ترکی اور پاکستان دو ملک اک قوم _ عالم خان




میری رہائش یونیورسٹی کے اندر پروفیسرز کالونی میں ہے آج جب پاکستان کے شاہینوں نے دشمن کے دو مگ (۲۱) جہازوں کو مار گرایا تو اس وقت میں آفس جانے کی تیاری کر رہا تھا پاس کوئی بھی نہیں تھا لیکن خود پاکستان زندہ باد، پاک فوج اور فضائیہ زندہ باد کے ساتھ ساتھ نعرہ تکبیر بھی لگا رہا تھا اور جواب بھی اپنے آپکو خود دے رہے تھا ۔ فخر سے بلند تھا اور گھر سے نکلا سوچ رہا تھا کہ ترک عوام کو پتہ نہیں ہوگا لیکن جوں ہی یونیورسٹی کیمپس میں داخل ہوا تو میل اور فی میل دونوں سٹوڈنٹس دور سے فتح کا نشان بناکر سلام دے رہے تھے اس پر مسرت اور جذباتی لمحات میں ایک بجے کلاس داخل ہوا اور چہرہ خوشی سے تمتما رہا تھا کہ میرے داخل ہوتے ہی کلاس میں موجود طالب علموں نے پاکستان زندہ باد کے نعرے لگانے شروع کردیے مجھے بھی موقع ملا کہ کوئی جواب اور ساتھ دینے والا ہے اس لیے خوب نعرہ بازی کی جسکو سنتے ہوئے ساتھ والے کلاس روم سے مصری کولیگ اور طالب علم بھی نکل ائے اور ہمارے ساتھ شریک ہوئے میں نے فخر سے اپنے شاہینوں کے دشمن کو دندان شکست جواب پر مفصل روشنی ڈالی اور انھوں نے خوشی اور شاباش کے ساتھ پاکستان عوام کے ساتھ دلی وابستگی کا اظہار کیا۔
کلاس کے بعد کولیگز اور دیگر دوستوں کے آنے کا سلسلہ جاری رہا اور میں فخر سے ان سے مبارکباد وصول کر رہا تھا یوں محسوس ہو رہا تھا کہ ان جہازوں کو حسن محمود نے نہیں بلکہ میں نے گرایا ہے، اور ساتھ شکر گزار بھی تھا کہ ایک تو اللہ تعالی نے ہمارے سینوں کی آگ ٹھنڈی کی اور دشمن کو منہ توڑ جواب مل گیا جو آئندہ نسلوں کے لیے تاریخ کی کتب میں محفوظ رہے گا اور دوسرا جس قوم کے بارے میں میرا یقین تھا کہ یہ ہمارا خون ہیں اور ان کے بارے میں اکثر سوشل میڈیا پہ لکھتا تھا آج انھوں نے ثابت کیا کہ ترکی ہمارا گھر اور ترک ہمارا خون ہیں ۔
واقعی دنیا میں کلمہ کے رشتے سے بڑھ کر کوئی رشتہ نہیں، اور اس غیرت مند قوم نے سرکاری وغیر سرکاری سطح پہ پاکستان کا ساتھ دینے کا اعلان کیا جس سے میرا سر فخر سے اتنا بلند ہوا جتنا آج کی کاروائی میں کامیابی پہ بلند ہوا تھا کیونکہ راقم نے ترک عوام اور اردوغان کے حوالے سے لکھنے پر اکثر نادان دوستوں سے بہت باتیں سنی ہیں ۔ ایک وقت تھا جب ترکی نے فضائی حدود کی خلاف ورزی پر روسی جنگی جہاز مار گرایا تھا تو ہم ترکی سے سوشل میڈیا پہ ساتھ ہونے کے لیے ٹرینڈ چلا رہے تھے آج وہی قوم ہمارے ساتھ اظہار محبت اور ساتھ ہونے کے لیے سوشل میڈیا پہ سر گرم ہیں اور پاکستانی عوام کے ساتھ دل دھڑکنے کی باتیں کرتے ہیں۔
پاک ترک دوستی زندہ باد ۔ پاکستان پائندہ باد

اپنا تبصرہ بھیجیں