مذہبی نہیں سماجی مسئلہ – عبدالسمیع قائمخانی




پہلی تصویر شکارپور کی ڈاکٹر راجکماری تلریجا کی ہے اور دوسری تصویر لکھی غلام شاھ کا سب انسپیکٹر(اینٹی انکروچمنٹ) آغا سراج خان ہے.
دونوں کا تعلق کئی سالوں سے تھا. دونوں ہی کے گھر والوں تک کو معلوم تھا کہ ان دونوں کا کتنا گہرا تعلق ہے. لڑکے کو ڈاکٹر صاحبہ کے تمام گھر والے اس حد تک جانتے تھے کہ سراج خان کئی مرتبہ انکے گھر جاکر اہلخانہ سے مل چکا تھا.
ہر کوشش کے بعد دونوں کی شادی نا ہوسکی. ڈاکٹر صاحبہ کی شادی اپنی ہی برادری کے بہت بڑے کاروباری اور کینیڈا کے رہائشی سے طے ہوگئی. شادی سے چار پانچ روز پہلے سراج نے ڈاکٹر صاحبہ کو آخری ملاقات کے لئے بلوایا. سکھر سے شکارپور ڈاکٹر صاحبہ کو لینے گیا.
سکھر کے قریب سراج نے پہلے راجکماری کو اور پھر خود کو گولی مارلی. یہ قتل تھا یا دونوں نے خودکشی کی نیت سے ہی یہ ملاپ رکھا معاملہ ابھی تک حل نہیں ہوا…. (اللہ سب کی اولاد کے ساتھ خیر والا معاملہ فرمائے)
لیکن اس کیس پر نہ کوئی احتجاج ہوا، نہ ٹیوٹر ٹرینڈ بنا اور نہ ہی ہماری این جی اوز اور انکے تنخواہ داروں کو بخار آیا….
بچیوں کا اسلام قبول کرنا، شادیاں کرنا اور حفاظت کے لئے کسی طاقتور کی پناہ میں جانا مذہبی نہیں سماجی مسئلہ ہے. لیکن اسے مذہبی مسئلہ اسلئے بنایا جاتا ہے تاکہ دیسی لبرلز pseudo liberals کے ریٹ اچھے لگ سکیں.
تھر پارکر میں ہمارے سینکڑوں کولہی، بھیل، میگھواڑ اور دلت ہندو بھائی احمدی /قادیانی مذہب اختیار کررہے ہیں، انکے بچے بچیوں کی شادیاں بھی وہیں ہوتی ہیں لیکن آپکے کبھی کوئی احتجاج سنا؟
رینہ اور روینہ کے کیس میں بھی ابھی تک کوئی ثبوت نہیں پیش کیا گیا کہ بچیاں اغواء ہوئی ہیں یا زبردستی مذہب تبدیل کروایا گیا ہے. جبکہ ایسے درجنوں ثبوت ہیں کہ بچیاں گھر سے شادی کے لئے ہی نکلی ہیں (یہ عمل بھی غلط ہے). ویڈیو اور تصاویر سے بھی یہ بات ثابت ہے کہ بچیوں کی عمر 12 یا 13 سال نہیں ہے.
اگر کوئی اسے اغواء یا زبردستی مذہب کی تبدیلی کا کیس ثابت کردے تو ہم سوشل میڈیا پر ان لوگوں سے بڑھ کر اس ظلم کے خلاف جاندار تحریک چلانے کی اہلیت رکھتے ہیں.

اپنا تبصرہ بھیجیں