بچوں کا بچپن کیسے خوبصورت بنائیں :ام عثمان مظہر




علی جلدی کیجیے آپ کی وجہ سے سب لوگ اسکول سے لیٹ ہو رہے ہیں۔ صبح کے سوا سات بجے ثانیہ نے بچوں کے بیگز میں ان کے ٹفن رکھتے ہوئے علی کو آواز لگائی جو اپنے کمرے میں آئینے کے سامنے کھڑا اپنے نھنے منے ہاتھوں سے اپنی ٹائی درست کررہا تھا۔
اماں ابھی تو مجھے واش روم بھی جانا ہے وہ دروازے سے جھانکتے ہوئے منمنایا تو گیٹ پر پہنچے ہوئے اس کے تینوں بہن بھائیوں کے تیور بگڑ گئے۔ حارث غصے سے علی کی جانب بھاگا اور اونچی آواز میں بولنے لگا ۔۔۔۔۔اس کی وجہ سے ہم کل بھی لیٹ ہوئے تھے ۔ہم تینوں کب سے تیار کھڑے ہیں اور ایک یہ نواب صاحب کہیں ہل کر ہی نہیں دیتا۔
علی نے جب حارث اور اس کے علاوہ باقی دونوں بھائی، بہنوں کے ماتھوں پر تیوریاں دیکھیں تو چپ چاپ بستر سے اٹھا اور بستہ اٹھا کر نکلنے کا ارادہ کیا جسے دیکھتے ہوئے ثانیہ قریب ہی سے بولی.. ارے رکو تو! بس دو منٹ دے دو اسے واش روم جانے دو اسکول جا کر وہ پریشان ہو گا۔
ثانیہ نے علی کا بازو پکڑ کر اس کا رخ واش روم کی طرف موڑتے ہوئے کہا تو علی نے ایک دم ہی اس سے اپنا بازو چھڑوا لیا اماں چھوڑ دیں بس جانے دیں میں اسکول جا کر چلا جاؤں گا۔ وہ چہرے پر سیکڑوں تفکرات لیے بالکل کسی عمر رسیدہ شخص کی مانند غمزدہ لہجے اور ٹوٹے پھوٹے انداز میں بولا اور بیگ پکڑ کر بہن بھائیوں کے پیچھے چل دیا۔ ثانیہ وہیں لاؤنج میں صوفے پر بیٹھ گئی۔ ہائے اللہ جی ابھی پرسوں ہی تو یہ مجھے بتا رہا تھا کہ اگر اسکول میں واش روم جانے کی اجازت مانگیں تو ٹیچر ڈانٹتی ہیں۔ جیسے ہی پرسوں کی علی کی شکایت ثانیہ کے سامنے آئی تو ساتھ ہی بچوں کی معصوم سے ہونٹوں سے نکلی ہوئی کئی شکایات خود بخود ہی اس حساس ماں کے سامنے نکل کر ایک بڑا ہی ناگوار سا رقص کرنے لگیں۔ ہر پریڈ کے لئے علیحدہ علیحدہ ٹیچر آتی ہیں۔ پانی پینے کے لئے اجازت مانگو تو ڈانٹ کر کہتی ہیں کہ۔۔۔۔ میرے ہی پریڈ میں جانا ہوتا ہے ؟۔۔ اچھا میں آپ کے اسکول آؤں گی تو بات کروں گی ان شاءاللہ۔
اس وقت تو ثانیہ نے ماروی کو یہ کہہ کر ٹال دیا تھا مگر آج جب خاور صاحب اور بچے گھر سے روانہ ہو چکے تھے تو نجانے کیوں اسے بچوں کی روز روز کے اسکول کے مسائل بہت تکلیف دے رہے تھے. کون کہتا ہے کہ بچپن خوبصورت ہوتا ہے مجھے تو جب بھی اپنا بچپن یاد آتا ہے۔۔۔۔ روز روز کے ٹیسٹ کی پریشانیاں۔۔۔۔ ٹیچرز کے غصیلے چہروں کا خوف۔۔۔۔۔ اسکول کی بچیوں میں سے کچھ شر پسند لڑکیوں کا ستانا۔۔۔۔۔اور گھر آ کر بھی اسکول کی فکر تو میں تو شکر ادا کرتی ہوں کہ وہ مشکل دور گزر گیا. آج نہ مجھے کوئی صبح اٹھتے ہی گھر سے نکالتا ہے۔۔۔ نہ مجھے پانی پینے کے لیے کسی اجازت کی ضرورت ہوتی ہے اور نہ ہی روز نت نئے چہروں کو دیکھنے پر مجبور ہوں۔ اچھا! ایسی کیا مجبوری ہے کہ میرے بچے اپنا بچپن آزادی سے نہیں گزار سکتے، کیا کوئی ایسا طریقہ نہیں ہوسکتا کہ میرے پھولوں کا بچپن حسین ہوجائے….. آزاد ہوجائے…. فکروں پریشانیوں اور ہر طرح کے امتحانات کے بکھیڑوں سے باہر نکل آئے۔۔۔۔۔۔
وہ باورچی خانے میں ناشتے کے برتن دھو رہی تھی اور سوچیں اب تک اپنے آنگن کے پھولوں کا ہی طواف کررہی تھیں. تھوڑی ہی دیر میں برتن دھل گئے تو گھر کی صفائی کا کام شروع کیا. تقریبا ڈیڑھ گھنٹہ لگا اور پھر جب تقریباً 11 بجے وہ فرج سے سبزی نکال کر اسے بنانے کے لئے لاؤنج میں قالین پر بیٹھی، تو بچوں کے حوالے سے ان گنت سوالات اس کے سامنے آن کھڑے ہوئے۔
ہاں ثانیہ ہر مسئلے کا کوئی حل تو ہوتا ہے….. آج تم اور تمہارے جیسی سب دوسری مائیں کیوں مجبور ہیں…. کہ صبح ہوتے ہی اپنے پھولوں کو گھر سے دھکے دے کر نکال دیں ….کوئی تو حل ہوگا… کوئی تو ایسا طریقہ ہو گا کہ میرے بچوں کا بچپن خوبصورت ہو سکے۔۔۔۔۔
*ہم تو مائل بہ کرم ہیں کوئی سائل ہی نہیں*
*راہ دکھلائیں کسے راہرو منزل ہی نہیں* ہاں!…… میں کیا اتنی ہی نکمی ہوں کہ اپنے چھوٹے چھوٹے بچوں کو خود نہ پڑھا سکوں… جو کتابیں اسکول والے پڑھاتے ہیں وہی اگر میں گھر میں پڑھا لیا کروں. تو میرے پرندے آزاد ہوسکتے ہیں….میرے ستارے میرے آنگن میں چمک سکتے ہیں!!!
کیا کرنا ہوگا؟؟ اردو ریڈنگ ….,انگلش ریڈنگ……. ,اردو رائٹنگ……… انگلش رائٹنگ…. بس یہی پانچ بنیادی چیزیں ہیں کہ جو چھوٹے بچے کو اسکول والے بنیادی طور پر سکھلا رہے ہوتے ہیں. تو اگر میں نے ان چیزوں پر اپنی گرفت مضبوط کر لی تو پھر کیسے ہوسکتا ہے کہ بچے کسی سے پیچھے رہیں…
پا۔۔۔پا۔۔۔۔پانچ چیزیں ۔۔۔۔۔۔۔ مگر سکول جا کر میرےبچوں کی یہ پانچ چیزیں کونسی بہت اچھی ہیں۔۔۔۔۔۔ بچوں کی ریڈنگ،۔۔۔۔۔ رائٹنگ اور میتھ پر کوئی خاص توجہ دیے بغیر بس درجنوں سوالات یاد کرنے کے لئے دے دیئے جاتے ہیں اور میں بے وقوفوں کی طرح بلا سوچے سمجھے بس انہیں اسکول بھیجتی جارہی ہوں ۔
ارے ثانیہ بی بی! .. بس کر، بس بہت ہو چکا تیرا فیصلہ ٹھیک ہے اپنے پھولوں کو صبح صبح گھر سے نکالنا چھوڑ دے تو کیا کسی مرغی سے بھی گئی گزری ہے کہ جو اپنے بچوں کو اپنے پروں تلے سے تب تک نہیں نکالتی جب تک وہ طاقت نہیں پکڑجاتے.
….کوئی اندر کی آواز تھی جس کا غضب اور رعب و دبدبہ ثانیہ کو اس محاذ پر پوری طرح پسپا کیے دے رہا تھا۔
ہاں میں غلط تھی۔۔۔ میری سوچ غلط تھی۔۔۔۔ میں نے اپنے بچوں کا بچپن خراب کیا۔۔۔۔۔ اس کی شروع سے عادت تھی کہ وہ کبھی یہ نہیں سوچتی تھی کہ سب کیا کر رہے ہیں۔۔۔۔ بلکہ اس طرح سے سوچتی تھی کہ اصل میں درست طریقہ کیا ہے۔۔۔۔ اور مجھے کیا کرنا چاہئے ۔۔۔۔تو یہاں بھی وہ یہ سوچے بغیر کے پھر اس حساب سے تو پاکستان کی سبھی مائیں غلط ہوئیں.۔۔۔۔۔۔۔ وہ اپنے آپ کو کٹہرے میں کھڑا کر چکی تھی اور پھر بس انہی سوچوں کے زیر و بم سے گزرتے گزرتے دو بج گئے اور وہ پرندے باپ کے ساتھ گھر میں داخل ہوئے اور آتے ہی دوڑتے ہوئے ماں سے چپک گئے وہ خوش تھے کہ وہ اب اپنی ماں کے قریب آچکے تھے مگر وہ یہ نہیں جانتے تھے کہ ان کے اور ان کی ماں کے درمیان خوامخواہ کی جو رکاوٹیں حائل تھیں ان کی ماں ان سب رکاوٹوں کو گرا ڈالنے کا فیصلہ کر چکی تھی اور ان پھولوں کی زندگی کو ایک نئی ڈگر پر لانے کا فیصلہ کر چکی تھی.
جس میں نہ ہو انقلاب موت ہے وہ زندگی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔وہ اس وقت باورچی خانے میں برتنوں کی دھلائی کا کام کر رہی تھی جب اللہ سے دعا کرنے لگی اے اللہ! ۔۔۔۔۔ میں آپ سے ستر ہزار مرتبہ خوش ہوں۔۔۔ آپ بھی مجھ سے ستر ہزار مرتبہ خوش ہو جائیں۔۔ اللہ جی! میں ہار گئی ۔۔۔۔میری مدد فرمایئے گا
رب انی مغلوب فانتصر اپنے بچوں کو اسکول سے اٹھانا چاہتی ہوں۔۔۔ میرے لئے اپنی خاص مدد نازل فرمائیں ۔۔۔۔۔ اور پھر واقعی رات کے کھانے کے بعد کمرے میں جب اس نے بچوں کے باپ سے تفصیلاً ساری بات کی اور اپنا ارادہ ظاہر کیا تو بیوی پر بے انتہا اعتماد رکھنے والے خاور صاحب فوراً ہی بچوں کی ہوم سکولنگ کے حوالے سے راضی ہو گئے۔
بچوں کو ہوم اسکولنگ کے لیے کیسے تیار کرنا ہے۔۔۔۔ انہیں گھر میں کس طریقے سے پڑھانا لکھانا ہے ۔۔۔۔۔ٹائم ٹیبل کیا ہوگا ۔۔۔ کس طرح ہوم ا سکولنگ کا معاملہ اچھے طریقے سے مینیج کیا جائے گا، اب یہ وہ سوالات تھے جن پر اس کا ذہن تیزی سے ورکنگ کرنے لگا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جاری ہے…..
==============

اپنا تبصرہ بھیجیں