چغل خوری ـ ندا الیاس




“غیبت”
چند دنوں پہلے ہی کی بات ہے کالج میں وقفے کے وقت میں دوستوں کے گروپ کے ساتھ بیٹھی تھی ۔ لنچ بھی چل رہا تھا اور ساتھ ہی ساتھ گپ شپ بھی ۔اسی دوران اپنی ایک اور ساتھی کا ذکر آیا جو اس دن غیر حاضر تھی ۔اس کے ایک تازہ ترین معاملے پر سب نے تبادلہ خیال شروع کیا ۔ یہاں سے بات آگے بڑھ کر یہاں تک پہنچی کے سب نے کھا
“اگر میں اسکی جگہ ہوتی تو ایسا نہ کرتی بلکے ایسے کرتی ۔”
“ارے اسکی تو عادت ہی ہے ہر بات کو exaggerate کرنے کی”
“وہ تو ویسے بھی بد تمیز سی ہی ہے۔”
میں جو سرسری انداز میں سب کی باتیں سن رہی تھی ذرا چونکی ، دل میں کچھ کھٹکا سا ہوا ۔”یا اللّه یہ تو غیبت ہوئی نا ۔”
پیارے نبیؐ نے فرمایا :
“تمہیں معلوم ہے کے غیبت کیا ہے ؟صحابہؓؓ نے عرض کیا کے اللّه اور اسکا رسولؐ زیادہ جانتے ہیں ۔ آپؐ نے فرمایا کے تمہارا اپنے بھائی کا اس طرح ذکر کرنا جو اسے ناگوار ہو ۔ عرض کیا گیا اگر میرے بھائی میں وہ بات موجود ہو جو میں کہہ رہا ہوں ۔آپؐ نے فرمایا اگر اس میں وہ بات موجود ہو جو تم کہہ رہے ہو تو تم نے اسکی غیبت کی اور اگر اس میں وہ بات موجود نا ہو جو تم کہہ رہے ہو تو تم نے اس پر بہتان باندھا “(مسلم)
وقفہ ختم ہونے اور پھر گھر آنے کے بعد بھی افسوس ہوتا رہا کے کاش میں حکمت سے ان کو سمجھاتی ۔میں ایمان کے اس آخری درجے سے آگے بڑھ پاتی جس میں برائی کو صرف دل میں برائی جانا جاتا ہے ۔
سمجھنے کی بات یہ ہے کے اگر کوئی برائی کسی میں موجود ہے بھی اور اس نے فلاں موقع پر غلط ردعمل ظاہر کر بھی دیا ہے تو میں کون ہوتی ہوں اس کو judge کرنے والی ۔مجھے آخر کس نے یہ حق دیا ہے کے میں اسکے ذاتی معاملے پر اور خود اسکی ذات کے بارے میں اپنی راۓ پیش کروں۔
اگر میں واقعی اسکی خیرخواہ ہوں تو مجھے تخلیے میں اسے حکمت سے بات پہنچا دینی چاہئے نا کے اوروں کے سامنے اسکی کمیوں کا تذکرہ کروں جس سے سراسر نقصان میرا ہی ہے کیونکے گناہ میں ہی سمیٹ رہی ہوں ۔
اللہ ربّی ہمیں اپنے ساتھیوں کے عیبوں کی پردہ داری کرنے والا اور ایک دوسرے کی پرحکمت اصلاح کرنے والا بنائے ۔(امین )
ندا الیاس

اپنا تبصرہ بھیجیں