بچے سب کےسانجھے – ام عبداللہ




سانحہ آرمی پبلک اسکول پشاور کا دلدوز واقعہ اس میں شہید ہونے والے معصوم بچے جو کہ ہمارے ملک کا سرمایہ والدین کی آنکھوں کی ٹھنڈک اور نور تھے ان سے جدا کردے گنے اللہ والدین کو صبر جمیل عطا فرمائے اور اس کا اجر دنیا و آخرت میں عطا فرمائےآمین یہ سانحہ ہم کبھی نہیں بھول سکتے کیو نکہ ہر سال میڈیا و دیگر خصوصی پروگرام ، نغمہ کے زریعہ سے ہمارے دلوں میں ان کی یاد تازہ کر دیتے ہیں .
آرمی پبلک اسکول کے یہ بچے بیشک ایک خاص مقام وحیثیت رکھتے ہیں اور ان کی اس عظیم شہادت کو خراج تحسین پیش کرنا حق ہے مگر بچے تو سب سانجهےہوتے ہیں یہ خاص و عام نہیں ہوتےچاہے وہ اعلیٰ تعلمی ادارے میں زیر تعلیم ہو یاایک معمولی مدرسہ میں دین کی تعلیم حاصل کرتے ہومگر افسوس کہ جب غریب کا بچہ کسی سانحہ میں شہید ہو جاے تو ان کی کوئی اہمیت نہیں میڈیا بھی چلتے پھرتے خبر چلا کر بھول جاتا ہے جب کہ پاکستان کا سرمایہ وہ بچے بھی تھے جوباجوڑ وزیرستان کےمدرسوں اورلال مسجد میں اللہ کےدین کی تعلیم حاصل کرر ہے تھےوہ معصوم بھی تو ماں کی انکھوں کا نور تھے گل کردیےیہ چراغ اپنوں نے اوروں کے ہاتھوں امریکہ کی بےحسی اور درندگی کے ہاتھوں بیچ دیا انکا قیمتی لہو مدرسوں کو ٹارگٹ کرکےڈورن حملوں سے بمباری ملبےتلے دبی معصوم لاشے آہ کیا یہ بچے نہیں تھے انکو کیوں بھلادیا .
آج ماڈرن ولبرل معاشرے نے انکو خراج تحسین پیش کرنے کے لئےنہ کو ئی پروگرام نہ کوئی نغمہ وقت کہ حاکموں نے خود تو ظلم ڈھائے ہی ڈھائے اپنا مفاد پانے کیلئے دشمن کو اپنے گھرمیں دعوت دی کہ آو کر لو جو کرنا چاہتے ہو بس تم میرا خیال کرو باقی سب خیر ہےاے بےغیرت ومفاد پرست حاکموں کب تک آخرکب تک تم بےگناہ معصوم جانوں سے کھیل کر عیش وعشرت کی زندگی پاسکتے ہو ایک دن رسی کھینچ لی جائے گی بےشک میرا رب حساب لینے میں دیر نہیں کرتاتم نے سب بھلادیا مگر وہ منصف اعلی تمہیں بھولنے نہیں دے گا ارشاد ربانی ہے “اے زمین کہ بوجھو!عنقریب ہم تم سےباز پرس کرنے کیلئے فارغ ہوئے جاتے ہیں( الرحمان) آج ہم آرمی پبلک اسکول ،وزیرستان، لال مسجد اور ان تمام معصوم شہداء جو اپنوں اور غیروں کے ظلم کا نشانہ بنے خراج تحسین پیش کرتے ہیں کیونکہ “بچے سب کہ سانجھے ہیں”

اپنا تبصرہ بھیجیں