مادری زبان میں تہذیبوں کی بقاء ہے – ذوالقرنین احمد




مادری زبان اس زبان کو کہتے ہے جو بچہ پیدائش کے بعد اپنے گھر کے ماحول میں پرورش پا کر والدین اور گھر کے دیگر افراد کی گفتگو سن کر سیکھتا ہے جب بچے کا ذہن بہت جلد کسی بھی چیز کو سیکھنے اور اسے ذہن نشین کرنے کا کام کرتا ہے مادری زبان میں قوموں کی تہذیب و ثقافت کی بقا ہیں بچہ جس ماحول میں پرورش پاتا ہے وہ اس معاشرے کی زبان کو بآسانی شعوری طور پر سمجھ سکتا ہے اور وہی الفاظ اس کے ذہن میں ہمیشہ کیلئے رائج ہوجاتے ہے کہ فلاح چیز کو کیا نام سے پکارا جاتا ہے کس الفاظ کا استعمال کسی کام کے کرنے کیلئے کہے جاتے ہیں لفظوں کے اتار چڑھاؤ سے الفاظ کا مطلب کس طرح سے بدل جاتا ہے ۔ کسی لفظ پر زور دینے سے کسی لفظ کو ٹھہر کر پڑھنے سے جملے کا مطلب تبدیل ہو جاتا ہے زبان کے تعلق سے یہ تمام چیزیں بچہ اپنی ماں سے اور گھر کے ماحول سے سیکھتا ہے ۔ مادری زبان کسی بھی قوم کیلئے بہت اہمیت کی حامل ہوتی ہیں کیونکہ اس میں تہذیبوں کی تاریخ مضمر ہے اگر کسی قوم کو اپنی پہچان اپنی تہذیب اپنی ثقافت کو زندہ رکھنا ہو تو اسے چاہیے کہ وہ اپنی مادری زبان کی حفاظت کریں کیونکہ اگر کسی قوم سے اسکی مادری زبان کو چھین لیا جائے تو معاشرے میں وہ قوم ایک خاص امتیاز کو کھو بیٹھتی ہے۔
مادری زبان کسی بھی انسان کیلئے اپنے احساسات و جزبات ،خیالات و نظریات، سوچ و فکر،کو بیان کرنے کا اور اسے معاشرے کے سامنے پیش کرنے کا اہم ترین زریعہ ہوتی ہے۔ کوئی بھی انسان اپنی زندگی میں ہونے والے مختلف قسم کے حادثات، تجربات، اور دلوں پر اثر انداز ہونے والے مختلف احساسات جذبات کو بیان کرنے یا لکھنے کیلئے اپنی مادری زبان کا محتاج ہوتا ہے وہ دیگر کسی زبان میں ان احساسات و جذبات کی مکمل اور مؤثر ترجمانی کرنے سے قاصر ہوتا ہے۔ اسی لیے مادری زبان قوموں کی بقاء اور تہذیبوں کی بقاء کیلئے بہت ہی ضروری ہے۔ اگر کوئی بھی قوم اپنی مادری زبان کو فراموش کردے تو وہ اپنی تہذیب کی تاریخ سے بے خبر رہی گی جو تہذیب کی موت مترادف ہوگی۔ اگر آپ اپنی تہذیب کو زندہ رکھنا چاہتے ہیں تو اپنی مادری زبان کی حفاظت کیجئے۔ بچوں کو مغربی طرز پر تعلیم دلانے کے بجائے انہیں اپنی مادری زبان میں تعلیم دیجئے کیونکہ جس زبان کی سمجھ بچہ اپنے بچپن میں ذہین نشین کرتا ہے وہ اس کیلئے ہمیشہ کیلئے شعوری طور پر سمجھنے میں مدد کرتی ہے اس لیے اپنے بچوں کو ابتدائی تعلیم اپنی مادری زبان میں دیجئے اسی میں قوموں کی بقاء ہے اگر آپ بچے کو مادری زبان کے بجائے مغربی کلچر کے مطابق انگریزی زبان میں تعلیم حاصل کرانے پر بضد ہے تو یاد رکھیے کہ….
بچے کے اندر زبان کے تبدیل ہونے کی بنا پر بہت سے بچوں کے اندر ڈر و خوف پیدا ہوجاتا ہے وہ کم عمر ہی میں احساس کمتری کا شکار ہو جاتے ہیں، اسکی وجہ سے بچوں کی شخصی ارتقاء و اقدار میں اضافہ نہیں ہو پاتا اسکی پوشیدہ صلاحیتیں پوشیدہ ہی رہی جاتی ہے جب کہ تعلیم کا مقصد ہی بچوں کی پوشیدہ صلاحیتوں کو تلاش کر ان کو پروان چڑھانا ہوتا ہے۔ اسی کے زریعے طلباء کی قابلیت کو نکھارا جاتا ہے ہر بچہ اپنے اندر ایک خاص قسم کی صلاحیت و قابلیت رکھتا ہے اس لیے ضروری ہے کہ اپنے بچوں کے مستقبل کی تعمیر کیلئے فکر مند ہوجائے قوموں کی ترقی کا راز صرف انگریزی زبان نہیں ہے اصل چیز قابلیت ہے اور اس کے لیے بچے کو اپنی مادری زبان کے زریعے خود کی صلاحیتوں کو پیش کرنے میں مدد ملتی ہے ورنہ بچہ انگریزی اسکول جائے گا اور خالی ذہن کورے کاغذ کی طرح گھر لوٹے گا ۔ مادری زبان ہمارے لیے معاشرے میں ایک الگ پہچان کا زریعہ بنتی ہے جس سے تہذیب و ثقافت جھلکتی ہے اور ہماری اردو زبان تو زبان ہے جس کی شیرینی ایک مرتبہ جس کی زبان پر لگ جائے تو وہ عمر بھر اس کا دلدادہ ہوجاتا ہے اردو زبان صرف مسلمانوں کی زبان نہیں ہے یہ کسی مذہب کی زبان نہیں ہے یہ محبت کی زبان ہے یہ انسانیت کی زبان ہے .
یہ قوموں کی اشتراک کی زبان ہیں یہ مختلف قوموں کی اندر اتحاد پیدا کرنے والی بلند و بالا فصیل کے مناروں پر جلتے ہوئے چراغ کا مقام رکھتی ہے یہ وہ زبان ہے جس کے زریعے غالب نے اپنے پوشیدہ خیالات کو لفظوں کا پیرہن دے کر حسن سے مزین کیا، یہ وہ زبان ہے جس کے زریعے سے اقبال نے قوموں کے عروج و زوال کی داستانیں رقم کی اور ملت اسلامیہ کو اپنے شعور سے پھوٹنے والی کرنوں سے دور اندیشی کا مظاہرہ کرتے ہوئے مستقبل کے حوالے سے آگاہ فرمادیا ۔ یہ وہ زبان ہے جس کو شاعر نے اپنی محبوبہ بنایا، تو کسی شاعر نے بیٹی بنایا ،تو کسی نے ماں بنایا، یہ وہ زبان ہے جس کو صنف نازک نے ایسے دیدہ زیب خوشبودار پھول نما لفظوں کو قرطاس کے حوالے کر کی غزلوں اور نظموں کے خوبصورت موتے بکھیر دیے، یہ وہ زبان ہے جو انسان کو اپنے لفظوں کے زریعے حسن کا پیکر بناتی ہے، یہ وہ زبان ہے جو کسی کی دل کو چھو جانے والی تحریر کو پڑھ کر اس اجنبی شخص کا دیوانہ بنا دیتی ہے جی چاہتا ہے کہ پڑھتے ہی جاؤں سنتے ہی جاؤں لفظوں کی لطافت و لزت ختم نہیں ہوتی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں