میں جینا چاہتا تھا آپ کے بچوں کی طرح – احسان نسیم




میں جینا چاہتا تھا آپ کے بچوں کی طرح ،
میں پڑھ لکھ کر آگے بڑھنا اور کچھ بننا چاہتا تھا
آپ کے بچوں کی طرح، میری ماں کے بہت سارے ارمان تھے ان ارمانوں کا وقت سے پہلے گلہ گھونٹ دیا گیا،
بچپن میں یتیم ہوگیا، لیکن خودار باپ کا بیٹا اور عزت دار گھرانے کا سپوت تھا، اس لیے بدنامی اور رسوائی کا داغ لیے میں مزید جی نہیں سکتا تھا،
اس لئے میں نے اپنی زندگی کا چراغ گل کر دیا،
جس دن میں نے اپنی زندگی کا خاتمہ کرنا تھا اس روز میں نے قبرستان آکر والد کے قبر کے سرہانے بیٹھ کر ان سے مشورہ کیا، انہیں پوری داستان سنائی کہ میں کیونکر یہ انتہائی اقدام اٹھا رہا ہوں، وحشی درندوں کی ہر بات ہر چال سے انہیں خبردار کیا، اس دن میں بہت رویا میرے والد مرحوم بھی قبر میں رو رہے تھے، وہ مجھے خودکشی جیسے انتہائی اقدام سے منع کر رہے تھے، لیکن مجھے سماج کے رویوں سے بدبو آنے لگی تھی، اس لیے اپنی زندگی تمام کر دی
مجھے پتہ ہے کہ میری جدائی میری ماں اور میرے گھر والوں کیلئے کسی قیامت سے کم نہیں ہوگی، لیکن میں کیا کرتا، مجھے وحشی درندوں نے اپنی حوس کا نشانہ بنانے کیلئے اس قدر مجبور کر دیا تھا، کہ میرے پاس خود کو ختم کرنے کے علاوہ کوئی چارہ نہ تھا، انہوں نے میری قابل اعتراض حالت میں تصاویر بنوائی تھی، جس کے باعث وہ مجھے بلیک میل کرتے رہے، مجھ کو جنسی تعلقات قائم کرنے کیلئے بار بار مجبور کر رہے تھے،
قسم خدا کی میں تو جینا چاہتا تھا، میرے بھی بہت سارے ارمان تھے، مجھے بھی زندگی سے پیار تھا، میں نے بہت سارے خواب کل کیلئے سجائے رکھے تھے، لیکن ان ظالموں نے مجھے جینے نہیں دیا، میں تو چلا گیا اپنے رب کے پاس، لیکن اس معاشرے میں کھلے ننھے منے پھول اور بھی ہیں، انکو وحشی درندوں سے خطرہ ہے انہیں آپ لوگوں نے بچانا ہے
، اور ہاں اس قسم کے درندوں کی طرفداری ہرگز مت کرنا کیونکہ یہ وحشی درندے اللہ تعالیٰ کو سب سے زیادہ ناپسندیدہ ہے، کہی ایسا نہ ہو کہ انکی طرفداری کرتے ہوئے آپ کا ایمان ضبط ہو جائے، اور ہاں ایک اور کام کی بات، معاشرے میں اس قسم کے واقعات کو روکنے کیلئے ضروری ہے کہ ظالم کا ساتھ نہ دیا جائے کھل کر اس کو بُرا کہا جائے اگر اتنی قدرت نہ ہو تو کم از کم دل سے اسے بُرا سمجھا جائے اور یہ ایمان کا سب سے کم درجہ ہے، والدین کو چاہیے کہ وہ اپنے بچوں پر کڑی نظر رکھے، اس کے ساتھ ساتھ بچوں میں حوصلہ پیدا کریں، اگر خدانخواستہ آپ کے بچے کے ساتھ اس قسم کا واقعہ پیش آئے تو میری طرح انتہائی اقدام اٹھانے کے بجائے اپنے والدین کو آگاہ کریں یہ ترغیب سارے والدین اپنے بچوں کو لازمی دیں، آپ سب لوگوں کو پتہ ہوگا کہ مجھے خودکشی پر مجبور کرنے والے قانون کے گرفت میں آ چکے ہیں،
عدالت کے سامنے انہوں نے اپنے جرم کا اعتراف بھی کر لیا ہے، اب دیکھنا یہ ہے کہ کون مجھ مظلوم و مقتول کا ساتھ دیتا ہے اور کون وحشی درندوں کا ساتھی بن کر آنیوالے وقتوں میں اس قسم کے واقعات کیلئے راہ ہموار کرتا ہے،

اپنا تبصرہ بھیجیں