ابھے نندن کی رہائی اور تاریخی مغالطے _ عالم خان




اہل وطن کے اتفاق اور اتحاد کو چوبیس (٢٤) گھنٹے نہیں گزرے تھے کہ ہمارے حکمرانوں نے ایک بار پھر ان کو تقسیم کیا اور کل وہی قوم جو ملک کی سلامتی اور حدود کی حفاظت کے لیے یک اواز تھی آج وہی قوم ایک دوسرے کے ساتھ دست وگریبان ہے ، ایک طرف مجبوری کے تحت بھارتی پائلٹ کی رہائی کے فضائل بیان کیے جارہے ہیں تو دوسری طرف اس فیصلے پہ خوب تنقید کی جارہی ہے جس کو بعض بزعم خود محب وطن جنگی جنون سے تعبیر کرتے ہیں ۔ بھارتی پائلٹ کی رہائی کے فیصلہ پر تنقید کرنے کا یہ ہرگز مطلب نہیں کہ ہم جنگ چاہتے ہیں یا خون کے پیاسے ہیں دنیا کا دستور ہے کہ وہ ایک دوسرے کے قیدیوں کو رہا کرتے ہیں اور جنیوا کنونشن کے نام سے ایک عالمی معاہدہ اس ضمن میں موجود ہے جس کا زکر بھی فریق اوّل اپنے دلائل میں کرتے ہیں اگرچہ ان کو تفصیلی علم اس بارے میں نہیں ہے، اور بعض دوست تو اسلامی تاریخ کو مسخ کرکے کبھی صلح حدیبیہ اور کبھی دیگر غزوات کی مثالیں دے کر نندن کی رہائی کو درست ثابت کرتے ہیں کہ اسلام ہمیں حکم دیتا ہے قیدیوں کی رہائی کا اور رسول اللہ (ص) نے خود قیدیوں کو رہا کیا ہے لیکن یہی تاریخ دان تفصیل میں نہیں جاتے ہیں کہ کب اور کیسے رہا کیے تھے ؟؟ جو لوگ اپنی حکومت کے اس احمقانہ فیصلے کو ڈیفنڈ کرتے ہیں بے شک کرلیں لیکن کم ازکم جھوٹ سے نہیں بلکہ سچ اور درست تاریخی حقائق سے کیونکہ بیان کیا جاتا ہے ۔
کہ جنیوا کنونشن کی رو سے ہمیں فوری رہائی کا حکم ہے ۔ اوّل تو وہ ڈکلیرڈ جنگ کے بارے میں ہے اور نندن آن ڈکلیرڈ جنگ میں گرفتار ہوچکا ہے اس لیے وہی شق نندن کی رہائی کے لیے استعمال کرنا اپنی بے وقوفی کو عیاں کرنا یا دوسروں کو بے وقوف بنانے کی مترادف ہے ، اگر نندن جنگ میں بھی گرفتار ہوا ہوتا تو پھر سن انیس سو انچاس (١٩٤٩) کے تیسرے جنیوا معاہدے کی رو سے جنگی قیدی کی رہائی “جنگ کے خاتمے پر” عمل میں لائی جائے گی ، اور ہمارے درمیان جنگ کا خاتمہ ہوا ہی نہیں بلکہ حالات اب بھی کشیدہ ہیں اس لیے ان حالات میں نندن کی رہائی کو جنیوا قانون کہنا جہالت کے سوا کچھ نہیں ۔
رہی بات صلح حدیبیہ کی تو اس کا نندن کے کیس سے کوئی تعلق نہیں وہاں مسلمانوں اور کافروں کے درمیان صلح کی بات ہو رہی تھی اور یہاں جنگ کی بات ہو رہی ہے اور جس شخص کو رسول اللہ (ص) نے واپس کیا تھا وہ مسلمان تھا اور کافروں سے بھاگ گیا تھا اور عین صلح کے موقع پر آیا تھا اور کافروں نے مطالبہ کیا تھا کہ اسکو ہمارے حوالہ کردیں اس کے برعکس نندن مسلمان ہے نہ کافروں کی قید سے بھاگ کے آیا ہے ۔ صلح ہو رہی ہے نہ نندن کی رہائی کی باقاعدہ طور پر کوئی سرکاری درخواست کہ اس پہ عمل کیا جاسکے بلکہ نندن نے اپنے ناپاک عزائم
کی تکمیل کے لیے پاک سر زمین پر اپنا قدم رکھا ہے ۔
اس لیے صلح حدیبیہ اور اس مسلمان قیدی کی واپسی کا یہاں ذکر کرنا کوئی معنی نہیں رکھتا ذکر اسی طرح نندن کی رہائی کے ضمن میں جنگ ہوازن کا زکر کیا جاتا ہے کہ رسول اللہ (ص) نے کافروں کے چھ ہزار (٦٠٠٠) قیدیوں کی غیر مشروط رہائی کا حکم دیا تھا حالانکہ تفصیل میں نہیں جاتے کہ کب اور کیسے رہائی کا حکم دیا تھا تاریخ طبری (۱۷۱۷/۲) ، سیرت ابن ھشام (۱٦٢/٥) اور ابن کثیر کی سیرت النبویہ (٦٦٧/٣)کے مطابق جنگ حنین کے خاتمہ پر ھوازن قبیلہ سے ایک وفد آیا تھا اور انھوں نے درخواست کی تھی جس کو رسول اللہ (ص) نے قبول فرماکر چھ ہزار (٦٠٠٠) قیدیوں کی رہائی کا حکم صادر فرمایا تھا اور یہاں تو دشمن کا وفد آیا ہے نہ جنگ کا خاتمہ تو جنگ ہوازن سے اس کا استدلال کرنا چہ معنی دارد ؟؟
اس لیے ہم اس رہائی کو حکومت وقت کی کمزوری کے ساتھ ساتھ بے وقوفی سمجھتے ہیں ، اور اس بے وقت خیر سگالی کو بزدلی سمجھتے ہیں ، جن لوگوں کا خیال ہے کہ ہم جنگ چاہتے ہیں تو یہ ان کا زعم باطل ہے ہمارا سوال رہائی کے لیے وقت کے تعین پر ہے اور جن لوگوں کا خیال ہے کہ ہم نندن کو رہا نہ کرتے تو جنگ چھڑ جاتی اور رہائی پہ گویا ابھی دشمن باز آئے گا یہ ان کا وہم اور دشمن سے خوف کے سوا کچھ بھی نہیں اور اگر واقعی ایسا ہی ہے تو پھر کلبھوش کو بھی رہا کیا جاے کشمیریوں کی خون سے غداری کرکے کشمیر سمیت مسعود اظہر اور حافظ سعید کو بھی ہندوستان کے حوالے کیا جائے تاکہ جنگ کا خطرہ ہمیشہ کے لیے ٹل جائے ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں