عالمی یوم خواتین اور پابند سلاسل عافیہ _ عالم خان




آج اہل مغرب اور ان کے مقلدین خواتین کا عالمی دن منا رہے ہیں، اور خواتین کے حقوق اور آزادی کی باتیں کی جارہی ہے، لیکن ایک خاتون ہی ان کے منہ پر طمانچہ مار رہی ہے کہ یہ دعوے جھوٹ اور فریب کے سوا اور کچھ نہیں اور وہ خاتون پاکستانی بیٹی عالم اسلام کی ناموس ڈاکٹر عافیہ صدیقی ہے، جو گزشتہ اٹھارہ (۱۸) سال سے امریکی قید میں خاتون ہوکے بھی استحصال اور اذیت کی زندگی گزار رہی ہے ، اور ہر سال خواتین کے عالمی دن کے موقع پر امریکہ اور اہل مغرب سے بزبان حال ایک ہی سوال کر رہی ہے کہ میں بھی تو ایک خاتون ہوں ۔
ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے کیس میں خواتین کے حقوق کی واویلا کرنے والی پاکستان سمیت دنیا بھر کی نام نہاد سول سوسائٹیز کی منافقت عیاں ہوچکی ہے جو خواتین کے حقوق، مساوات اور آزادی کا مغربی نعرہ تو لگا رہے ہیں لیکن اس بے سہارہ اور مظلوم خاتون کے بارے میں خاموش ہیں , جس کا سفر پاکستان سے شروع ہوجاتی ہے اور بگرام سے ہوتے ہوئے اٹھارہ ماہ بعد امریکی عدالت میں یک طرفہ عمر قید فیصلے پر اختتام پذیر ہوتا ہے ۔ ڈاکٹر عافیہ
صدیقی کی رہائی کو
پاکستانی سیاستدان صرف انتخابی کارڈ کے طور پر استعمال کرکے چلے آرہے ہیں، یہی وجہ ہے کہ فوٹو سیشن اور عوام کی توجہ حاصل کرنے کے لیے یہی سیاستدان ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے گھر حاضری دیتے ہیں اور ہر بار اسکی غمزدہ اور بوڑھی ماں کے ساتھ وعدہ کرکے نکلتے ہیں کہ ہم منتخب ہوکے قوم کی یہ بیٹی واپس لائیں گے، اور جب منتخب ہوجاتے ہیں تو پھر اس گھر اور بوڑھی ماں کو بھول جاتے ہیں ۔ حتی کہ ان کی حکومتیں بھی گزر جاتی ہیں اور خود نواز شریف کی طرح پابند سلاسل ہوجاتے ہیں شاید اللہ تعالی ان کو ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی امریکی زندان سے رہائی کا وعدہ اسی طرح یاد دلاتا ہے لیکن یہ سمجھتے نہیں ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ عافیہ صدیقی کی رہائی کے لیے دینی جماعتیں وقتا فوقتا اواز اٹھا رہی ہیں لیکن وہ بھی ناکافی اور غیر مؤثر ہے کیونکہ ان لوگوں نے بھی ایوانوں میں حکمرانوں شرم دلانے اور مجبور کرنے کے بجائے تسلسل سے تحریکیں چلانے کے بجائے ایک آدھا قراداد پہ اکتفا ہی کیا ہے ۔ اس لیے حکمرانوں کی غیرت ابھی تک سو رہی ہے اور یہ اس کو جگانے میں ناکام نظر آرہے ہیں ۔
عمران خان صاحب نے بھی کئی بھی بار یہی وعدہ دہرایا ہے ، لیکن مسند اقتدار پہ براجماں ہونے کے بعد گویا کہ ان کے منہ پر بھی مہر لگ گئی ہے اور عافیہ صدیقی کی رہائی اور پاکستان لانے کے بجائے خود انکو رہا کرتے ہیں جس میں امریکہ اور اس کے حواریوں کو دلچسپی ہو، اللہ گواہ ہے کہ جتنی دلچسپی عمران خان صاحب نے آسیہ مسح کیس میں لی تھی اگر اتنی دلچسپی عافیہ کیس میں لیتے تو آج قوم کی یہ بیٹی پاکستان میں ہوتی ، لیکن اعلانات کے باوجود عمران خان کی حکومت تاحال اس کیس میں خاموش ہے، اور وزیر خارجہ کے کئی غیر ملکی دوروں کے باوجود ابھی تک عافیہ صدیقی کے بارے میں کوئی پالیسی بیان اور ہائی پروفائل ملاقات سامنے نہیں آئی ۔ خان صاحب! ہم آپ سے یہ مطالبہ نہیں کرتے ہیں کہ آپ محمد بن قاسم بن جائیں جس طرح ایک مسلمان خاتون کی پکار پہ وہ سندھ پہنچا تھا اور غنڈوں سے اپنی مسلمان بہن کی آزادی کے لیے پورا سندھ فتح کیا تھا اسی طرح آپ بھی عافیہ کی رہائی کے لیے امریکہ فتح کرلیں اور اسکو پاکستان لائیں لیکن ہم یہ مطالبہ ضرور کرتے ہیں کہ آپ نے ایک دو بار قوم سے عافیہ کی رہائی اور پاکستان لانے کا جو وعدہ کیا تھا اس پر سفارتی عمل تیز کرلیں
اور جس طرح خیر سگالی میں آپ دشمن کو ان کے قیدی تحفہ میں دیتے ہیں اسی طرح خیر سگالی میں سہی عافیہ کی رہائی کا تحفہ امریکہ سے لے کر پاکستانی عوام کے حوالہ کریں ۔ یہ قوم آپ کی احسان مند رہے گی اور اگر آپ نے بھی میاں برداراں کی طرح قوم کی اس بیٹی کو بھلایا تو یہ قوم آپکو بھی معاف نہیں کرے گی ۔ آئیں! پارٹی تعصب اور سیاست سے بالاتر ہوکر خواتین کے اس عالمی دن کے موقع پر ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے رہائی کے لیے ہم اواز بنتے ہیں، اور اپنے سیاستدانوں اور حکمرانو سمیت دنیا کو یہ پیغام پہنچاتے ہیں ، کہ عافیہ وہ شخصیت ہے جس نے عورت پر تاریخ میں ہونے والے ہر ظلم کو سہا ہے، وہ اغوا ہوئی، انسانی سمگلنگ کی متاثرہ بنی اور چند ڈالروں کے عوض بیچی گئی، اسکو گولیاں ماری گئیں ، امریکی فوجیوں نے اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایاں، اس نے بیہمانہ تشدد سہا، اس سے بچے چھینے گئے ، اسکو عدالت میں دفاع کا قانونی حق نہیں دیا گیا اس لیے ابھی تک دیار غیر میں تن تنہا کافروں کی جیل میں زندگی گزار رہی ہے ، اور وقت کے محمد بن قاسم کی منتظر ہے ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں