والی کمپنی نے گیم لاونچ کرنے کے گیارہ دن بعد ہی چار ہزار پانچ سو کروڑ روپے کما لئے جس سے اس کی رینکینک کا اندازہ بخوبی کیا جا سکتا ہے ۔
اس گیم کا پس منظر کچھ یوں ہے کے اس گیم کو کھیلنے والے شخص کو شہر کے شہر اور گاؤں کے گاؤں تباہ کرنے ہوتے ہیں اس کے علاوہ اس میں کھیلنے والے ہر سو میں سے ننانوے کھلاڑی مارے جاتے ہیں جب کے ایک کھلاڑی ہی آخر میں بچ سکتا ہے۔ اس گیم کی بڑھتی ہوئی مقبولیت کو دیکھتے ہوئے جب اس کی تحقیقات کی گئیں تو یہ بات سامنے آئی کے یہ گیم حضور اکرم ﷺ کی ایک حدیث مبارکہ سے مشابھت رکھتا ہے۔ حدیث کا مفہوم کچھ یوں ہے کہ ” قیامت سے قبل ملک شام میں ایک جنگ لڑی جائے گی جس کا نام المل حمد الکبریٰ ہوگا جو کے دنیا کی سب سے خوفناک جنگ ہوگی جس میں شریک ہونے والے ہر سو میں سے ننانوے لوگ مارے جایں گے جب کے ایک شخص بچے گا ” (الحدیث)
بلکل اسی طرح اس گیم میں بھی یہ ہوتا ہے کے ہر سو میں سے ننانوے لوگوں کا مارا جانا لازم ہے ۔ اس کے علاوہ اس گیم میں اکثر جگہ شہید مساجد دکھائی گئیں ہیں جن کے مینار اور گنبد وغیرہ شہید ہیں جب کے چند ایک بار مساجد میں اسلحے کے ذخائر بھی موجود دکھاۓ گۓ ہیں ۔
ابھی حال ہی کی تحقیق کے مطابق اس گیم کو پوری دنیا میں 10 سے 15 کروڑ لوگ کھیل رہے ہیں ۔ اس گیم میں حدیث کی مشابھت اور شہید مساجد کا ذکر سننے کے بعد علماءکرام نے اس کا خود جائزہ لیا تو اس نتیجے پہ پہنچے کے ایک مسلمان کو اس گیم سے اجتناب کرنا چاہئے۔ ایسا گیم کے جو ہماری ایمانی و اخلاقی بربادی کا سبب بنے کسی طور بھی اس کا کھیلنا درست نہیں ہے اس کے علاوہ ایک تحقیق کے بعد یہ بات بھی سامنے آئی کے ایک مفتی عالم دین نے اس کا کھیلنا حرام قرار دیا ہے . لیکن اس بات کی کھل کے وضاحت سامنے نہیں آسکی ہے (جس پہ مزید تحقیق جاری ہے)
اس گیم کو ہم ایک عام انداز سے دیکھیں تو بھی اس گیم کا کھیلنا ہمارے لئے غلط ہے ۔ ایک یہودی کی بنائی ہوئی چیز کسی مسلمان کے لئے قطعی فائدہ مند نہیں ہوسکتی ۔
اس گیم کی وجہ سے ہماری نوجوان نسل عصبیت و تشدد پسند ہوتی جا رہی ہے جس کی وجہ سے جرائم کے بڑھنے کا خطرہ موجود ہے۔ اس کے علاوہ اس گیم میں واضح طور پہ شہید مساجد اور ان میں اسلحے کے ذخائر دکھاۓ گئے ہیں جس سے ہم اندازہ کرسکتے ہیں کے ہماری نوجوان نسل اور بچوں کے نابالغ ذہن میں کیا خیالات بٹھائے جانے کی کوشش کی جارہی ہے۔اب ضرورت اس بات کی ہے ہم اپنے آپ اور اپنے دین سے مخلص ہو کر خود بھی اس سے بچنے کی کوشش کریں اور اپنے عزیز و اقارب کو بھی اس چیز سے ہوشیار کریں ۔ اپنے آپ کو یہودییوں کی سازش کا شکار ہونے سے بچایئے ۔ اللّه ہمارا حامی و ناصر ہو۔

اپنا تبصرہ بھیجیں