خدارا اپنے بچوں کی حفاظت کریں. (ڈاکٹر رضوان اسد خان)




یو ٹیوب پر بچوں کے چینلز میں “پا پٹرول” کافی مقبول عام سلسلہ ہے. البتہ تشویش کی بات یہ ہے کہ بہت سے والدین نے نوٹ کیا ہے کہ اس میں بچوں کو خطرناک، تشدد آمیز اور خودکشی پر اکسانے والے پیغامات بڑے غیر محسوس طریقے سے دئیے جاتے ہیں. لیکن یہ صرف بڑوں کیلیئے غیر محسوس ہوتے ہیں، بچوں کیلئے نہیں. مثلاً زیر نظر پوسٹ میں اس خاتون کا کہنا ہے کہ ایسا عموماً کارٹون شروع ہونے کے 3 سے 4 منٹ بعد ہوتا ہے، جب عام طور پر والدین میں سے کوئی ساتھ بیٹھا دیکھ بھی رہا ہو تو اسکی توجہ ہٹ چکی ہوتی ہے. طریقہ واردات یہ ہے کہ اچانک سے کوئی کردار نمودار ہوتا ہے اور کوئی نہ کوئی خطرناک پیغام دے کر چلتا بنتا ہے.
جیسا کہ اس مثال میں دکھایا گیا کہ ایک بچے نے کسی دوا کی بہت سے گولیاں کھا لیں اور پھر اسے مرتے اور ساتھ والے بچے کو اس پر روتے ہوئے دکھایا گیا. اسی طرح کچھ اقساط میں بچوں کو کلائی پر بلیڈ چلانے کا درست طریقہ بتایا گیا… یا یہ کہا گیا کہ جب والدین سو جائیں تو گیس کے چولہے آن کر دیا کریں. سوشل میڈیا پر ان دعووں کی حقیقت سے تو میں واقف نہیں لیکن کئی ایک ویبسائٹس پر مکمل ثبوت اور حوالوں کے ساتھ اس بات کو ثابت کیا گیا ہے کہ کارٹونز کے ذریعے بچوں کو خطرناک پیغامات دئیے جاتے ہیں.
اور ایک شہادت تو میرے اپنے نہایت قریبی دوست کی ہے. وہ اپنی بیٹی کے ساتھ بیٹھا یوٹیوب پر ایک اور مشہور کارٹون “پیپا پِگ” (سوؤر…!!!) دیکھ رہا تھا کہ اچانک ایک بھوت نمودار ہوا اور ایک بچے سے کہا کہ وہ کھڑکی سے چھلانگ لگا دے… اور بعد میں کارٹون معمول کے مطابق چلتا رہا.
#اصلاح_نیٹ_ورک

اپنا تبصرہ بھیجیں