خواتین ڈے ۔۔ اپنے ارد گرد بکھری البم سے چند تصویریں _ قدسیہ جبیں




سنتے ہیں کہ آج خواتین کا عالمی دن ہے
اپنے ارد گرد بکھری البم سے چند تصویریں
١. میں کوثر ہوں چوہدری خدا بخش ساہی کی اکلوتی بیٹی . اس گاؤں کے سب سے اونچے اور عالیشان مکان میں اکیلی رہتی ہوں . پہلے میری بیٹی بھی ساتھ ہی ہوتی تھی مگر اب اسے اعلی تعلیم کے لئے ہاسٹل میں منتقل ہونا پڑا . سارا دن تو کمیوں کی عورتیں کام کآج کروانے کو ساتھ ہی ہوتی ہیں رات کو بھتیجا آ جاتا ہے ادھر بیٹھک میں سوتا ہے .اسے ڈش لگوا دی ہے تا کہ بور ہو کر آنا نہ چھوڑے . میکے والوں کا یہ احسان کم ہے کہ میری وجہ سے ہی سہی اسے دشمنوں کے گھر بھیج تو دیتے ہیں . ورنہ جب میرے تایا کے ہاتھوں میرے بڑے جیٹھ کا قتل ہوا تھا اور دونوں طرف کے لوگ رفع حآجت کے لئے بھی رائفلیں پہن کر جایا کرتے تھے تو برادری والوں نے مجھے دشمنوں کا غصہ ٹھنڈا کرنے کے لئے شہلا کے ابا کے نکاح میں دے دیا تھا . تب ابا اور بھائیوں نے قسم کھائی تھی کہ کوثر کے گھر کا دانہ پانی ہم پر حرام ہے . خدا اونچا رکھے میرے میکہ کا شملہ . آج تک اس قسم کو نبھاتے آئے ہیں . شہلا کے ابا جی نکاح کے دو ہفتے بعد جرمنی گئے تو لوٹ کر نہیں آئے . مگر ایسا نہیں ہے کہ انھیں ہمارا خیال نہیں ہے یہ سارا بھرا پرا گھر انہی کے دم سے ہے . مہینے ختم ہونے سے پہلے ہی اکاونٹ میں اتنے پیسے آ جاتے ہیں کہ سال بھر اڑاؤ اور پھر بھی بے فکر رہو .
٢. یہ عالیہ ہے پڑھنے لکھنے کی شوقین . ابو کی لاڈلی _چھوٹی تھی تو بستی کی مسجد سے ملحق مکتب میں ابو اسے خود چھوڑ کر آتے . واپس آ کر بھی وہ ابو کی کتابوں سے ڈھونڈ ڈھونڈ کر مانوس لفظ نکالتی اور انھیں کامیابی سے پڑھنے پر فخریہ گھر بھر سے داد وصول کرتی . گھر میں ٹی وی نہیں تھا . ابا رات کو ریڈیو ان کرتے اسے پاس بٹھا لیتے . پھر کسی اچھے جملے کو سننے پر جو لطف محسوس کرتے ، اس کو جھومتے ہوئے دہراتے اور ننھی عالیہ کو اس میں شریک کر لیتے . چھٹیوں میں اسے اپنے ساتھ کتابوں کی دکان پر بٹھا لیتے ریاضی کی رقمیں لکھانا سکھاتے . اس کی ہر کامیابی پر ان کی آنکھیں چمکنے لگتیں پرائمری کے بعد سکول نہ ہونے پر مناسب معاوضے پر اتالیق رکھ لیا . پرائیویٹ امتحان ہوتا رہا اور ابا بستی بھر کو حیران چھوڑتے رہے. جب وہ پرائیویٹ بی اے کے بعد یونی ورسٹی میں داخلہ لینے کے بعد ہاسٹل کی طرف سے ملنے والا سر پرست کا فارم لے کر ابا کے پاس آئی تو انہوں نے کہا تم اسے فل کر لو میں دستخط کر دوں گا . اور جب وہ فارم لے کر ابو سے دستخط کروانے گئی تو انہوں نے ایک نظر فارم کو دیکھا صرف ایک خانہ خالی تھا .” آپ کی بیٹی کہاں کہاں جا سکتی ہے ؟” عالیہ نے ابو کو لکھتے دیکھا :” جہاں جہاں میری بیٹی مناسب سمجھے ” .اور دستخط کر دئیے. عالیہ کی زندگی میں سب ٹھیک ہے. اپنے ارد گرد بکھری لڑکیوں بالیوں کو پڑھاتے ، گھر داری سکھاتے اور کچھ لکھتے لکھاتے جب کبھی اس کی نظر سے یہ عنوان گزرتا ہے ” مذھب کے نام پر عورت کا استحصال ” تو اس کی بے قرارنظریں ابا کا محبوب چہرہ ڈھونڈنے لگتی ہیں جو اس کے لئے صرف ابا تھے مگر لوگ انھیں مولوی نور عالم کے نام سے بلایا کرتے تھے ..
٣.ہمارے ہمسائے میں کونے والا گھر شمیم کا ہے یہ گلنار بیوپاری کی بیوی ہے زبان درازی اور فحش گوئی میں دونوں میاں بیوی میں سے پہلے درجے پرکون ہے شائد ہی کوئی فیصلہ کر پائے . ان کے سات بیٹے اور ایک سب سے چھوٹی بیٹی ہے بڑے صاحبزادے اس سال تیرھویں میں جا لگے ہیں . ہم صبح میں ماں بیٹوں میں تکرار اور گالم گلوچ سے فیض یاب ہوتے ہیں اور رات گئے یہ نشریات میاں بیوی کے مکالمے پر جا ختم ہوتی ہیں . تب کہیں جا کر وہ گھڑی بھر سونے کو لیٹ جاتے ہیں تا کہ صبح پھر نئے دن کی کاروائی کا آغاز تازہ دم ہو کر کیا جائے . پنجاب اسمبلی سے تحفظ خواتین کا بل پاس ہوئے دو دن ہوئے تھے کہ شمیم ہمارے ہاں فرش دھونے کا وائپپر مانگنے آئی . ہم نے کمال مہربانی سے وائپر اس کے ہاتھ میں تھمایا اور اپنے شوہر نامدار کی درزیدہ نگاہوں کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے پورے خلوص سے شمیم کی طرف متوجہ ہوئے . ” تم اس روز روز کی چخ چخ سے گھبراتی نہیں ہو” اس نے ناسمجھی سے ہمیں دیکھا . ” میرا مطلب ہے کبھی بیٹوں سے بے عزتی ،کبھی شوہر سے ، دو تین ہفتے کوئی کام نہ کرو یا میکے چلی جاؤ. انھیں بھی لگ پتا جائے .” براہ راست “حقوق بل” پرآتے ہوئے ہم شمیم جیسی اکھڑ خاتون کے سامنے کچھ گھبرا رہے تھے . مگر شمیم کے جواب نے ہمیں سٹپٹانے پر مجبور کر دیا ہاتھ نچا کر ذرا رازداری سے کہنے لگی :.” بات سنیں باجی ، مجھے کیا تکلیف ہے کہ بھابھیوں کے آسرے پر جا پڑوں، مجھے رب نے سات بیٹے دیئے ہیں آج نہیں تو کل گبھرو جوان … میں تو شکر کرتی نہیں تھکتی .
جتنی غیرت ان میں ہے چھوٹا دس سال کا ابھی ہوا نہیں اور گھر کے موبائل پر کوئی فون آ جائے تو مجال ہے مجھے اٹھانے دے . کہتا ہے میں خود سن لوں گا تو نہ اٹھایا کر فون . میں تو اس کی سمجھ داری پر ہی حیران ہوں . باقی مرد ہیں تو بن کر دکھاتے ہیں نا . چھوٹی نور کے لئے کہتے ہیں اس کو پورا پاجامہ پہنایا کر اماں . ہم بھی بہن والے ہیں اخر باہر جانا ہوتا ہے یار بیلیوں سے ملنا ہوتا ہے . میں تو شکر کرتے نہیں تھکتی .شکر ہے اتنی سمجھ تو ہے نا ان میں ” ہم نے چپ کی چادر تانتے ہوئے شرمندگی سے مسلسل مسکراتے اور ہمیں کچھ جتاتی نظروں سے دیکھتے صاحب کو دیکھا . شمیم وائپر لے کر دروازہ پار کر گئی مگر اس کا ادھ ننگا (صرف قمیص میں ملبوس )چھوٹا لڑکا ہمارے ننھے کی سائکل پر سوار ابھی تک جھولے لینے میں مگن تھا .
٤. میں روایت سے جڑی ایک مذہبی عورت ہوں . ما ں باپ نے گھر سے رخصت کرتے ہوئے نصیحت کی تھی . اچھی بیٹیاں ہمیشہ ماں باپ کی عزت کا خیال رکھتی ہیں . زندگی کی ساری مشکلوں کو صبر سے پی جانا …. مگر سفید پوشی اور عزت کا بھرم ٹوٹنے نہ پائے . میرے سسرال والے بھی مذہبی لوگ ہیں سب لوگ ان کی بڑی عزت کرتے ہیں . سال میں ایک آدھ دفعہ ہم خواتین بھی مردوں کے ساتھ دعوت و تبلیغ کے لئے نکلتی ہیں . جب میری بچی سکول جانے کے قابل ہوئی تو میرے میاں نے اسے سکول بھیجنے سے یہ کہہ کر انکار کر دیا .
” اسے کافروں کے نظام تعلیم میں پڑھنے نہیں بھیجوں گا ” یہ میرے لئے بڑے اچنبھے کی بات تھی کیوں کہ وہ خود سکول میں پڑھاتے تھے .
بعد ازاں مجھے سمجھ آ گیا ، سارا مسئلہ خرچ کا تھا . جب بھی کچھ کہنے کے لئے زبان کھولتی . شوہر سے بحث کرنے والی عورت کو جہنمی کا خطاب مل جاتا . خرچہ جتنا تنگ ہو سکتا تھا اتنا کیا گیا . میں نے مرغیاں پال لیں . انڈے بیچتی اور اس طرح ذاتی خرچ کھینچتی . بچیوں کو گھر میں پڑھاتی رہی . مگر عزت کا بھرم نہ ٹوٹنے دیا اب جب بچیاں پڑھ کر گھر بیٹھے ٹیوشن پڑھا کر میرادست و بازو بن گئیں تو باپ کو بے عزتی یاد آ گئی ” لوگ کیا کہیں گے بیٹیوں کی کمائی کھاتا ہے . تم لوگ چار لوگوں میں میری عزت برداشت کر ہی نہیں سکتے . ” ہم پھر خاموش ہو گئے ہیں . ماں باپ کی پلو سے بندھی نصیحت اور سفید پوشی کا بھرم صحت اور ذہنی سکوں سے زیادہ اہم ہے .
٥. ثمینہ متوسط طبقے کی پڑھی لکھی ذہین اور قابل لڑکی ہے جس نے ڈگری کے بعد اپنے بوڑھے باپ کا ہاتھ بٹانے کے لئے ایک اچھی فرم میں نوکری کر لی تھی . وہیں اس کی ایک کھاتے پیتے گھرانے سے تعلق رکھنے والے عہدیدار سے ملاقات ہوئی جو آخر دونوں خاندانوں کی رضا مندی سے شادی پر منتج ہوئی . ثمینہ اس شادی پر سب سے زیادہ خوش اس بات سے تھی کہ اب نوکری سے جان چھوٹ جائے گی اور وہ مزے سےخوش گوار خانگی زندگی سے لطف اٹھائے گی . اس کی ساری خوشی اس کے شوہر اور سسرال والوں نے شادی کے ایک ہفتے کے بعد ہی یہ کہہ کر ملیا میٹ کر دی ہے :” گھر میں بٹھانا ہوتا تو کسی ان پڑھ سے ہی شادی کر لیتے ” اب کیا کرے پڑھنے لکھنے کا تاوان تو بھرنا ہے نا.
——————–
تصویریں تو ابھی بہت ساری ہیں مگر آپ کی بھی تو نظریں ہیں نا دیکھنے کو……

اپنا تبصرہ بھیجیں