جیسینڈا آرڈن ہمیں شرمندہ کرنے کے مشن پر ہیں – فرح رضوان




جیسینڈا آرڈن کو پوری دنیا میں، خصوصا پاکستان میں جی بھر کر سراہا جا رہا ہے ان کی کئی ایک باتوں پر واہ واہ اور دعائیں ہو رہی ہیں …..سب سے حیرت انگیز بات کہ انکی قابلیت کو سراہا جا رہا ہے ،کوئی شکل نہیں دیکھ رہا ،نین نقش دیکھ کر سموسے کھا کر ریجکٹ نہیں کر رہا ،ہمممم عمر زیادہ لگتی ہے کی آواز کہیں سے نہیں آئی ،بلکہ سب کہہ رہے ہیں کہ کم عمری میں کیا زبردست دانش پائی ہے!
یقین کریں کہ اگر آپ کے ہمارے پاس ایسی آنکھیں ہوں جو لڑکیوں کے گن دیکھیں عیب نہیں تو آدھی سے زائد قبول صورت مگر کمال کی ہونہار لڑکیوں کی شادی ہو بھی جائے اور وہ سکون سے نبھا بھی لیں ،ایک اچھی نسل پروان بھی چڑھا لیں مگر اس وقت پتہ نہیں کیا ہو جاتا ہے جب شادی کرنی ہو…. یا نبھانی ہو – اور یہ تو دیکھیں نا ! کیا بات کہہ دی ایک تو یہ حملہ دہشت گردی ہے جسکی سخت مذمت کرتے ہیں جبکہ مہاجرین ہم میں سے ہیں -اور دھوم مچ گئی انکے برے کو برا کہنے پر اور مظلوم کو مظلوم کہہ دینے اور بر وقت سہارا دینے پر …..کیا واقعی یہ اتنی ہی اہم بات ہوتی ہے ؟ دھان پان سی خاتون جیسینڈا رہ جاتی چپ تو کیا تھا ؟مگر یہ تو لگتا ہے ہمیں شرمندہ کرنے کے مشن پر ہیں – ہم تو مسلمان ہو ہو کر قران اتنا ہل ہل کر پڑھیں یا رٹے مار ترجمے یاد کریں ،یا بڑھ چڑھ کر پبلک ڈسکشن کے طور پر تفسیر اور اسپر سیر حاصل گفتگو فرما لیا کریں ،مگر وقت پڑنے پر مجال ہے جو دو دوست ،رشتہ دار کولیگ ،میاں بیوی کے لیۓ کبھی بھولے سے یاد آجاۓ یہ بات کہ
[ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُونُوا قَوَّامِينَ بِالْقِسْطِ شُهَدَاءَ لِلَّـهِ وَلَوْ عَلَىٰ أَنفُسِكُمْ أَوِ الْوَالِدَيْنِ وَالْأَقْرَبِينَ ۚ ………….﴿:١٣٥-
٤﴾اے لوگو جو ایمان لائے ہو، انصاف کے علمبردار اور خدا واسطے کے گواہ بنو اگرچہ تمہارے انصاف اور تمہاری گواہی کی زد خود تمہاری اپنی ذات پر یا تمہارے والدین اور رشتہ داروں پر ہی کیوں نہ پڑتی ہو فریق معاملہ خواہ مالدار ہو یا غریب، اللہ تم سے زیادہ اُن کا خیر خواہ ہے لہٰذا اپنی خواہش نفس کی پیروی میں عدل سے باز نہ رہو اور اگر تم نے لگی لپٹی بات کہی یا سچائی سے پہلو بچایا تو جان رکھو کہ جو کچھ تم کرتے ہو اللہ کو اس کی خبر ہے (135النساء )
جس طرح سگھڑ خواتین اچانک مہمانوں کی آمد کے لیۓ بسکٹ وغیرہ چھپا، اورکباب بنا رکھتی ہیں نا! بالکل اتنے ہی سگھڑ پن سے مصلحت کی دو پٹیاں جو بزدلی اور بے ایمانی سے تیار ہوتی ہیں،”دانشمندی ” کے پیکٹ میں سنبھال رکھی ہوتی ہیں ،وقت پڑنے پر ہمارے ہاں انکو احتیاط سے نکال کر ایک پٹی آنکھ پر ایک مونہہ پر رکھ لیا کرتے ہیں …نہ برا دیکھو بھیا نہ بولو نہ برے بنو ….دنیا کی نگاہ میں – اور دیکھیں ذرا مزید یہ محترمہ کیا فرما رہی ہیں کہ ہم دو سو سے زائد مختلف علاقوں کے افراد یہاں کامن گراونڈز پر رہتے ہیں …..اور اس پر وہ حضرات تک دل کھول کر تعریف فرما رہے ہیں جو ببانگ دہل فخریہ فرماتے ہیں کہ ہمارے بزرگ تو عورتوں کو کسی مسلے میں شامل ہی نہیں کرتے تھے کہ وہ ناقص العقل ہوتی ہیں؛ ہونگے بھائی صاب آپکے بزرگ اور انکے اقوال زریں و شریں،اسلام تو عورت پر ایسی کوئی قدغن لگاتا ہے .
نہ سب کو ایک لاٹھی سے ہانک کر ناقص العقل کا لیبل چسپاں کرتا ہے ، بلکہ امہات المومنین سے لے کر صحابیات (رضوان اللہ عنھن اجمعین )اور بعد میں آنے والی کتنی ہی مسلم خواتین کی فراست و شجاعت اور قائدانہ مثالیں موجود ہیں – قرآن میں بھی اگر فرعون اور نمرود جیسے ناقص العقل ناعاقبت اندیشوں کا ذکر ہے تو ملکہ سبا کی معاملہ فہمی اور عمدہ لیڈرشپ کا ذکر موجود ہے – اور یہ تو عجیب ہی بات ہوئی نا کہ کسی ملک کی غیر مسلم وزیر اعظم اس قسم کا بیان جاری کرتی ہیں کہ دہشت گرد ہم میں سے نہیں، مہاجرین ہم میں سے ہیں تومسلمانوں میں پسندیدگی کی دھوم مچ جاتی ہے، جبکہ تاحیات بھی وہ واقعی میں اپنا لیں تب بھی آخر کو کتنا بھلا کتنی خیر مل سکے گی ؟ البتہ یہ باتیں ہم بچپن سے سنتے اور پڑھتے آئے ہیں کہ رسول صل اللہ علیہ وسلم کے کچھ فرمان جو ظاہر ہیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہی ہیں،جن کے مفھوم یوں ہیں کہ ،ملاوٹ کرنے والا ہم میں سے نہیں ،ازواج اور غلام کو بہکانے والا ہم میں سے نہیں ، دھوکہ دینے والا ہم میں سے نہیں جو بڑوں کی عزت ،چھوٹوں سے شفقت نہ کرے برائی سے نہ روکے نیکی کا حکم نہ دے ہم میں سے نہیں …غور کریں کہ کن میں سے نہیں، اور اس کا مطلب کیا ہے ؟ اور خدارا صرف اپنے لۓ غور فرمائیں ،اور اپنی اپنی فکر کریں – کسی پر کفر کا فتوی لگانے کے لیۓ ان کو بہانہ نہ بنالیں –

اپنا تبصرہ بھیجیں