یہ اس شہید کے بچے نہیں ہیں “ زبیرمنصوری




اس کی اپنی پلکیں بھیگی ہوئی تھیں ۔۔۔۔ اس نے ایک تصویر ٹیبل پر میری طرف بڑھائی اور بولا ۔۔۔۔ “زبیر بھائی اسمیں آپ کو کیا نظر آرہا ہے؟”۔۔ میں نے بغوراسے دیکھا اور افسردگی سے کہا ۔۔۔ “کسی مصری شہید کی لاش ہے اس کے بچے اس پر شدت غم سے نڈھال ہیں ،بری طرح رو رہے ہیں۔۔۔” وہ بولا“ یہ اس شہید کے بچے نہیں ہیں “
میں نے حیرت سے اسے دیکھ کر پوچھا ۔۔ “پھر یہ کون ہیں ؟ کیوں ایسے بلک بلک کر رو رہے ہیں؟”
وہ چند ثانئیے خاموش رہا ۔۔ کھڑکی سے باہر دیکھ کر اپنی آنکھوں میں بھر آنے والے آنسووں کو چھلکنے سے بچانےکی کوشش کرتا رہا ۔۔۔ پھر میری طرف دیکھے بغیر بولا
“جب اخوان پر دعوت کےراستے بند کر دئیے گئے تو ان کے ایم بی ایز، اننجئیرز ، ڈاکٹرز ، علما سب نے کام کے نئے راستے تلاش کرنا شروع کر دئیے ان میں سے ایک کام مساجد میں قران پڑھانا بھی تھا ان لوگوں نے حکومت کی نظر بچا کر ان معصوم ذہنوں اور دلوں میں اللہ سے محبت اور ایمان کی مٹھاس بھرنا شروع کر دی اللہ نے کلمہ خیر میں اپنی برکت شامل فرما دی اور ایک پوری نسل اللہ پر ایمان کی شیرینی چکھتے ہوئے پروان چڑھ گئی۔۔
اور پھر ان میں سے ایک یہ ایم بی اے پاس استاد حکومتی جبر کا شکار ہو کر شہید کر دیا گیا تو یہ اس کے طالبعلم بچے ایسے بلک بلک کر رو رہے ہیں جیسے وہ ان کا باپ ہو ۔۔
اللہ جی ۔۔۔ ہم جیسےاسلام پسندوں کو یہ کرئیٹوٹی شیرینی اور حلاوت عطا کر دیجئیے کہ نئی نسلیں قاعدوں ضابطوں اصولوں فلسفوں سے “قائل” کرنے سے نہیں محبت نرمی ایثار احترام اور قربانی سے “ مائل ” کرنے سے پروان چڑھتی ہیں۔۔۔
خیر کی بات شئیر کر دیا کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں