متاثرینِ میڈیا – مریم فارق




فری پیریڈ تھا ۔ کلاس مچھلی بازاربنی ہوئی تھی ۔ سب اپنی اپنی ہانک رہے تھے۔ میرا گروپ بھی کلاس کے شور میں بھرپور اضافہ کر رہا تھا۔ انکی گفتگو کا محورآج کل مختلف چینلز پر نشر ہونے والے چند مشہور ڈرامے تھے۔ ایسا لگ رہا تھا کہ ’’اب ڈرامے کی کہانی کیا رُخ اختیار کرے گی؟‘‘کہ موضوع پر کوئی مباحثہ چل رہا ہے ۔ بڑھتے بڑھتے یہ گفتگو اداکاروں اور اداکاراؤں کی ظاہری لُک، ہیئر اسٹائل ، ملبوسات اور ایکٹنگ پر آگئی۔گفتگو کی یہ اُچھلتی کودتی ندی اب اشتہارات اور اُنکی ماڈلز کے ڈانسز کی طرف مُڑ گئی۔ اُنکا انہماک بتا رہا تھا کہ اشتہارات سے سیکھے ہوئے ڈانس اسٹیپس اُنکے خاندان کی شادیوں کے موقع پر کام آئیں گے ۔ میں اِس پوری گفت و شنید کے دوران خاموشی سے بیٹھی ’’کرنٹ میڈیا وار‘‘ کی متاثرین کی باتیں سُن رہی تھی ۔ ایک دوست نے مجھ سے بھی سوال کیا کہ سب نے اپنے فیورٹ ایکٹر کا نام بتایا ہے۔ اب تُم بتاؤ۔ میں نے کہا’’میں تمہاری طرح ڈرامے نہیں دیکھتی، میرے گھر ٹی وی نہیں ہے۔ ‘‘
’’ہیں!!!! تمہارے گھر ٹی وی نہیں ہے؟؟‘‘ سب کے منہ سے ایک ساتھ نکلا۔
’’ہاں! جب میں ۵ سال کی تھی تب ابو نے ہٹا دیا تھا کہ اُلٹی سیدھی چیزیں آتی ہیں۔ ‘‘میں نے آرام سے بتایا تھا۔
’’مجھ سے ہضم نہیں ہو رہا۔ تم لوگ گھر میں ٹائم کیسے پاس کرتے ہو۔ میں تو اسکرین کے بغیر رہ ہی نہیں سکتی ۔ کھانا بھی ٹی وی کے سامنے کھاتی ہوں۔‘‘ ایک دوست حیران ہوئی تو دوسری نے فوراََ چمک کر کہا’’ٹی وی ہٹانے سے کیا ہوتا ہے ۔ تم یوٹیوب پر دیکھ لیتی ہوگی۔۔۔‘‘
’’تمہارے گھر والے اتنے strict ہیں تو تم کو تو فیس بُک استعمال کرنا بھی allow نہیں ہوگا۔ ‘‘دوسری دوست کو میرے اوپر رحم آرہا تھا۔
’’یقین نہیں آرہا۔‘‘ ’’کتنی پابندیاں ہیں تمہارے اوپر۔‘‘مجھے ہنسی آگئی۔
’’جی نہیں!! اگر تم سمجھ رہی ہو کہ میرے گھر والے بہت سخت ہیں اور میں پابندیوں میں جکڑی ہوئی مظلوم سی لڑکی ہوں۔، تو تم بالکل غلط ہو۔میرے پاس پرسنل موبائل بھی ہے اور میرا فیس بُک اکاؤنٹ بھی ہے۔ تم لوگوں نے تو ڈر کے مارے سوشل میڈیا پر والدین اور بہن بھائیوں تک کو بلاک کیا ہوا ہے کہ وہ تمہاری فضول سرگرمیاں نہ دیکھ لیں۔ میرے پاس میرے والدین ، بہن بھائی سب ایڈ ہیں جو میرے اوپر چیک رکھتے ہیں اور مجھے تو یہ با لکل بھی پابندی نہیں لگتی ۔ مجھے تو اچھا لگتا ہے کہ یہ لوگ مجھ سے محبت کرتے ہیں جب ہی تو مجھے برائی کے راستے سے بچا رہے ہیں۔ کل ہی فیس بُک پر پڑھا تھا کہ ’’بعض دفعہ جو چیز تمہیں قید لگ رہی ہوتی ہے وہی اصل میں تمہاری محافظ ہوتی ہے۔‘‘میری یہ باتیں سُن کر مجھے عجیب سی نظروں سے دیکھتی ہوئیں کینٹین کی طرف چلی پڑیں۔
ہم ایک ایسے انگلش میڈیم اسکول سے پڑھ کرآئے تھے جہاں جدید تعلیم کے ساتھ مذہبی تربیت اس طرح کی گئی تھی کہ وہ ہمارے مزاج کا حصہ بن گئی اور گھریلو ماحول بھی اسی سے ہم آہنگ تھا، تواب کالج کے آزاد ماحول میں آکر اندازہ ہوا کہ پاکستانی میڈیا نے ہم نوجوان نسل خاص طور پر ملکِ پاکستان کی بیٹیوں کے ذہنوں کو کیسا اپنے قبضے میں کرلیا ہے۔ اپنی ہم جماعت مختلف گھرانوں کی طالبات کو دیکھتی ہوں تو ایسا لگتا ہے کہ ان کے پاس ایک دوسرے سے بات کرنے کے لئے اداکاروں ، فلموں،گیم شوز میں شرکت کی داستانیں، صنفِ مخالف کیساتھ دوستیوں کے قصے، والدین کی آنکھوں میں دھول جھونک کر گھروں سے بھاگنا، دوپٹہ کو بوجھ سمجھنا ۔۔۔ ان کے علاوہ کوئی اور موضوع ہی نہیں ہے۔
صورتِ حال یہ ہے کہ ۲۴گھنٹے نان اسٹاپ ٹی وی نشریات اور ہمہ وقت ہاتھ میں موجود موبائل سے نہ صرف فضول بلکہ دینی حدود کو توڑنے والی تفریحات کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوتا۔ حیا جو صنفِ نازک کا ایک فطری وصف ہے اسکو گلیمر کی چکا چوند نے مار دیا ہے۔ بے باکی کو خود اعتمادی کا نام دے کر ہر میدان میں مردوں کے ساتھ لا کھڑا کیا ہے۔ برائی پر ثابت قدمی کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے۔
معاشرے کی تعمیر میں میڈیا کا بہت اہم کردار ہوتا ہے۔ اب جب ہمارا پاکستانی میڈیا اس حوالے سے اپنا کردار ادا نہیں کر رہا تو یہ گھر کے بڑوں کا فرض بنتا ہے کہ وہ اپنے نوجوانوں کو برائی کی اس دلدل میں دھنسنے سے بچائیں۔مجھے تو حیرانی اُن بڑوں اور بزرگوں پر ہوتی ہے کہ جو برائیوں کا سیلاب دیکھتے ہوئے بھی اپنے بچوں کے برقی روابط پر کوئی روک ٹوک نہیں لگاتے۔اور جب کوئی روح فرسا واقعہ رونما ہوجاتا ہے تو ساری ذمہ داری میڈیا پر ڈال دیتے ہیں۔
مزے کی بات یہ ہے کہ ہر معاشرتی اور سماجی فورم پر اِس بات پر خوشی کے شادیانے بجائے جاتے ہیں کہ پاکستان کے پاس ۶۴ فیصد جوان قوت موجود ہے۔لیکن سوچنے کی بات ہے کہ میڈیاکو اس قوت کے ساتھ کھیلنے کی بھرپور آذادی دے دی گئی ہے۔ اور لگتا ہے کہ یہ اس کھلونے کو توڑ کے دم لیں گے۔ ملک کی نوجوان قوت کی حفاظت کے لئے ضروری ہے کہ میڈیا کی لامحدود آذادی پر پابندی لگائی جائے ۔ اسی طرح یہ قیمتی سرمایہ محفوظ رہ سکے گا۔
***

اپنا تبصرہ بھیجیں