چمکتے دمکتے چہروں والے : زبیر منصوری




ہمت جمع کر رہا تھا ۔۔۔۔ جرات کے ریزے سمیٹ کر خود کو اس قابل بنا رہا تھا کہ ان اخوانیوں کو اپنے شکستہ سے الفاظ سے کچھ خراج پیش کر سکوں سوچتا ہوں ! وہ کیا چیز ہے جو ان خوبصورت چمکتے دمکتے چہروں والے ، ابھی بہ مشکل نوجوانی کی حدود میں داخل ہونے والے لڑکوں کو عزیمت کا پہاڑ بنا دیتی ہے ؟ ان کی تو نہ ٹھیک سے داڑھیاں ہیں نہ ہمارے شرعی پیمانے پورے کرتے لباس ، نہ عمامے ، نہ جبے ، نہ دستار خالص یونی ورسٹیوں کے تعلیم یافتہ لڑکے اور لڑکیاں ۔۔ مگر ۔۔۔ یہ آگے بڑھ کر پھانسی کے پھندے چومتے ہیں ۔ ان کی نوعمر سی بیویاں قرون اولی کی یادیں تازہ کرتیں مسکراتے ہوئے انہیں الوداع کہتیں اور ان کی نشانیوں کو انہیں کے نقش قدمُ پر چلانے کا وعدہ کرتی ہیں یہ بیویاں ان سے نہ رو رو کر گلے کرتی ہیں نہ بھری دنیا میں اکیلے چھوڑ دینے کے طعنے دیتی ہیں نہ یہ کہتی ہیں کہ دیکھا منع کیا تھا نا کہ اس راستہ پر نہ چلو اب بھگتو ، نہ انہیں یہ پریشانی ہے کہ اب ان کا بنے گا کیا یہ بچے کیسے پالیں گی ؟ یہ جئیں کی کیسے ؟
سوچتا ہوں یہ کون لوگ ہیں ؟یہ کیسا عزم و حوصلہ اور سکون دل انہیں حاصل ہے؟ یہ کس چیز نے انہیں اپنے مولا کا اتنا سچا سُچا وفا دار بنا دیا ہے؟ پھر اپنے گریبان میں جھانکتا ہوں
اپنے جیسوں کو دیکھتا ہوں ۔ مایوسی نا امیدی طعنہ الزامات بے صبری رسمی رواجی دینداری مصنوعی تقوی سطحی مسلمانی کوئی بڑا اداکار کوئی چھوٹا ۔۔۔ آہ ۔۔۔ اخوانی لڑکو ! تم بازی لے گئے یار ۔ ایمان کی مٹھاس پا گئے ، تم نے اللہ کو دل کی انتہائی گہرائیوں سے اپنا رب مان اور جان لیا اور اس پر اطمینان قلب پا گئے ، تم نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنا بڑا بنایا اور پھر ان ہی کے ہو کر رہ گئے ۔ تم نے اسلام کو سوچ سمجھ کر اپنےعمل میں اتارا اور پھر اسے اپنا اوڑھنا بچھونا بنا ڈالا اخوانی لڑکو ! ہم تو شاید تمہارے ایمان کی گرد تک بھی نہ پہنچ پائے اپنے رب سے ہماری سفارش کرنا ہمیں بھی تمہارے یقین کا کچھ حصہ مل جائے جاو رب کی جنتوں میں ہمیشہ کا عیش خرید کر کامیاب تجارت کرنے والو جاو ! خوش ہو جاو کہ تمہارے رب کی ضیافتیں تمہاری منتظر ہیں ۔۔

اپنا تبصرہ بھیجیں