نیوزی لینڈ کے واقعے میں ہمہ جہتی سبق ہے۔ افشاں نوید




نیوزی لینڈ کے واقعے میں ہمہ جہتی سبق ہے۔ یہ درست ہے کہ دنیا بھر کے غیر مسلم مسلمانوں سے ھمدردی محسوس کررھے ھیں مسجدوں کے گرد حفاظتی حصار بنا رہے ہیں۔۔ مگر خود ھم کون سے حصار بنارہے ہیں؟؟ کون سے قلعہ ھیں جہاں مورچہ بند ہو کر ہم دشمن کا تعاقب کریں گے۔۔ دور تک جائیں گے اس کا پیچھا کرتے ہوئے۔۔۔
آئیے ایک جھلک دکھاتی ہوں ۔
یہ پیر بارہ مارچ 2019ہے۔ مانسہرہ جامعتہ المحصنات کا دامن تنگ پڑ گیا ہے۔ سفید اسکارف اور آسمانی دوپٹوں میں دو سو کے لگ بھگ طالبات منظم قطار در قطار بیٹھی ہیں۔ اسٹیج پر دودرجن طالبات ہیں جن کے سر جھکے ہوئے ہیں۔آگے کوئ کتاب رکھی ہے۔ آج ان کا ختم بخاری ہےیقینا موجود کتاب بخاری شریف ہوگی۔ انکے استاد کی آواز کشادہ ھال میں گونج رہی ہے”آج سے آپ نے علم کی دنیا میں خود سے قدم رکھنا ہے۔ اب تک ھم نے پڑھایا اب آپ نے اس بحر نا پیدا کنار میں اپنے حوصلہ کے چپوؤں سے وقت کے تندوتیز تھپیڑوں میں حق کا پرچم تھامے آگے ہی بڑھنا ہے۔ میری بچیوں وقت کی نظریں آپ پر ہیں۔ اس العلم کی لاج رکھنا ھے ۔”
مجھے اپنی بیٹیوں کا کانووکیشن یاد آگیا۔میڈیکل کی ڈگری تھامے ٹوپیاں اچھالتے خوشی سے سرشار نوجوانوں کے گروپ سیلفیاں در سیلفیاں۔ تب دل سے دعا کی کہ مولا بس یہی نسل ھمارا کل اثاثہ ہے اسے ہر فتنے سے مامون رکھ کر حق مسیحائی ادا کرا لیجئے گا۔۔

اپنا تبصرہ بھیجیں