ان کھانا فروشوں کو آپ بھی کچھ تلقین کیجئے – محمد سلیم احمد




ہمارے ملتان کے ایک حلوائی ، جنہوں نے سب سے پہلے وہ دکان خریدی جس میں وہ کرایہ پر بیٹھے تھے، پھر ساتھ والی خریدی، پیچھے والا مکان خریدا، اب شاندار سیٹ اپ بنا لیا ہے۔ پہلے پیسے دے کر پرچی لیکر آؤ، باری کا انتظار کرو، پھر سموسے، گجریلا، جلیبیاں، شاورمہ یا صبح کا ناشتہ لو۔ ماشاء اللہ، اللہ اور برکت دے۔
میں ایک بار اُس وقت، جب آپ ابھی پہلی دکان پر شرافت سے اور باہر کا رقبہ ہوشیاری سے استعمال کرتےتھے، کچھ مٹھائی لینے گیا۔ میری باری آنے پر، مٹھائی تولنے والے نے ، میری پسند کی مٹھائی ڈبے میں رکھنا شروع کی تو مجھے بہت نفرت محسوس ہوئی کیونکہ وہ کسی چمٹے یا دوسرے حفاظتی طریقے کے بغیر ہی مٹھا ئی اپنے ہاتھوں سے اُٹھا اُٹھا کر ڈبے میں رکھتا تھا۔ میں نے کاؤنٹر پر تشریف فرما حاجی صاحب سے کہا: جناب والا، یعنی اب ہم گھر جا کر اس صاحب کے برکت والے ہاتھوں سے اُٹھائی ہوئی مٹھائی کو بس تبرک ہی سمجھ کر کھا سکتے ہیں، ویسے تو کھانا بہت مشکل ہوگا۔ آپ نے میری بات کو سمجھتے ہوئے (کچھ نخوت سے) کہا: صاف ہیں اس کے ہاتھ، کچھ نہیں ہوتا، کوئی گناہ نہیں ہے۔ بات آئی گئی ہو گئی اور ہم بادل نخواستہ کچھ خرید کر واپس آ گئے۔ تاہم میں نے اس بار جا کر دیکھا ہے تو وہاں کا عملہ ہاتھوں پر ڈسپوزیبل دستانے لگا کر مٹھائی ڈال رہا تھا۔ پرسوں ہمیں ایک تقریب میں جانے کا اتفاق ہوا ہے۔ ہمارے لیئے کھانے کا ایک شاندار پاکستانی ریسٹورنٹ میں اہتمام تھا۔
مہمانوں میں ہمارے علاوہ پاکستانی کی کونسلر جنرل، مقامی انتظامیہ کے اعلی عہدیدار، پاکستان میں چائنا کے ایک بہت بڑے پروجیکٹ کا چینی ناظم، تقریب کے منتظمین کرام اور مقامی تجار تھے۔ ریسٹورنٹ بہترین تھا اور کھانا اپنی مثال آپ ۔ مجھے جس چیز نے تعجب میں ڈالا وہ اس ریسٹورنٹ کو ملا ہوا لائسنس تھا جو کہ اس ریسٹورنٹ کو ” سی کیٹیگری ” دکھا رہا تھا۔ سچ پوچھیئے تو میں نے اس لائسنس کو دیکھنے کے بعد سخت ناقدانہ نظروں سے ہر چیز دیکھی اور کوئی عیب نہ ڈھونڈھ پایا۔ چہ جائیکہ ہم ایوو والوں کے پاس کھانوں کے بے انتہاء متبادل ریسٹورنٹ ہیں مگر ہمارے گروپ کے سب لوگ اس چیز پر اتفاق کر رہے تھے کہ یہ ریسٹورنٹ والا اگر اپنی برانچ ہمارے شہر میں کھول لے تو باقیوں کو مات دے دے گا۔ پھر بھی بلدیہ کی نظروں میں یہ ریسٹورنٹ بس سی گریڈ!!! یا العجب۔
کیا آپ نے مارک وین ، فوڈ رینجرز یا دوسرے ایسے وی بلاگرز کو جو دنیا بھر کو کھانوں کے حوالے سے متعارف
کراتے ہیں ، کے پاکستان میں بنے ہوئے ویڈیوز دیکھے ہیں؟
میں نے جو کچھ محسوس کیا وہ یہ تھا کہ پاکستان میں سٹریٹ فوڈ کا کوئی حال نہیں ہے۔
دکاندار جن کپڑوں میں سوتے ہیں انہیں میں دکان لگائے کھڑے ہوتے ہیں۔ لباس میلے ، برتن بس ایسے ہی، چیزوں میں ہاتھ ڈالتے ہوئے، یا ہاتھوں سے اٹھا اٹھا کر پلیٹوں میں ڈالتے ہوئے، چیزیں بغیر ڈھکی ہوئی، سگریٹ پیتے اور پان کھاتے باورچی، نانبائی، شیف وغیرہ۔ چھریوں کو پاؤں سے پکڑ ے قصائی۔ مشہور ترین نام مگر صفائی کا بحران، برتن ٹوٹے ہوئے، تھڑے تیل سے لتھڑے ہوئے، فرش مٹی سے اٹے ہوئے۔
ان مناظر کے پیچھے جس کو کچن یا بھٹی یا کارخانہ کہا جاتا ہے اس کا تو خیر کوئی ذکر ہی نہیں
جناب والا: یہ سب کچھ ٹھیک ہے مگر وقت کے ساتھ ہرگز نہیں ہے۔ ہمارے ملک میں ہر پانچواں آدمی ہیپاٹائٹس کا مریض ہے، شوگر والوں کا تو کچھ ہی نہ پوچھیئے، نزلہ زکام قومی مرض، پسینہ بہانا اور ہاتھوں سے نچوڑ کر پھینکا عام سی بات، تھوک بلغم پھینکنا بالکل غیر معیوب سمجھا جاتا ہے مگر اب ان کا تدارک ہونا چاہیئے۔ آپ کتنا کماتے ہیں ؟ اس کمائی کا 0.001 فیصد اپنے منظر، مظاہر اور دکھاوے پر لگائیے۔ اپنی بیماریوں کو اپنے گاہکوں میں منتقل نہ کیجیئے۔ اپنے نام کو اچھا کیجیئے، اپنے ملک کیلیئے باعث شرم نہ بنیئے۔
ایسے میں صارف اور خریدار کی بھی کچھ ذمہ داریاں ہیں : دیگوں میں ابال کر سٹے بیچنے والوں کو ہاتھ ڈال کر سٹے اٹھاتا دیکھیئے تو بتائیے کہ اس کا حل ایک چمٹا خرید لینا بھی ہے،
چھلی پر مصالحہ لگانے کا کام گاہک پر ہی چھوڑ دیجیئے کہ جو میل دیگ میں دھلنے سے بچ گئی تھی اسے اب رگڑ رگڑ کر سٹے پر پر تو نہ لگائیے۔ صبح ایسے حاجی /حافظ/شیخ حضرات جو ناشتہ لگاتے ہیں ان کے پوریاں بنانے والوں کو شرم دلائیے جو بغیر منہ دھوئے پیسنے میں شرابور بنانیں پہنے پوریاں بناتے ہیں۔ جس شخص کے کاروبار میں ڈسپوزیبل چیزیں لگا لینے کی گنجائش ہو اس سے ڈسپوزیبل برتنوں کا تقاضہ کیجیئے۔ دہی بھلے، گول گپےاور چائے والے بہت سدھار چاہتے ہیں۔ اپنے بچوں کو چیزیں گھر میں بنا کر دیجیئے، بچوں کو گندگی سے نفرت دلائیے۔ اپنی صحت کا خیال رکھیئے اور اپنے بچوں کو صحتمند شہری بنائے۔
کیا آپ جاننا چاہتے ہیں کہ یہاں پر کھانا بنانے والے کیسی کیسی حفاظتی تدابیر کرتے ہیں؟ شیف کو ہیئر نیٹ یا کیپ لگی ہوئی ۔ بالوں کو خواہ وہ داڑھی کے ہی کیوں نہ ہوں ان پر کور چڑھا ہوا۔ ایپرن کا لازمی استعمال، کھانوں میں پکانے والے کی سانسیں شامل نہ ہوں کیلیئے پلاسٹک کا ماسک۔ کھانا اٹھانے کیلیئے ہر چیز کا علیحدہ کفگیر۔ ہاتھوں پر لازمی دستانے۔ کھانے پر ہرگز ہرگز انسانی لمس نہ ہو۔ حفظان صحت کے اصولوں کا سختی سے نفاذ۔ کچن میں کام کرنے والوں کا میڈیکل ٹیسٹ اور ان کا صحتمند ہونا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں