سردیاں، ماں باپ اور خدا




سردیاں آتیں تو گھروں میں کمبل، لحاف اور رضائیاں نکل آتی ہیں۔ بچے چونکہ زیادہ نازک ہوتے ہیں، اس لیے مائیں ان کو اہتمام سے گرم کمبل میں ڈھانپ کر سلاتی ہیں مگر بچے بچے ہوتے ہیں۔ رات کو کسی موقع پر اگر کمبل انھیں زیادہ گرم کردے تو وہ اسے اتار کر پھینک دیتے ہیں۔
یہ کام بڑے بھی کرتے ہیں، مگر ٹھنڈ لگنے پر وہ خود ہی کمبل اوڑھ لیتے ہیں،مگر بچے اپنی گہری نیند میں مدہوش، ٹھنڈ میں پڑے سکڑتے رہتے ہیں۔ایسے میں ماں یا باپ میں سے کسی کی آنکھ رات کے کسی پہر کھلتی ہے اور وہ اپنے بچے یا بچی کو سردی میں کھلا ہوا دیکھتا ہے تو اسے فوراً کمبل سے ڈھانک دیتا ہے۔ ہر وہ گھر جہاں بچے ہوں، والدین سردیوں میں اسی تجربے سے گزرتے ہیں۔ مگر کچھ لوگ ہوتے ہیں جن کے لیے یہ تجربہ خدا کی معرفت کا ایک منفرد تجربہ بن جاتا ہے۔ ایسے لوگ جب رات کے پچھلے پہر اپنے بچے کو کمبل اڑھاتے ہیں توان کو یاد آجاتا ہے کہ وہ بھی خواہشات کی تپش کا شکار ہوکر تقویٰ کا لباس بار بار اتار پھینکتے ہیں۔ مگر ان کا رب اتنا کریم ہے کہ ان کے گناہوں پر ان کو دھتکارنے کے بجائے، ان کی غفلت پر انھیں لتاڑنے کے بجائے خاموشی سے انھیں توبہ کی توفیق دیتا ہے اور تقویٰ کا لباس ان کو دوبارہ پہنادیتا ہے۔
یہ احساس ان کو تڑپا دیتا ہے۔ ان کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگتے ہیں۔ وہ سراپا دعا بن جاتے ہیں کہ اے ہمارے شفیق رب! ہمارے مہربان آقا! ہم گناہ کرکے بھول جاتے ہیں، ہم غفلت کی نیند میں مدہوش ہوکر تیری رحمت کا کمبل اتار پھینکتے ہیں۔ مگر تو ہمیں نہیں بھولتا۔ کل قیامت کے دن کی رسوائی سے بھی ہمیں بچالے۔ یہ فریاد رات کے سناٹے کو چیر کر عرش تک پہنچتی ہے اور روز قیامت ان کی ہر رسوائی کو خدا کے قرب میں بدلنے کا سبب بن جاتی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں