ہم نے جس کو دفنایا بس اسی کو مرنا تھا _ افشاں نوید




میں بھانجی کے ہمراہ بیوٹی پارلر میں موجود تھی۔ وہ شادی سے قبل مختلف پارلرز کا وزٹ کر رہی تھی۔ یہ پارلرز جو اب ’’اسٹیٹس سمبل‘‘ بن گئے ہیں۔ ہمارے شہر میں سب جانتے ہیں کہ کس پارلر کے کیا نرخ ہیں۔ اسی لیے جب شادی یا ولیمے میں اسٹیج میں دلہن کے پاس جاتے ہیں تو دعائیں دینے اور نیک خواہشات کا اظہار کرنے سے پہلے ہر ایک کا سوال یہی ہوتا ہے کہ کس پارلر سے تیار ہوئی ہو؟ یہ اتنا سادہ سوال نہیں ہوتا، اس سوال میں بہت سے سوال پوشیدہ ہوتے ہیں جس میں دلہن کے معاشی پس منظر کو جاننا بھی شامل ہوتا ہے۔ اور یہ بھی کہ آپ سماجی تقاضوں سے کتنا واقف ہیں۔ اب گلی محلے کے بیوٹی پارلرز سے متوسط خاندانوں کی لڑکیاں بھی تیار نہیں ہوتیں، ان سے معمولی نوعیت کی سروسز لی جاتی ہیں۔ تیاری کے لیے مشہور زمانہ بیوٹی پارلرز کا رخ کیا جاتا ہے جن میں بیشتر کسی ماڈل اداکارہ کے نام پر ہوتے ہیں۔
ہاں تو میں ذکر کر رہی تھی اس منظر کا جو ذہن پر نقش ہو گیا۔ جدید لباس میں دوپٹے سے بےنیاز بالوں کو انتہائی خوبصورتی سے کچھ نے جوڑے کی شکل میں اور کچھ نے پونی سٹاٹیل کی شکل میں مضبوطی سے باندھا ہوا۔ انتہائی اسمارٹ جن کی چلت پھرت بتا رہی ہے کہ ان میں سے بیشتر نے ’جم‘ وغیرہ جوائن کیا ہوا ہوگا یا ورزش اور واک کی عادی ہوں گی۔ ویسے تو یہاں کی مصروفیات بجائے خود ورزش سے کم نہیں،
لیکن بہرحال اگر کوئی آپ کو ’فٹ‘ نظر آتا ہے تو اس کے لیے بہت کچھ کوشش بھی کرتا ہے، اور اس کی داد بھی پاتا ہے۔ ڈھیلے ڈھالے چربی چڑھے جسموں پر کوئی دوسری نظر ڈالنا بھی پسند نہیں کرتا اور ڈالتا بھی ہے تو ہمدردی کی، اور دل سرگوشی کرتا ہے ’ ہائے بے چاری‘، جس کو زبان پر آنے سے بمشکل روکنا پڑتا ہے۔ ہاں وہ ورکرز صرف اسمارٹ ہی نہیں تھیں بلکہ ان کے ہاتھوں کی حرکت بتا رہی تھی کہ وہ اپنے کام میں کس قدر ماہر ہیں۔ ظاہر ہے ہر دن ایک ہی کام کر رہی ہیں اور معاوضہ پا رہی ہیں۔ تیز بجتی ہوئی موسیقی، راہداری میں لگا بڑا سا اسکرین جس پر کسی ٹی وی چینل کا اسٹائل ایوارڈ براہ راست آ رہا تھا، دیواروں پر دیدہ زیب تصاویر ان دلہنوں کی جویہاں سے تیار ہوئی تھیں، کچھ پاکستانی اور انڈین ادا کاراؤں کی تصاویر جو غالباً لذت نگاہ کے لیے تھیں۔ پارلر کے مختلف کمروں سے خوبصورت دلہنیں تیار ہو کر نکل رہی تھیں۔ کچھ دیر استقبالیے کے ساتھ پڑے صوفوں پر بیٹھتیں۔ اس دوران ان کے ساتھ آئی ہوئی بہنیں یا کزنز وغیرہ ان کے خاندانوں کی خواتین بھی تیار ہونے آئی ہوئی تھیں۔ آس پاس بیٹھی کچھ لڑکیوں سے گفتگو کا موقع ملا تو پتہ چلا کہ کسی کی بھابھی تیار ہو رہی ہیں جن کا آج ولیمہ ہے، کسی کی بہن جن کی آج رخصتی ہے۔ مزے کی بات یہ کہ امیاں بھی مختلف کمروں سے ’تیار شدہ‘ برآمد ہو رہی تھیں ۔ سارا خاندان اب عموماً ایک ہی پارلر بک کرا لیتا ہے کہ الگ الگ لانا لے جانا کس کے لیے ممکن ہوگا اور درجنوں کاموں کے درمیان۔
یہ انھی بیوٹی پارلرز کا کمال ہوتا ہے کہ اب اکثر شادیوں کی تقریبات میں جا کر ہمیں دلہن اور دولہا کی امی کو پہچاننے میں دقت کا سامنا ہوتا ہے۔ اس وقت تو ہمیں انتہائی شرمندگی ہوئی جب بھتیجی کی شادی میں ہم نے اپنے دائیں ہاتھ کی جانب کھڑی خاتون سے مصافحہ کرنے کے بعد سامنے کھڑی دولہا کی بہن سے پوچھا کہ امی جان کہاں ہیں، ہم تلاش کر رہے ہیں کہ ان کو پہلے مبارکباد دے دیں؟ تو وہ لڑکی ہنستے ہوئے بولی جن سے ابھی آپ نے سلام دعا کی ہے، یہی تو امی ہیں میری، آپ پہچانی ہی نہیں۔ ہماری انتہائی شرمندگی کو یہ کہہ کر اس نے زائل کر دیا کہ ہم بھی امی سے یہی کہہ رہے تھے کہ آج تو آپ بالکل پہچانی ہی نہیں جا رہیں! میک اپ کی دبیز تہوں میں چھپے سراپے کو تلاش کرتے ہوئے کبھی کبھی اپنی کم نگاہی کا بھی اعتراف کرنا پڑ جاتا ہے! اس سارے منظرنامے میں یہ منظر بہت دلکش تھا کہ کمرے سے دلہن ایک ناز و انداز کے ساتھ برآمد ہوتی۔ دوتین لوگ یعنی گھر والی خواتین لپکتیں، اس کو صوفے پر بٹھاتیں، رشک بھری نگاہوں سے اس پر بہت سی نظریں اٹھتیں۔ اتنے میں کسی کے فون پر بیل بجتی، پارلر کے سامنے گاڑی آ کر رکتی، دلہن کچھ خواتین کی مدد سے گاڑی میں بیٹھتی اور گاڑی روانہ ہوجاتی۔ ہر چند منٹ بعد ایک دلہن برآمد ہوتی، چند منٹ بعد گاڑی برآمد ہوتی، اور دلہن روانہ ہوجاتی ۔
میری بھانجی جس کے ساتھ میں موجود تھی وہ تو استقبالیے پر مختلف معلومات لیتی رہتی، ان کی بڑی بڑی البمز دیکھتی رہی، کبھی وہ اپنے موبائل اسکرین پر بھی بہت کچھ دکھا اور سمجھا رہی تھیں جس سے مجھے کچھ خاص دلچسپی نہ تھی، ماسوائے اس کے کہ دنیا کتنی مشکل ہوتی جا رہی ہے۔ پہلے تو دلہنیں سکھی سہیلیوں کی مدد سے گھر میں تیار ہو جاتی تھیں۔ جو جو آرائش کا سامان جس جس کے پاس ہوتا اکٹھا ہو جاتا تھا۔ مہندی، ابٹن گھر میں بہنیں اور بھاوجیں ہی لگا دیتی تھیں۔ شرمائی لجائی دلہن پر خوب روپ چڑھتا تھا۔ آج کل لڑکیاں مہینوں پہلے تیاری کے لیے پریشان دکھائی دیتی ہیں۔ مختلف ویب سائٹس کے وزٹ ہوتے ہیں کہیں کے بال پسند آتے ہیں تو کہیں کا میک اپ۔ اس میں بھی کسی کا آنکھوں کا میک اپ پسند آتا ہے تو کسی کا بیس اور کسی کا ہیر اسٹائل تو کسی کا دوپٹہ سیٹ کرنے کا اسٹائل۔ میں تو اپنے گھر میں یہ سب ڈسکشن سن سن کر لطف لیتی ہوں کہ واہ رے زمانے تیری چال کے سب رنگ نیارے۔ ایک نکاح کی سنت کو پورا کرنے کے لیے کتنی مغز ماری ۔ جس نبیؐ کی یہ سنت ہے اس کے اور بھی بہت سے احکامات ہیں جو خاص انھی مواقع کے لیے ہیں مگراس پوری فضا میں کہیں بھولے سے بھی کسی کو یاد نہ آئیں گے۔ مجھے بیوٹی پارلر کا یہ منظر اس وقت بری طرح یاد آیا جب میں ایدھی سینٹر کے سرد خانے سے متصل انتظارگاہ میں بیٹھی تھی ۔
ممانی جان کی میت ہسپتال سے ایدھی سینٹر کے سرد خانے میں رکھی گئی تھی رات گزارنے کے لیے، اس لیے طے پایا کہ غسل کے بعد گھر لائی جائے کیونکہ اپارٹمنٹ کی کئی منزلہ عمارتوں میں جبکہ لفٹ کی سہولت بھی نہ ہو، میت کو لے جانا اور سیڑھیوں سے اتارنا اتنا آسان نہیں ہوتا۔ جس کمرے میں ہم موجود تھے، پیچھے پینا فیلکس کے بینر پر درج تھا ’ایدھی غسل و میت سینٹر‘، سامنے بہت بڑے بینرز پر دوسرا کلمہ درج تھا، ساتھ ہی ایک چھوٹے سے کارڈ پر عبارت درج تھی کہ ’ویڈیو بنانے اور تصویر لینے کی اجازت نہیں‘، کمرے کی دیوار کے ساتھ کوئی گز اونچا چبوترہ تھا جس پر ہم سب بیٹھے تھے۔ ترتیب سے اسٹریچرز پر میتیں رکھی ہوئی تھیں، سفید کپڑوں میں لپٹی ہوئی۔ جس کے غسل کی باری ہوتی، اس کو سرد خانے سے نکال لایا جاتا۔ اب ہمارے سامنے ممانی جان کا ٹھنڈا وجود غسل کا منتظر تھا۔ میرے دائیں طرف تیس برس کے لگ بھگ ایک خاتون برابر رو رہی تھیں۔ ان کے سامنے بھی اسی طرح ایک جنازہ اسٹریچر پر موجود تھا۔ میں نے پوچھا یہ کون ہیں؟ بولیں میری ساس ہیں۔ میں نے تعزیت کی اور معلوم کیا کہ کوئی بیماری وغیرہ تھی؟ تو بولیں کہ نہیں کل رات اچانک ہارٹ فیل ہوا ہے۔ بیٹیاں تو روتی ہی ہیں ماؤں کی جدائی پر، مجھے بہو کا یوں زار و قطار رونا بہت اچھا لگا اور بڑا رشک آیا کہ مرحومہ کتنی اچھی ساس ہوں گی!
انتہائی بائیں جانب دو ادھیڑ عمر عورتوں کی بےکلی دیکھنے سے تعلق رکھتی تھی۔ ان دونوں کو ایک تیسری خاتون سنبھال رہی تھیں۔ ان کے سامنے بھی اسٹریچر پر کوئی خاموش وجود تھا جو انھیں چھوڑ کر جا چکا تھا۔ میں نے پوچھا مرحومہ سے کیا تعلق ہے آپ کا تو دلاسہ دینے والی خاتون بولیں یہ دونوں ان کی بیٹیاں ہیں، میں ان کے ماموں کی بیٹی ہوں۔ ذرا دیر میں غسل خانے کا دروازہ کھلا، اندر موجود خاتون نے آواز دے کر کسی کو بلایا، داخلی دروازہ کھلا، تیزی سے دو مرد اندر داخل ہوئے، غسل خانے سے اسٹریچر کو دھکیلتے ہوئے دروازے کی جانب بڑھے، جہاں ایمبولینس پہلے ہی منتظر تھی۔ بہت اہتمام سے جنازے کو اسٹریچر سے ایمبولینس میں شفٹ کیا گیا، باقی لوگ وہیں ساتھ والی نشست پر بیٹھ گئے، ساتھ میں جو غمزدہ سے صاحب تھے وہ ڈرائیور کے ساتھ والی نشست پر براجمان ہوگئے، ایمبولینس لمحوں میں نظروں سے اوجھل ہوگئی۔ ہر نصف گھنٹے بعد یہی منظر دہرایا جا رہا تھا۔ چونکہ ہماری تیسری باری تھی اس لیے اس کے سوا چارہ نہ تھا کہ اس عبرت کدے کے ہر لمحے سے عبرت حاصل کی جائے ۔ سٹریچر کو غسل خانے کے اندر لے جانے اور باہر نکالنے کے لیے مرد حضرات کو مدعو کیا جاتا، باقی امور خواتین نے سنبھالے ہوئے تھے۔ پھر ہماری باری آگئی، اتنی تند و تیز رفتار سے دو آدمی ممانی جان کا اسٹریچر دھکیل کر غسل خانے میں لے گئے، پھر باہر نکل گئے۔
وہاں مشینی انداز سے کام کرتی دو عورتوں سے میں نے سوال کیا کہ یہاں ایک دن میں کتنے مرنے والے نہلائے جاتے ہیں۔ اس نے منہ میں موجود پان کو جلدی سے حلق کی جانب دھکیلا، زبان کو بولنے کے لیے فارغ کیا اور گویا ہوئی، باجی ہر دن کی تعداد الگ الگ ہوتی ہے، کبھی کبھی سو سے بھی زیادہ ہو جاتے ہیں ، کبھی پچاس اور کسی دن تو دس بارہ ہی ہوتے ہیں۔ وہ تیزی سے ممانی جان کی طرف بڑھی تو ہم نے کہا کہ ہمیں غسل کے لیے تمہاری ضرورت نہ ہوگی ، بس سامان مہیا کر دو ۔ دائیں بائیں دروازوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے وہ بولی اس میں روئی ہے، کپڑے ہیں، کافور، صابن، کفن اس دراز میں ہے۔
اس نے بڑی بڑی بالٹیوں میں گرم ٹھنڈے پانی کے نل کھول دیے۔ ان سب کے لیے یہ سب کتنا عام سا ہوگا، ان کے معمولات میں شامل ہے ۔ ایک دن میں کتنے مردے وہ اپنی آنکھوں سے دیکھتی ہوں گی ۔ لواحقین کا رونا دھونا الگ، ایمبولینسوں کا منٹ منٹ آنا، ایک کا آنا اور ایک کا جانا۔ کوئی ان عورتوں سے پوچھے کہ زندگی کی حقیقت کیا ہے؟ میں بڑے ہسپتالوں میں موجود ڈاکٹرز اور عملے کے بارے میں بھی سوچتی ہوں کہ زندگی کی حقیقت اوراس کا اصل روپ ان سے زیادہ کس نے دیکھا ہوگا! مگر دیکھنے اور سوچنے کے درمیان بھی ایک وسیع خلیج حائل ہے۔ میں نے سوال کیا کہ تم لوگ نماز پڑھتی ہو؟
تو بے چارگی سے وہ بولی ’وقت ہی کہاں ملتا ہے، پھر پاکی ناپاکی کا بھی یہاں مسئلہ رہتا ہے، ہر وقت تو یہی کام کرتے رہتے ہیں‘، میں نے تلقین کی کہ تم اتنا بڑا کام کر رہی ہو، جس کی حدیث میں بہت اجر کی خوشخبری ہے۔ پاکی ناپاکی کا وہم چھوڑ دو، نماز ادا کر لیا کرو، تو تمھارا یہی کام روز آخرت تمھاری نجات کا سبب بن جائے گا۔ ان کو سب گنتی تھی کہ کتنے بجے تک کتنے مردے اور نہلانے ہیں۔ پھر ممانی جان بھی کفن پہن کر تیار ہو گئیں، پھر ان کو اسٹریچر پر شفٹ کر دیا تب ان خاتون نے آواز دی اور وہی دو آدمی تیزی سے داخل ہوئے، اسی طرح میت باہر آئی، چبوترے کے باہر کھڑی ایمبولینس میں منتقل کر دی گئی، ہم پیچھے موجود گاڑی میں بیٹھ کر ایمبولینس کے ہمراہ گھر کی جانب روانہ ہو گئے، جہاں ایک ایک منٹ میت کا انتظار کیا جا رہا ہوگا۔ جونہی میت شامیانے میں رکھ کر آخری دیدار شروع ہوا، خواتین بے تابانہ آگے بڑھیں۔ عبرت کی نگاہ تھی ہر نگاہ، کسی کے ہاتھ میں تسبیح، کسی کے ہاتھ میں سپارے اور سب کی آنکھوں میں آنسو۔ پھر کسی خاتون نے بآواز بلند کہا کہ میت کا دیدار صرف محرم کریں گے، کوئی نامحرم اس طرف نہ آئے۔ اس سے قبل جب کفن پہنایا گیا تو اس میں اوڑھنی بھی موجود تھی۔ جو خواتین کے لباس آخر کے ساتھ موجود ہوتی ہے، جس سے سر ڈھانپا جاتا ہے کہ بال نظر نہ آئیں۔ کسی نے کوئی تصویر لینے کی کوشش نہ کی حالانکہ ہر اک کے پرس میں موبائل فون موجود تھے۔
کسی کو بھی خیال نہ آیا کہ یہ لمحات کتنے تاریخی ہیں، اب یہ وجود قیامت تک کے لیے نظروں سے اوجھل ہوجائے گا ۔ اس لیے ایک ایک لمحے کی تصاویر لی جائیں، ویڈیوز بنائی جائیں۔ لمحات تو یہ بھی یاد ار تھے۔ تقریب تو یہ بھی بہت اہم تھی ۔ کتنی مماثلت ہے ان دونوں جدائیوں میں، وہ ماں کے گھر سے جدائی، میکے سے جدائی، وہاں بھی ایک دوسری زندگی کا آغاز، وہاں بھی فیز تبدیل ہوا، وہ دن بھی تیاری کا خاص دن تھا اور یہ بھی۔ یونہی خاندان کی دوتین خواتین تیاری کے لیے لے کر گئیں مگر کتنا فرق تھا بیوٹی پارلر اور ایدھی سینٹر کے ماحول میں۔ وہاں بڑے سے بینر پر کلمہ شہادت دیکھ کر میں سوچ رہی تھی کہ لا الہ کی شہادت ہم مردے کو اٹھاتے وقت دیتے ہیں، یہ شہادت تو ہمیں اپنی زندگیوں میں دینی تھی۔ یکبارگی میرا دل درد سے بھر گیا کہ یہی سب خواتین تو بھتیجی کی شادی میں موجود تھیں۔ آج کتنا اہتمام ہے کہ کوئی نامحرم اندر نہ آئے جبکہ بوڑھے جسم میں، جس میں روح بھی موجود نہیں، کسی کے لیے کیا کشش ہوگی، مگر کسی نے کوئی تصویر نہ لی کہ شریعت میں پسندیدہ نہیں۔ بیوٹی پارلر کی کوئی شریعت نہ تھی جہاں ’اوڑھنی‘ نام کی کوئی چیز نہ تھی، عملے کی نوجوان لڑکیوں کے جسموں پر، وہاں ہر لمحے تصاویر بن رہی تھیں، ہر ادا سے بن رہی تھیں، اور وہ سوشل میڈیا پر شیئر ہونے سے ہزاروں لوگو ں نے دلہن کا دیدار کیا ہوگا۔ اس رخصتی پر بھی سب آبدیدہ ہیں اور اس پر بھی آبدیدہ تھے،
مگر آج کس قدر اللہ کے حدود کی پاسداری کی گئی ، اس روز کسی کو ایک لمحے کو بھی کسی ایک حد کا خیال نہ آیا، جبکہ کیمرہ مینوں نے دلہا دلہن کو اسٹیج پر گھیرا ہوا تھا، تیز میوزک پر ہر لمحہ پوز بدلوائے جا رہے تھے، اس لیے کہ ہر ذہن میں یہی ہوتا ہے کہ ہر لمحہ یادگار ہے۔ یادگار تو زندگی کا ہر دن ہے کہ دوبارہ اسے پلٹ کر نہیں آنا۔ جن کو کچھ نہیں معلوم شاید ان کی بخشش آسان ہو جائے مگر یہاں تو سب کو سب کچھ معلوم ہے۔ تب ہی تو میت کے پاس نامحرم بھی نہ آئیں، کوئی تصویر نہ اتارے، تقریب میں اختلاط نہ ہو، زبانوں پر استغفار ہو، ذکر ہو، تقریب تو شادی کی بھی خالصتاً مذہبی ہوتی ہے، ایک نکاح کی سنت کی پیروی، اس کو لہو و لعب کی نظر کر دیا جاتا ہے، اور اس آخری رخصتی کو خالصتاً مذہبی رنگ دیا جاتا ہے۔ میکے سے سسرال اور دارالعمل سے دارالحساب۔ دونوں تقاریب کے شرکاء ایک ہی ہوتے ہیں مگر رویے دونوں جگہ کس قدر مختلف ہوتے ہیں۔ اسلام نے خوشی منانے پر کوئی قدغن نہیں لگائی، مگر اس کی بھی حدود وضع کی ہیں۔ اس رخصتی کی خوشی پر سماج کے اکثر لوگوں کے جو انداز و اطوار ہوتے ہیں، وہ اس بات کا اظہار ہوتے ہیں کہ وہ اس دوسری رخصتی کو یکسر فراموش کر چکے ہیں۔ بیوٹی پارلر کے دروازے پر بھی ہر چند منٹ میں ایک کار آ کر رکتی تھی اور ایدھی سینٹر کے دروازے پر بھی ایک ایمبولینس۔ شاید اس کار سے ایمبولینس تک کا سفر ہی زندگی کا اصل امتحان ہے !!
زندگی کے میلے میں بس یہی سمجھتے ہیں
غفلتوں کے مارے ہم
ہم نے جس کو دفنایا بس اسی کو مرنا تھا

اپنا تبصرہ بھیجیں