مجھے ہے حکم اذاں! نیوزی لینڈ کے مظلوم مسلمانوں کی قربانی رنگ لائے گی – نگہت فرمان




پوری دنیا کے انسانوں کی بنیادی ضرورت امن و بھائی چارہ ہے۔ اس لیے کہ اس کے بغیر کوئی قوم و ملک ترقی نہیں کرسکتا اور نہ ہی متحد رہ سکتا ہے۔ امن، عالم کی ضرورت ہے کہ اگر ےہ نہ ہو تو انسانیت دم توڑ دیتی ہے۔ امن ساری انسانیت کا مشترکہ خواب ہے اور کیوں نہ ہو کہ اس سے انسانیت کی بقا وابستہ ہے۔ امن عالم کو قائم رکھنے ہی کے لیے ملکی اور بین الاقوامی قوانین بنائے گئے ہیں اور ےہ قوانین بلا کسی رعایت ملک و ملت، قبیلہ و زبان اور مسلک و مذہب کے تمام پر لوگو ہوتے ہیں اور ان کی پاس داری کرنا ہی امن عالم کے ثبات کے لیے ضروری ہیں۔

ہماری دنیا جو اب گلوبل ولیج کہلاتی ہے کہ جدید سائنسی پیش رفت نے اسے بنایا ہے اور اب دنیا میں کہیں بھی ہونے والا واقعہ صرف اس ملک کو متاثر نہیں کرتا بلکہ اس سے پوری دنیا متاثر ہوتی ہے۔ اس دنیا میں سب ہی اچھے اور پارسا نہیں بن سکتے اسی لیے قوانین کا اطلاق بھی کیا جاتا ہے کہ امن و امان کی فضا مسموم نہ ہونے پائے۔ کچھ شرپسند اور انسانیت کے دشمن اسے نابود کرنا چاہتے ہیں ، ان لوگوں کا نظریہ صرف اور صرف دہشت گردی کا فروغ ہے۔ ان کا صرف ایک ہی نام ہے دہشت گرد انسانیت کے دشمن۔ نیوزی لینڈ میں ہونے والا اندوہ ناک سانحہ اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ دہشت گردوں کی کوئی مذہبی پہچان نہیں ہوتی وہ صرف امن عالم اور انسانیت کے دشمن ہوتے ہیں۔ نیوزی لینڈ جیسے ترقی یافتہ ملک میں دو مساجد پر نماز جمعہ کی ادائیگی کے دوران کئی معصوم، مظلوم اور نہتے مسلمانوں کو شہید اور زخمی کر دیا گیا۔ ان میں عورتیں، مرد، بچے اور جوان سب ہی شامل ہیں۔ مسلمان نیوزی لینڈ میں ایک صدی سے زیادہ عرصے سے رہ رہے ہیں۔ ےہ مسلمان نیوزی لینڈ کی کل آبادی کا صرف ایک فی صد ےعنی چالیس ہزار ہیں۔ ےہ سب امن پسند اور قانون پسند شہری اور وہاں کی ترقی میں اپنا کردار بہ حسن و خوبی ادا کر رہے ہیں۔ ویسے بھی صرف ایک فی صد آبادی کی حیثیت ہی کیا ہوگی۔ آج کا اندوہ ناک سانحہ اس دلیل کی کھلی نفی کرنے کے لیے کافی ہے، جس کا ترقی یافتہ مغربی ممالک کے ذرایع ابلاغ پروپیگینڈا کرتے ہیں کہ مسلمان دہشت گرد ہیں۔ ہے واقعہ اس بات کی سچائی کا کھلا ثبوت ہے کہ دہشت گروں کا مذہب ان کی پہچان کبھی نہیں ہوتا، ان کی پہچان صرف دہشت گرد ہی ہوتی ہے۔
یہ اندوہ ناک سانحہ مسلمانوں کے خلاف کریہہ پروپیگینڈا کرنے والوں کے منہ پر انسانیت کی طرف سے ایک زوردار طمانچہ ہے۔ اس واقعہ کا افسوس ناک اور قابل غور پہلو ہے ہے کہ جہاں فوراً پولیس آجاتی ہے وہاں 18 منٹ تک یہ ہوتا رہا اور فیس بک پر لائیو اس وحشیانہ پن کو دکھایا جاتا رہا۔ اور یہ سوال پوچھنا کیا دہشت گردی ہوگا کہ اس وقت ساری انتظامیہ کہاں تھی ؟ اس پاگل پن کا مظاہرہ کوئی مسلمان کرتا تو مسلمان ممالک کی اینٹ سے اینٹ بجا دی جاتی۔ کیا ہے واقعہ اس بات کا متقاضی نہیں ہے کہ مغرب مسلمانوں کے خلاف اپنا مکروہ وظیفہ جپنا بند کرے اور اپنے متعصبانہ رویے پر نظرثانی کرے۔ کچھ ایسی خبریں بھی گردش میں ہیں کہ ان انسانیت کے مجرموں کو نفسیاتی بیمار قرار دے کر اس واقعے پر پردہ ڈال دیا جائے گا، اور اگر ایسا ہوا تو ہے انتہائی افسوس ناک ہوگا. ضرورت اس بات کی ہے کہ اس کے ہر پہلو کی شفاف تحقیقات کی جائیں اور مجرموں کو عبرت ناک سزا دی جائے۔ اگر ایسا نہ کیا گیا تو سب ہی جانتے ہیں کہ ہر عمل کا ردعمل ہوتا ہے، خدا کرے کہ ایسا نہ ہو۔ اس واقعے میں شہید ہونے والے مظلوم مسلمانوں کی قربانی رنگ لائے گی اور انسانیت امن و امان کے تعبیر عملی دیکھ پائے گی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں