Home » سب کچھ کہہ دو – فرح رضوان
بلاگز

سب کچھ کہہ دو – فرح رضوان

ننھا سا بچہ ہنستا ہوا دوڑا سب بڑے ہنسنے لگے ،اچانک ٹھوکر سے گرا تو رونے لگا ، بڑوں میں سے کوئی اٹھا بچے کو گلے لگایا فرش کو تھپڑ ! بچے کو گویا سکون آگیا اس فوری ریسکیو آپریشن سے ۔۔۔۔ اور زندگی میں وہ اسی کا عادی ہو چلا کہ انسان کے سوری کہنے سے تو درد ہلکا زخم مندمل نہیں ہوتا ، البتہ جس سے بھی چوٹ لگے اسے کوئی تو پیٹے یا کم از کم جی بھر کر برا بھلا کہے نا۔ ان تمام افراد سے پیشگی معذرت ، جو سخت دکھی پوسٹ کرتے ہی رہتے ہیں ، اور باقی جو شدید جذبات کی رو میں کامنٹس اور تسلیاں دیتے ہی رہتے ہیں ۔ اس بات سے قطع نظر کہ لٹکے کمزور پودے کو سیدھی مضبوط لکڑی/دیوار کا سہارا دیا جائے تبھی وہ درخت باوقار بلندی کو چھو پاتا ہے ، اسکے پھل پکنے تک اونچائی پر محفوظ رہتے ہیں ، اسکا سایہ گھنیرا بن پاتا ہے ۔ فیس بک لگتا ہے کوئی شکایت دفتر ہو کہ جسے اللہ تعالیٰ کی شکایت لگانی ہو کہ میری تقدیر میں اللہ تعالیٰ نے دیکھیں ذرا کیا کیا لکھ دیا ہے ، اور زونگ کے سلوگن کو بطور گن استعمال کرتے بے لاگ بے لاج الفاظ میں گولہ بارود اگلتے “سب کچھ کہہ دو”۔۔۔۔ چھٹا سپارہ تو شروع ہی اس تاکید سے ہوتا ہے ۔۔۔ اور بے شک آپ پر ظلم بھی ہوا ہو الفاظ کا لباس تار تار کرکے بات کو جامے سے باہر کہیں یا لکھیں تو اپنے اعمال نامے میں کیا تحریر فرما رہے ہیں ضرور یاد رکھنا چاہیے ۔
واقعہ افک کیا واقعی ہے ؟ قرآن کریم نے اور باقی راویوں نے کس طرح بیان کیا ہے؟ کوئی تو سبق ہے نا ؟ یقین کریں کل تک میڈیکل سائنس نے ترقی نہیں کی تھی اگر تو اتنی عجیب بیماریوں میں مبتلا بھی نہ تھے کل ہی کی بات ہے لوگ ڈھکے چھپے الفاظ میں طبیب تک کو اپنی دقت بتاتے اور اللہ تعالیٰ کے اذن سے شفایابی پاتے تھے ۔ فیس بک کی وال اور وہاٹس ایپ کی ونڈو کیا ، پوشیدہ امراض و جذبات کے فحش پوسٹرز لگانے کی ہمت نہ تھی ، کسی کو کہیں مگر آج “اسلامی جمہوریہ پاکستان” کے شہر کے شہر کے اصلی در و دیوار نازیبا اشتہارات سے سیاہ ہوئے پڑے ہیں، ۔۔ ۔نہ جانے زندگی میں کس صبح روشن کی امید پر خواتین و حضرات کے” سکھی زندگی کے مشاورتی گروپ ” خواہ وہ تفریحی ہوں یا اپنے تئیں “پرخلوص اور اصلاحی” سوال یہ ہے کہ کیا ایک مسلمان کی زندگی اور آخرت میں تعمیری کردار ادا کرتے ہیں، مشورہ دینے والوں کی “علمی” ہی نہیں,
درست عقیدے کے ساتھ درست نالج ہے کہ نہیں آیا ان میں واقعی مشورہ دینے کا سلیقہ اور آپ میں لینے کا شعور ہے؟ یا یہ وہی بات ہے کہ روٹی بنانے سے قبل توا چولھے پر رکھ دیں ۔۔۔۔اور بہت بعد میں پتہ چلے یا بتایا جائے کہ اسکا مطلب ہوتا ہے چولھا جلا کر توے کو اس پر رکھنا ہوتا ہے۔ ۔۔۔ دکھی ہیں آپ بہت بہت علاج کیا ہو سکتا ہے؟ ؛ مثبت مصروفیت قلب کے سوا ؛ عمر رضی اللہ عنہ نے کسی کو بائیں ہاتھ سے کھاتا دیکھ کر وجہ دریافت کی ، جواب ملا دایاں ہاتھ مصروف ہے۔۔
