"میری تلوار" : احسن فریدالدین




تازہ ہوا کے شوق میں اے ساکنان شہر
اتنے نہ در بناؤ کے دیوار گر پڑ ے
جھک کر سلام کرنے میں کوئی حرج نہیں مگر
سر اتنا مت جھکاؤ کہ دستار گر پڑے
دشمن بڑھائے ہاتھ تو تم بھی بڑھاؤ ہاتھ
ہاں یہ نہ ہو کہ ہاتھ سے تلوار گر پڑے
“انسانیت کے بعد اگر کچھ ہے میرے پاس تو وہ ہے پاکستانیت”
جب میں چھوٹا تھا تو گھر میں جنگ کی بات ہوتی تو ایک ہی بات سننے کو ملتی اگر انڈیا سےجنگ ہوئی توسب گھر والے جنگ لڑیں گے چاچو کہتے میں فوجی ہوں مجھ سے بڑے کزنز کہتے کہ میں مجاہد ہوں میں نے کالج سے فوجی تربیت حاصل کر رکھی ہے جسے NCC کہتے تھے جب میں نے عابد بھائی اور اپنی بڑی بہن کی فوجی وردی میں NCC کرتے فوٹوز دیکھی تو میں خود بھی اپنے آپ کو فوجی سمجھتا تھا اور اسی خوشی میں رہتا کہ ایک دن میں بھی فوجی ٹریننگ حاصل کروں گا کالج یونیورسٹی میں پہنچے تو ہم نے قومی خدمت کے لئے ریسکیو کی ٹریننگز تو حاصل کیں۔ مگر اب ملک میں طالبعلموں کوتعلیمی اداروں میں فوجی ٹریننگز کا سلسلہ بند کر دیا گیا ہے ۔ شاید اس میں کوئی انسانی حقوق کی تنظیموں نے کہا ہے کہ اس سے نوجوانوں میں جنگی جنون اور اشتعال انگیزی برپا ہونے کا خدشہ ہوتا ہے
میرا خواب “فوجی ٹریننگ ہرپاکستانی کے لئے” آنے والی نسلوں اور ففتھ جنریشن وار میں ایک اہم ہتھیار ثابت ہو گا جس سے نوجوانوں میں مزید حب الوطنی بڑھے گی
میں یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ65 فیصد نوجوان آبادی والے ملک کے نوجوان جب باقاعدہ پریڈ کر یں گے تو اسلامی جذبہ جہاد کو تقویت ملے گی اور ان کے قدموں کی دہمک سے دشمن کو ہماری طرف دیکھنے میں بھی خوف آئے گا دنیا آزاد اور خود مختار پاکستان سے تعلقات رکھنا چاہتی ہے معاشی ترقی کے لئے انویسٹر بلا خوف و خطر پاکستان کا رخ کریں گے نئے کاروباری مراکز کو پاکستان میں جگہ ملے گی ترقی کا دور دورہ ہو گا ملازمتیں, جدید کاروباری طریقوں سے پاکستان اللہ کے فضل سے دنیا میں مزید اہمیت کا حامل بنے گا کیوں کہ ہم خود مختیار قوم ہیں میرے لحاظ سے جنگ ایک اخلاقی فریضہ ہے جب دشمن آپ کو تنگ کرنے سے باز نا آئے تو قوم پر حفاظت وطن عین فرض ہو جاتی ہے جنگ لڑنے کے لئے افرادی قوت اور وسائل کاہونا بہت ضروری ہوتا ہے. حکمت عملی سے جنگ کو مؤثر طریقے سے کم وسائل استعمال کر کہ دشمن کو ناکوں چنے چبائے جا سکتے ہیں . اور افواج پاکستان اس کام میں دنیا میں اپنا کوئی ثانی نہی رکھتی کیونکہ ہمارےآباء میں حضرت علی المرتضی خالد بن ولید’ نورالدین زنگی اور سلطان صلاح الدین ایوبی جیسے کمانڈر موجود ہیں جنگ کے نتائج جذبوں اور حوصلوں سے مشروط ہوتے ہیں خوشی تو اس بات کی ہے کہ مسلمان آزمائشوں سے نہیں گبھراتا یہی وہ جہاد ہے، جس کی فضیلت سے قرآن وحدیث کے صفحات بھرے پڑے ہیں یہی وہ حق پرستی کی جنگ ہے، جس میں ایک رات کا جاگنا ہزار راتیں جاگ کر عبادت کرنے سے بڑھ کر ہے، جس راہ میں غبار آلود ہونے والے قدموں سے وعدہ کیا گیاہے کہ ان کو جہنم کی آگ کی طرف نہیں گھسیٹا جائے گا۔
فرمان نبوی کا مفہوم ہے کہ “اُس کی قسم جس کے قبضہ میں محمد کی جان ہے، میری یہ بہت خواہش ہے کہ میں اللہ کی راہ میں جہاد کروں پھر میں مارا جاؤں، پھر (مجھے زندگی ملے اور) میں جہاد کروں پھر مارا جاؤں پھر (مجھے زندگی ملے اور) میں جہاد کروں اور پھر مارا جاؤں” آج یہ وقت ہے کہ ہم اپنے اصل دشمنوں کو پہچانیں یہ ہمارے آس پاس اور دور مسافتوں پر ہیں ان سے نمٹنے کے لئے افواج پاکستان اور قوم ہر دم تیار ہیں اور آج کا دور موزوں ترین دور ہے جب تمام پاکستانی طاقتیں یکجان ہو کر دشمن کو پہچان رہی ہیں اور دشمن کو بتا رہی ہیں کہ ہم ایک ہیں حالیہ جنگی واقعات میں ہمارے دشمنوں کو اس چیز کا احساس ہوچکا ہے کہ پاکستان کس قدر مضبوط ہےاب یہ وقت ہے کہ تعلیمی معیار کو بہتر کرنے کے ساتھ ساتھ غیرت کے معیار کو مزید بلند کرنے اور ہما وقت تازہ مورال کے لئے تمام پاکستانی جوانوں مرد و زن دونوں کو اپنی اپنی تلواروں کو دشمن کو زیر کرنے کے لئے تیار رکھنا ہے حکومت وقت ,افواج پاکستان اور تعلیمی اداروں کے اعلی عہدیداران سے گذارش ہے کہ وہ نوجوانوں کو ملکی دفاع کی تربیت دے کر کارگر بنائیں فوجی تربیت نا صرف ملکی دفاع کی اہلیت بڑھائے گی بلکہ جوانوں کو صحت مند توانا اور منظم رکھے گی

اپنا تبصرہ بھیجیں