غیبت کیفے _ فرح رضوان




سبحان اللہ و بحمدہ ، سوره یوسف ، جسے احسن القصص پروردگار نے فرمایا ہے ، نہ جانے کیسا حکمت کا خزانہ ہے کہ جب جو چاہو سبق لیتے چلے جاؤ ، نہ دل بھرتا ہے نہ خزانے سے کچھ بھی کم ہوتا ہے – . کیا کہنے ہمارے گھروں میں کھلے غیبت کیفے کے دو ایک لوگ ، یا ایک فمیلی موجود نہ ہو تو باقی کے سب لوگ انکی غیبت میں لگ جاتے ہیں ، یہ دوسری سیڑھی ہے ، گرنے ، پھسلنے یا اپنے درجے سے نیچے اترنے کی ……اس سے قبل ، کبر تھا ، خود کو بہتر سمجھ کر دوسرے کو حقیر جاننا تھا ، اس سے بھی قبل ناشکری تھی ، رب تعالیٰ کی تقسیم پر اعتراض تھا ، جسس سے قبل وسوسہ تھا ،
اور وسوسہ صدر میں آتا ہے ، قلب میں نہیں ….. تاوقتیکہ ہم خود ہی دل کا در اس پر وا کر دیں اور گود میں لیے قلب کے صوفے پر تھپک تھپک کر نہ بٹھا لیں …….انسان ڈوبنے لگے تو بچنے کی خاطر ہاتھ پاؤں مارتا ہے ، پھسلنے لگے تو آس پاس کوئی سہارا تھام کر گرنے سے بچنے کی کوشش ضرور کرتا ہے ،لیکن غیبت سے قبل ہی ہم اتنی گراوٹ کا شکار ہوتے چلے جانے کے باوجود بھی سنبھلنے کی کوشش کے بجاۓ ، وہ ہم خیال بندہ یا گروہ تلاش کرتے ہیں جہاں سب مل کر پھسل جانے ، بھٹک جانے میں ایک دوسرے کا ساتھ دیں –
یوسف علیہ السلام کے بھائی بھی ایسی ہی کتنی غیبت اجلاس اور بیٹھکوں کے بعد اس مقام پر پہنچ سکے ہونگے کہ نبی کے بیٹے ہونے کے باوجود بھی بھلائی نہ کر پاۓ
نوٹ : غیبت بھلائی کا موقع چھین لیتی ہے – برائی کو بھلا اور آسان بنا کر پیش کرتی ہے ۔ انسان ظلم کر کے بھی خود کو اسکا حقدار اور مظلوم ہی سمجھتا ہے کیوں ؟ اسلیے کہ جب آپ کچھ برا کھا لو تو فوڈ پوائزننگ ہو جاتی ہے ، نظام ہضم ایسا متاثر کہ پانی تک ہضم نہیں ہوتا – تو مردہ بھائی کا گوشت کھا کھا کھا کہ یہ وقت آجاتا ہے کہ کوئی اچھی نصیحت کرے ،اگلے کو ہضم ہی نہیں ہوتی –

اپنا تبصرہ بھیجیں