۔اس بات پر طلبی ہوگئ ،تو تنہائ میں ان سپاہی نے جا کر عرض کیا کہ اللہ کی راہ میں انکا ہاتھ تن سے جدا ہوگیا تھا،اب بہتر مقام پر مشغول ہوگا۔۔۔۔۔پبلک میں اپنی بہادری کی کوئی فوں فاں نہیں کی ، نہ قربا ی اور دقت پر غوں غاں کی۔۔۔۔ یہ تو پرانی بات ہوئی سمجھیں مگر آج سوشل میڈیا کے دور میں کتنے ہی مسلم ممالک میں لوگوں کے اعضا جل گئے کٹ گئے کتنے لوگ ہیں جو ادھورے اجسام کے ساتھ جی رہے ہیں مگر شکوہ نہیں صبر و شکر صبر اجر کی امید پر شکر اپنے ایمان پر ۔۔۔
تو روح یا دل کا ادھورا پن یا آزمائش یا خوف اس بھوک و افلاس کے امتحان سے مبرا ہیں کیا ؟ ہم کب اور کس طرح ” کیا بتاؤں بہن ، تم کو بتاتی ہوں تم کسی کو نہ کہنا ” ، اور وہ بات اسی طرح محلے بھر سے خاندان بھر میں کی ہوتی ہے ۔۔۔ آخر ہم اس دکھی آتما نفسیات کے گنجل سے کب نکلیں گے ؟–قوم فقیر فقرا بنانے والے پروگراموں “گیم” شوز سے سبھی خوددار افراد واقف ہیں۔ ۔۔ گویا گیم کے مہروں کے رازق تو یہی ہوں (نعوذ بااللہ) اب یہی رویہ مختلف پیجیز پر دکھ درد، مصائب و آلام کے نام پر دکھائی دیتا ہے ۔ معاشی حالات خراب ہوں یا جذباتی دو سطور کچن میں چوہے کی طرح چھوڑ دیتے ہیں لوگ، اور باقی تمام اس کے پیچھے رزاکارانہ چوہا پکڑ مہم پر۔۔۔۔کوئی حدیث کسی نے جیسے سنی ہی نہ ہو کہ دنیاوی معاملات میں اپنے سے کمتر کو دیکھو ۔۔۔ یہی بھلکڑ پن ، پھکڑ پن سے ہر بات ببانگ دہل ڈسکس کرتے وقت ہوتا ہے، یاد نہیں رہتا یا محسوس نہیں ہوتا کہ حدیث میں تنبییہ کتنی ہے کہ جب تم بے حیا ہو جاؤ تو جو جی چاہے کرو ۔ کیا بات ہے ہماری کہ دنیا کو لے کر چلیں نیچر کے تحت تاکہ آئندہ نسلیں محفوظ ہوں مگر الفاظ و انداز و جذبات کے اظہار کی کوئی فکر نہیں کہ آج ہم اتنا کھل کر بولیں اور لکھیں گے تو کل کو آنے والے کیا سیکھیں گے!!!!

Add Comment

Click here to post a comment

درد میں سانجھی ساتھ نہیں

درد میں سانجھی ساتھ نہیں آنکھوں میں ویرانی تھی دل بھی میرا شانت نہیں اجلے دن میں نا کھیلی تھی گھور اندھیری رات میں بھی حصہ میں جس کے آتی تھی وہ شاہ میں گدا کہلاتی تھی آنسو پی کے جیتی تھی ذلت کا نشانہ بنتی تھی یا خاک میں زندہ رلتی تھی ہرس و ہوس کا سمبل تھی یا اینٹوں میں چن دی جاتی تھی چند ٹکوں میں بکتی تھی آہ میری بے مایہ تھی سوکھے لبوں پہ مچلتی تھی

威而鋼

以前服用威而鋼,但有效時間僅僅只有4小時,對於在常年在高原的我來說,時間有點太短,所以會考慮犀利士。

  • 犀利士(Cialis),學名他達拉非

犀利士購買

與其他五花八門的壯陽技巧相比,犀利士能在40分鐘內解決性功能勃起障礙問題,並藥效持續36小時。這效果只有犀利士能做到,因為醫療級手術複雜,不可逆,存在安全隱患;植入假體和壓力泵等,使用不便,且有病變的可能。