سیدہ رابعہ خواتین کو گر سکھا رہی ہیں




ہماری جوانی کی بات ہے جب اماں اور آبا بوڑھے ہو چلے تھے۔ ہم بازار سے کچھ کھا نے کی چیز لاتے تو اماں کہتیں تھیں گھر کی بنی چیزیں کھایا کرو۔ ہم اماں سے کہتے ملا آحمد کی طرح کا تکا گھرپر نہیں بن سکتا یا چایئنز کھانا صرف چایئنز ریسٹورانٹ میں ہی کھایا جا سکتا ہے۔ تب اماں خاموش ہو جاتی تھیں۔
آج تاریخ خود کو دہرا رہی ہے میرا بیٹا گھر کا پکا کھا نا بالکل پسند نہیں کرتا ہم آج بھی نہیں کرتے. حد تو یہ ہے کہ کل ہم ٹی وی پر شیریں آپا کہہ رہیں تھیں کہ میں جو ریسیپی آپ سے شیئر کررہی ہوں۔ اس پر عمل کرینگی تو نکڑ والے کے کباب کا ذائقہ یاد آجائے گا۔ادھر ردا طارق بہاری کباب میں لہسن ملانے پر بہ ضد تھیں۔ ہم نے انہیں فون کیا۔ بہاری کباب میں لہسن کی آمیزش گناہ کے زمرے میں آتا ہے۔ مگر وہ نہ مانیں۔ ہم نے انہیں اپنے بارے میں بتایا کہ ہم مستند بہاری ہوں نہ ہوں مگر ہمارے میاں مستند بہاری ہیں وہ اس قدر پکے بہاری ہیں کہ ایک دعوت میں انھیں چکن کے بہاری کباب کھلائے گئے جسے انھوں نے یہ کہہ کر کھانے سے انکار کیا کہ بہاری کباب صرف گائے کے گوشت کے بناے جاتے ہیں۔ باقی سب جعلی ہیں۔ اور مسز ہاشمی کی ساس نے تو سارے کوفتے اسوقت اپنی ماسی کو دے دئے جب انھیں پتہ چلا کہ کوفتوں میں سوے کے متبادل ہرا دھنیا ڈالا گیا۔ یہ بھی کوئ کوفتہ ہے. کھانا پکانے سے اکثر عورتوں کو بالکل دلچسپی نہیں ہوتی۔ ایسی عورتوں کے میاں بہت اچھے شیف ہوتے ہیں۔ ہمارا شمار بھی ان ہی میں کرلیں۔
بقول ہماری چچیا ساس کے ،،اے بوا ان کے ہاتھ کا پکا ہوا ایک پاو گوشت پوری برات کھا لے گی۔ ہم اس کو آپنی تعریف سمجھتے ہیں کہ ہمارے ہاتھ میں اتنی برکت ہے۔ جبکہ ہمارے میاں کا کچھ اور کہنا ہے۔ ہم آپنے میاں کا خیال نہیں لکھیں گے۔ اس لیئے کہ میاں لوگ اپنی بیویوں کی تعریف برداشت نہیں کرسکتے۔ ہم کیا کریں؟ کوئی مانے یا نہ مانے۔ ہمیں گھر کا پکوان زہر لگتا ہے ۔ اس میں وہ بات ہی نہیں ہوتی جو ریسٹورانٹ کے کھانے میں ہوتی ہے۔ اتفاق سے بیٹا اور بہو بھی ہمارے ہم خیال ہیں۔ صرف ہمارے میاں کو اپنا بنایا ہوا کھانا خود ہی زہر مار کرنا پڑتا ہے۔ ہمارا اس میں کوئ قصور نہیں۔ آپ ہی بتایئے۔ انسان کو کام وہ کرنا چاہیئے جو اسکی طبعیت اور مزاج کے مطابق ہو۔ہمیں شاپنگ بہت پسند ہے۔ جب بھی کوئی ہمیں شاپنگ کے لیئے دعوت دیتا ہے تو ہم آمنا صدقنا کہتے ہوے اس کے ساتھ چل ہڑتے ہیں۔جیب بھاری ہو یا نہ ہو کیا فرق پڑتا ہے؟ شاپنگ اپنے لیئے نہ سہی. ایک وہ شاپنگ بھی تو ہوتی ہے جس کو ونڈو شاپنگ کہتے ہی۔ کھڑکی سے ناک لگا کر جھانک لیا۔
قیمت ضرور چیک کرتے ہیں تاکہ دوستوں میں بیٹھیں تو بڑ ہانکنے میں کوئی دقت نہ ہو۔ دل شاد کیا اور اگلی گلی میں کھسک گئے۔ ایسی بات نہیں کہ ہمیں گھر میں دل چسپی نہیں۔ ہمیں نہ صرف اپنے گھر سے بلکہ اپنے گھر سے ذیادہ پڑوسن کے گھر سے دل چسپی ہے۔ دل چسپی ہونی چاہیئے ۔ چاہے وہ آپکا گھر ہو یا پڑوسن کا۔ کیا فرق پڑتا ہے۔ دوسروں کے گھر زیادہ وقت گزارنے کا فائدہ یہ ہوتا ہے اپنا گھر صاف ستھرا رہتا ہے۔ برتن بھی دھونے نہیں پڑتے۔ اور بار بار ٹیلی فون کی گھنٹی بھی سننی نہیں پڑتی۔ بجلی کا بل بھی کم آتا پے۔ کبھی ہم سے ملیئے تو آپ کو اور بھی گر بتائیں گے۔ اب آئیے ایک اہم بات کی طرف۔ ایک دوسرے کو صبح بخیر کے پیغامات نہ بھجیں۔ یہ ہراس منٹ ہے۔ ایسا ہم نہیں کہتے۔ کشمالہ طارق کہتی ہیں۔ ہم کو پتہ نہیں تھا کہ صبح بخیر کے پیغام میں کوئی دہشت گردی پے۔ انھوں نے یہ نہیں کہا کہ صبح بخیر اگر ملاقات پر کہا جاے تو یہ کس زمرے میں آے گا۔ اب احتیاط کریں گے۔ ورنہ تو ہم دوپہر اور سہ پہر میں بھی صبح بخیر کہنے کے عادی ہیں۔ وہ ما نیں یا نہ مانیں۔ ان کی مرضی ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں