مخلص اور باہمت رہنما – عالیہ عثمان




ہندوستان کی ہزار سالہ سلطنت سے محروم ہو جانے کے بعدجب ہندوستانی مسلمان فرنگی سامراج اور ہندوؤں کی چیرہ دستیوں کا شکار ہو کر اپنے ملک میں ذلت آمیز غلامی کی زندگی گزار رہے تھے تو انهیں ایسے سیاسی رہنما کی ضرورت تھی جو ان کی ڈگمگاتی ہوئی کشتی کو سہارا دے کر ساحل مراد تک پہنچا دے.
ایسے عالم میں اللہ تعالی کی رحمت جوش میں آئی اور اس نے قائد اعظم جیسا دردمند مخلص اور باہمت رھنماعطا فرمایا جس نے مسلمانان ہند کی قیادت اپنے ہاتھوں میں لیتے هوے تمام تر کوششیں انہیں متحد کرنے کے لئے صرف کردیں
ملت اسلامیہ ہند کو اپنے محبوب قائد کی رہنمائی میں ہمیں اس کی سیاسی جدوجہدکا ثمر ملا اور پاکستان ایک زندہ حقیقت بن کر دنیا کے نقشے پر ابھرا،پاکستان کی تشکیل تاریخ عالم کا ایک سنہری باب ہےاس بات کی ہر سطر میں ہمیں قائد اعظم کا نام جلی حروف میں لکھا نظر آتا ہے قائداعظم جیسے جلیل القدر رہنماروز روز پیدا نہیں ہوتے ہیں ان کا نام دنیا کی تاریخ میں صف اول کے سیاسی رہنما کی حیثیت سے ہمیشہ زندہ رہے گا،قائد اعظم محمد علی جناح 8 ذولحجہ ۱۲۹۳ با مطابق۲۵ دسمبر ۱۸۷۶کراچی میں پیدا ہوئے ان کے والد کا نام جناح پونجا تھا اور کراچی میں بزنس کرتے تھے…
قائداعظم کی ولولہ انگیز قیادت میں ہندوستانی مسلمانوں نے اتحاد تنظیم اور یقین محکم کا سبق سیکھااور ہندوستان کے گوشے گوشے میں یہ آواز گونجنے لگی کہ مسلمان اپنی مخصوص تہذیب مذہب اور معاشرتی اقتدار کے لحاظ سے ایک الگ قوم ہیں قائد اعظم محمد علی جناح ایک جدید ذہن کے حامل سیاستدان تھےانہوں نے وکالت کی تعلیم کی غرض سے جو عرصہ انگلستان میں گزارا وہ ان کے ذہن کی تشکیل اور ان کے سیاسی تصورات کی تعمیر میں بہت مددگار ثابت ہواانہوں نے برطانوی پارلیمانی نظام کا تفصیلی مطالعہ کیا ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی دیکھا کہ برطانیہ میں مذہبی انتشار کو حل کرنے کے لیے کیا اقدامات اٹھائے گئے اور یہ کہ ریاست میں خود کو مذہبی امور کے حوالے سے مکمل طور پر غیر جانبدار رہ کر ساتھ ہی مذہبی آزادیوں کی ضمانت فراہم کر کے معاشرے کو کس طرح دائمی امن سے ہمکنار کردیا ہے،
ہندوستان واپسی پر قائداعظم نے جب عملی سیاست میں حصہ لینے کا فیصلہ کیا تو ابتداء ہی میں ایک بہت بڑا سوال ان کے سامنے آ کھڑا ہواہندوستان میں مسلمان ایک اقلیت کی حیثیت سے رہتے تھے چناچہ انہوں نے مسلمانوں کے لئے کسی بھی سیاسی جدوجہد میں ایک ایسی نمائندگی کی تجویز پیش کی جو ان کی اقلیتی حیثیت کی بنا پر نظر انداز کر دیے جانے سے محفوظ رکھ سکیں گے اس لئے وہ ہندوستان میں مسلمانوں کی تقریبا 24 فیصد آبادی کے لیے مرکزی قانون ساز اسمبلی33 فیصد نمائندگی کی وکالت کرتے رہے آخر یہ آواز پوری قوم کی آواز بن گئی اور 23 مارچ 1940 کو لاہورکے ایک عظیم الشان اجلاس میں پاکستان کی قراردادمنظور ہوئی جس میں ہندی مسلمانوں کے لیے ایک جداگانہ آزاد مملکت کا مطالبہ کیا گیاتھا
اس قرارداد سے ہندو اور انگریز تلملا اٹھےمصائب کے طوفان اٹھے مگر قائداعظم مخالفت کے ان طوفانوں کے مقابلے میں عزیمت و استقامت کا گہوارا بن کر ڈٹے رہےبلآخر 14 اگست 1947 کو پاکستان عالم وجود میں آیا اور قائداعظم اس مملکت کے پہلے گورنر جنرل مقرر ہوئے پاکستان دنیا کے نقشے پر ابھرا تو مسلمانان ہند کو بظاہر ان کی منزل مل گئی لیکن تعمیر پاکستان کا مسئلہ یعنی اصل کام ابھی باقی تھا لٹے پٹے مہاجرین کے قافلے خون کے دریا میں نہائے ہوئے پاکستان پہنچ رہے تھےقائد اعظم نے مہاجرین کی آبادکاری اور تعمیر وطن کے لیے دن رات کام کیا اپنی کمزور صحت اور بڑھاپے کے باوجود ملک کی ترقی اور فلاح و بہبود کے لئے بڑی سرگرمی کے ساتھ مصروف عمل رہےوہ جلیل القدر انسان جس کی گرمی گفتار سے افسردہ دلوں کو نئی زندگی ملتی تھی زندگی کا سفر نہایت کامیابی سے طے کرکے 11ستمبر 1948ءکو انتقال کرگئے.
قائداعظم نے پہلے قانون کی تعلیم حاصل کی وہ ایک قابل اور جہاندیدہ وکیل تھے انہوں نےکالے کوٹ کی عزت کا مان رکھاآج جو وکلاء نےاپنے جوہر دکھائےکارڈیو ہسپتال پر حملہ کرکے انسانیت کا سر شرم سے جھکا دیا ہےپاکستان کے بانی نے یہ معزز پیشہ اختیار کیا ان کی روح بے چین ہو گی یہ ملک اسلام کے نام پر قائم ہوا تھا اس میں اسلامی نظام نافذ نہیں ہوا انسانیت تو زندہ رہنی چاہیےـ ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ ہم انسانوں کی بھیڑ نہیں ہیں، بلکہ ایک منظم اور باوقار ملت ہیں ـ جس کی تنظیم مشترک، انداز فکر و نظر مشترکہ خیالات اور مشترکہ تہذیب کے جاودانی رشتوں کے ساتھ کی گئی ہے.
افراد کے ہاتھوں میں ہے اقوام کی تقدیر
ہر فرد ہے ملت کے مقدر کا ستارہ

اپنا تبصرہ بھیجیں