یہ جو ترکی سے محبت ہے _ محمد حسان




جی ہاں یہ محبت بلاوجہ تو نہیں ہے ۔۔۔۔ اب خود ہی دیکھئیے پاک بھارت حالیہ کشیدگی میں پوری دنیا میں واحد ترکی ہی ہے جس نے واضح طور پر اور کھل کر پاکستان کی دو ٹوک حمایت کا اعلان کیا ۔۔۔ حتی کہ ترکی نے تمام مسلم ممالک کو شرم دلاتے ہوئے او آئی سی اجلاس میں بھارتی وزیر خارجہ کی شرکت کی سخت مخالف کی اور شسمیتا سوراج کی شرکت کی صورت میں کانفرنس کے بائیکاٹ کا اعلان بھی کر دیا ۔ اور ہم اس کشیدگی کے دوران جس کشمیر کو بھول گئے ترکی نے کہا کہ یہ مسئلہ کشمیر کے حل کا بہترین وقت ہے اور ترکی اس حوالے سے اپنا کردار ادا کرنے کیلئے بھی تیار ہے ۔
اب بتائیں کہ ہمیں اور کیا چاہیے بھلا ۔ ۔ ۔
یہی سرکاری گرمجوشی ہمیں عوامی سطح پر پاکستان سے والہانہ تعلق کی صورت میں دکھائی دے رہی ہے ۔۔۔انتہائی دلچسپ صورتحال ہے کہ ترک ہیکرز نے بھارتی سرکاری ویب ساٹس ہیک کرنا شروع کر دی ہیں ، ٹوورازم اور انکم ٹیکس کے محکموں کی ویب ساٹس ہیک کرکے پاکستان سے یکجہتی کا پیغام دیا ہے۔۔۔
دل جس سے باغ باغ ہوا وہ ترکی میں پاکستانی فیس بکی دوست عالم خان کی روداد ہے ۔ وہ پاکستانی نوجوان بھارتی طیارے گرنے کی خوشی میں یونیورسٹی جاتے ہوئے اکیلا ہی اپنی گاڑِی میں پاکستان زندہ باد کے نعرے لگاتا جا رہا تھا ۔۔۔ کلاس روم پہنچا تو ترک طلبہ و طالبات پاکستانی کارنامے سے باخبر تھے اور انہوں نے عالم خان کو دیکھ کر پرجوش انداز سے مبارکباد دی ۔ عالم خان نے بھی دل کے ارمان پورے کئے اور سب نے مل کر خوب نعرے بازی کی ۔
پاک فضائیہ کے شاہینوں نے بھارتی طیارے یہاں گرائے اور عالم خان وہاں ترکی میں ہیرو بنا ہوا تھا ، پوری یونیورسٹی میں لوگ اسے دیکھ دیکھ کر وکٹری کے نشان بنا تے رہے اور وہ پورے فخر کے ساتھ داد وصول کرتا رہا ۔۔ تصور کریں عالم خان کی خوشی اور مسرت کا جو اسے اس وقت ترک دوستوں سے مل رہی ہوگی ۔۔۔
اور اس احساس کا میں خود بھی تو عینی شاہد ہوں جب گزشتہ برس ترکی کے دورے کے دوران ہر خاص و عام سے پاکستانی تعارف پر محبتیں موصول ہوتیں ۔۔۔ یہی محبت اور اپنائیت تو ہمارا اصل اثاثہ ہے ۔۔۔
یہ بھی واضح رہے کہ پاکستان سے ترکی کی اس سرکاری اور عوامی اپنائیت میں اصل اضافہ نجم الدین اربکان اور طیب رجب ادوگان کے اقتدار میں آنے کے بعد ہی میسر آیا ۔۔۔
نوے کی دہائی میں استنبول اسٹیڈِیم میں قاضی حسین احمد کا پرجوش عوامی استقبال تاریخ کا حصہ بنا ۔ یہ نظریاتی محبت کی بھی شروعات تھیں ۔
اس وقت سے اب تک پاک ترک دوستی میں ہر سطح پر اضافہ ہی ہوتا چلا جا رہا ہے ۔ اسی کا نتیجہ ہے پاکستان اور ترکی حقیقی معنوں میں یک جان دوقالب کی حیثیت اختیار کر چکے ہیں ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں