عہد کا تغیّر – عالیہ زاہد بھٹی




“سنو مسز کاشف کے ہاں دوبارہ بےبی آنے والا ہے” سدرہ نے گویا دھماکہ کیا”کیا؟؟؟؟” ناہید کے کی بورڈ پر چلتے ہاتھ رک گۓ
“ان کے آلریڈی سات بچے ہیں سب سے بڑا بیٹا 18سال کا اور سب سے چھوٹا 3سال کا” وہ دونوں ایسے پریشان تھیں کہ گویا یہ آنے والا  ۔ ۔بےبی ان کو پالنا پڑے گا۔  اس پر اب ان کے تبصرے شروع ہو چکے تھے ان کی اور ان کے میاں کی عمر کا اندازہ کر کے سوچا جارہا تھا کہ آیا وہ یہ بچہ خود پال سکیں گے یا اس سے پہلے ہی مر جائیں گے۔

اسی طرح ایک اور تبصرہ کہیں اور سنا تھا۔ “سنو کوئی خوش خبری آئی  تمہارے بھائی کے گھر”۔ “نہیں بھئ ابھی تک انتظار میں ہیں شادی کو 20سال ہوگۓ اولاد نہیں”۔ “ہاآآآ” سامنے سے افسوس بھری آہ کے ساتھ مشورہ۔۔۔۔۔۔ “تم لوگ دوسری شادی کردو ناں بھائی کی” اب مزے کی بات اس میں یہ کہ یہی خاتون مسز کاشف کے آٹھویں بچے پر ان کی زندگی اور موت کے درمیان فاصلہ ناپ کر مشورہ دے رہی تھیں کہ”اب بس !”  اور اس طرف اسی عمر کے حامل بھائی صاحب کی دوسری شادی کا مشورہ دے رہی تھیں أ۔ یہ آج اس معاشرے کا عمومی رویہ ہوگیا ہے کہ جہاں عدالتی نظام ناانصافی پر مبنی ہے جہاں برداشت کا یہ عالم ہے کہ چھوٹی چھوٹی باتوں پر جانیں لی جارہی ہیں کل ہی میری بیٹی بتا رہی تھی کہ اس کی فرینڈ کا نیا بھائی دنیا میں آیا ہے اور اس نے اس بات پر اپنے والدین کو خوب باتیں سنائی ہیں کہ اسے ان کی اس”حرکت”سے کتنی شرمندگی اٹھانی پڑی ہے کہ وہ 9بہن بھائی ہیں ایک سال پہلے اس کی منگنی ہوئی ہے اور وہ یہ بھی سوچ رہی ہے کہ اگر اس کے والدین میں سے کوئی ایک یا دونوں مر جائیں تو اس نۓ بھائی کو کون پالے گا یہ اور اس طرح کی سوچیں،باتیں تو ہم کبھی خواب میں بھی نہیں سوچتے تھے ۔

کوئی ان سے پوچھے کہ جب تم جیسی پہلی اولاد کو جنم دیا تھا کیا تب موت تمہارے والدین کا تعاقب نہیں کر رہی تھی کیا تمہیں پیدا کرتے ہوئے انہوں نے نہیں سوچا تھا کہ اسے ہم پال سکیں گے ؟ کیا آقا صلی اللہ علیہ وسلم کی والدہ کو پتہ تھا کہ وہ یتیم بچے کو جنم دینے والی ہیں۔ کیا پہلے بچے کی پیدائش کے دو ماہ بعد جسکا باپ یا ماں مر جائے وہ غلط پلاننگ کر بیٹھے تھے؟
کیا 8اکتوبر 2005 کے زلزلہ زدگان اپنے سارے چھوٹے بڑے بچے پروان چڑھا کر مرے تھے؟ کیا اولاد کی آس میں 60سال کی عمر میں دوسری شادی کرنے والا سوچتا ہے کہ وہ اسے پال سکیں گے ۔ کیا پہلے اور آخری بچے کی پیدائش پر زندگی کی گارنٹی ملتی ہے
اس طرح کی بے فیض اور بےدید اولادوں کی بکواس سن کر تو زیادہ دل چاہتا ہے کہ بہت سارے بچے ہوں کوئ تو فرمانبردار نکلے گا جتنی زیادہ تعداد اتنی ہی مغفرت کی دعائیں، ۔ مگر مغفرت کا تصور ہو تو ناں۔  جتنی زیادہ اولاد اتنے زیادہ بخشش کو اٹھتے ہاتھ،۔ مگر یہ لبرل لابی کی اولاد اس بات کو سمجھے تو ناں ۔۔۔ یہ تو مولانا مودودی کی کہی وہی بات ہوگئ کہ یہ نسل خود تو دنیا کی اس ٹرین میں چڑھ گئ ہے اور چڑھنے کے بعد ٹرین کے سارے دروازے بند کر کے کہتی ہے کہ بس اب اور کوئ نہیں آۓ گا۔ کوئی ان سے پوچھے کہ کیا ہی اچھا ہوتا کہ تمہارے ماں باپ تمہیں ہی پیدا نہ کرتےتو تم اتنی بڑی بڑی باتیں کرنے والے آج ہوتے؟

یہ کس لابی کے تحت ہمارا انداز فکر تبدیل کیا گیا؟ یہ کونسی نسل پروان چڑھ رہی ہے جو آج والدین کے منہ کو آرہی ہے ہم نے تو دیکھا کہ ہمارے چھوٹے چچا ہمارے تایا ابو کے سب سے چھوٹی بیٹی کے برابر کے تھے،ہماری چچی ساس کا بیٹا ان کے بھائی سے ایک سال بڑا ہے ہمیں تو ان باتوں پر کبھی حیرت نہیں ہوئی کیونکہ ہمیں تعجب دلایا نہیں گیا  ہمارے لئے یہ ڈوب مرنے کا مقام ہوتا تھا کہ کسی لڑکی نے والدین کی مرضی کے بغیر شادی کرلی،یا کوئی بیٹا نافرمان ہوگیا،کسی کے گھر والے بے پردہ ہیں،کوئ والدین بہت آزاد ہیں بچوں کے ساتھ بیٹھ کر فلمیں دیکھتے ہیں ،لڑکی کے سر پر دوپٹہ نہیں تھا ،فلاں کے بچے دیر سے سوتے اور دیر سے جاگتے ہیں وغیرہ وغیرہ مگر آج ہماری ترجیحات بدل دی گئیں ہیں خدارا آنکھوں کو کھول کر دشمن کے وار کا مقابلہ کریں اپنی غلطیوں کی اصلاح کر کے اپنے اصل کی طرف واپس پلٹیں
اٹھو وگرنہ حشر نہیں ہوگا پھر کبھی ۔ دوڑو زمانہ چال قیامت کی چل گیا

اپنا تبصرہ بھیجیں