قائد اعظم ہم شرمندہ ہیں ـ صائمہ وحید




عنوان۔۔اے روح قائد،ہم شرمندہ ہیں۔۔!
ٹی وی پر چلتے قومی نغمے نے دل کو جھنجھوڑ دیا۔۔
اے روح قائد آج کے دن،ہم تجھ سے وعدہ کرتے ہیں۔۔
آکاش کی حد کو چھو لیں گے، تارے بھی زمیں پر لائیں گے،
میرے آنسو بے اختیار بہہ رہے تھے۔۔اسلامی مملکت کی تعمیر کا خواب دیکھا تھا۔آج ادھورا تھا۔۔؟گلوکار کی آواز ہر سو پھیل رہی تھی۔۔۔
کردیں گے عمل سے بھی ثابت،باتیں تو ہمیشہ کرتے ہیں
اے روح قائد آج کے دن ہم تجھ سے وعدہ کرتے ہیں
آج قائد اعظم کا یوم پیدائش ہے ہر سال 25 دسمبر کو تقریری،وعدے،باتیں ہی تو ہوتی ہیں ۔قائد اعظم جارہا سبق،اصول تو ہم نےکب کے فراموش کردئے۔۔
۔قائد اعظم نے کہا تھا “آپ کا فرض ہے۔اس مملکت کو ذیادہ سے ذیادہ مضبوط بنائیں۔کیونکہ پاکستان،اسلامی ریاستوں میں سب سے بڑی ریاست ہے۔اور اسے اقوام عالم میں ایک خاص،اعلی مقام حاصل ہے “(24اگست۔1947۔بحیثیت گورنر جنرل پاکستان)
خدائے بزرگ و برتر نے۔برصغیر کی مثالی جدوجہد،قائد اعظم کی صالح قیادت میں پاکستان کی صورت میں ایک انمول خطہء سرزمین،نظریاتی مملکت سے نوازا تھا۔ایک عظیم زمہ داری سونپی تھی ۔۔کیا ہم نے پاکستان کی نظریاتی بنیادوں،جغرافیای سرحدوں کی حفاظت کی۔۔ ؟کیا عدل و انصاف،مساوات ،بھائ چارے کے اصول و قوانین کو رائج کیا،تاکہ پاکستان،عوام کو خوشحال،مضبوط،مستحکم کیا جائے ۔؟
جواب نفی میں ملتا ہے۔
بلکہ محض 24سال میں پاکستان کا ایک مضبوط بازو جدا کردیا گیا۔دنیا کی سب سے بڑی اسلامی ریاست کو دو ٹکروں میں منقسم کردیا۔چند ناعاقبت اندیشی ،حکمرانوں کی غفلت،خود غرضی، حماقت کے باعث مشرقی پاکستان ،بنگلہ دیش بن گیا۔۔۔قائد اعظم نے کشمیر کو پاکستان کی شہہ رگ قرار دیا تھا۔۔اج ہم ایٹمی طاقت ،دشمن کو منہ توڑ جواب دینے کے دعووں کے باوجود اپنی شہہ دگ،مقبوضہ کشمیر کو موذی،بھارت سے آذاد کرانے سے قاصر ہیں
قائد اعظم شاطر انگریز،عیار ہندو کے گٹھ جوڑ کے سامنے آہنی چٹان کی طرح ڈٹے رہے،دشمن کی سازشوں کو ناکام بناتے رہے۔۔ہمارے حکمران انگریز،ہندو،استعماری طاقتوں کے اگے، گھٹنے ٹیک کر، سر خم کئے، لقمہءتر بنے ہوئے ہیں۔حکمت معرب کے سامنے،ایمان کی چنگاری سے خالی راکھ کا ڈھیر ثابت ہورہے ہیں۔ ۔
۔قائد اعظم نے فرمایا تھا۔
“کون کہتا ہے۔پاکستان کے آئین کی اساس اسلامی شریعت پر نہی ہوگی۔جو لوگ ایسا کہتے ہیں وہ مفسد ہیں۔ہماری ذندگی میں آج بھی اسلامی اصولوں پر اسی طرح عمل ہوتا ہے۔جسطرح 13سو سال پہلے ہوتا تھا۔(25۔ جنوری،12ربیع الاول کے موقع پر۔۔)نام نہاد سیکولر دانش ور،معرب کے گرفتار محبت قائد اعظم،پاکستان کو سیکولر ثابت کرنے کی کوشش میں سرگرداں رہتے ہیں۔
قائد اعظم نے ابتدائی تعلیم سندھ مدرستہ الاسلام سے حاصل کی۔پھر لندن سے وکالت کی تعلیم حاصل کی،اپ نے لنز ان۔ Links In میں داخلہ اس لیے لیا ۔۔
اسکے دروازے پر “نبی صلیٰ اللہ علیہ وسلم” کا نام سر فہرست دیکھا۔۔۔
آپ نے سب سے کم عمر ہندوستانی بیرسٹر کا اعزاز حاصل کیا ۔اپ نے 1896 میں کراچی آکر وکالت کی پریکٹس شروع کی۔۔امانت،دیانت کو اپنا شعار بنایا۔۔اپ پہلے کانگریس میں شامل ہوے ۔مگر جب دیکھا ہندو صرف اپنے ذاتی مفاد،مسلمانوں کو دبانے کے لئے کوشاں ہیں۔تو مسلم لیگ میں شامل ہوئے۔۔قائد اعظم نے تاریخی”دو قومی نظریہ “پیش کیا۔جو آج بھی قائد اعظم کے فہم و ادراک ،سچائ،اخلاص، حقیقت کو باور کرایا ہے۔کہ “ہندو ،مسلمان دو الگ قومیں ہیں۔وہ کبھی ایک قوم نہی بن سکتے۔”۔۔۔
قائد اعظم کی بے لوث قیادت میں،انکے مخلص ساتھیوں علامہ محمد اقبال،لیاقت علی خان،سردار عبدالرب نشتر،نواب بہادر یار جنگ، مفتی اعظم میاں محمد شفیع، مولانا شبیر احمد عثمانی جیسے جانباز رفقاء کی مخلصانہ جدوجہد،سے عوامی تحریک برپا کرکے،تائید ایزدی سے ،کلمہء طیبہ کے سائے میں پاکستان حاصل کیا۔
قائد اعظم کے سوانح نگار اسٹینلے والپرٹ نے قائد اعظم کے بارے میں کہا۔۔۔”تاریخ۔ میں کم لوگوں نے جغرافیہ بدلہ۔اس سے بھی کم لوگ ایسے جنھوں نے تاریخ کے دھارے کا رخ موڑا۔اور تاریخ میں شاید ہی کوی ایسا ہو جس نے قومی ریاست قائم کی ہو۔قائد اعظم نے یہ تینوں کام بیک وقت انجام دئیے ۔”
قائد اعظم نے قوم کو “اتحاد، تنظیم،ایمان،یقیں محکم” کا سبق دیا تھا جو فراموش کردیا گیا ہے۔مسند اقتدار پر قابض نااہلوں نے، فرقہ پرستی،عصبیت،لسانیت کی سرپرستی،پروان چڑھا کر قوم کو منقسم، منتشر، مضطرب کرنے کا عمل جاری ہے۔۔ضروری ہے قوم کو متحد کرکے،اپنے اختلافات پس پشت ڈال کر سچی لگن،اخلاص کے ساتھ پاکستان کو اسلامی نظریاتی مملکت بنانے کی جدو جہد کی جائے۔یہی قائد اعظم کی فکر،نظریہ،پاکستان کا امن و استحکام ہے۔اللہ پاکستان کو قائد اعظم جسے اہل بصیرت۔ ،مخلص رہنما سیاستدان،لیڈر عطا کرے خدا قائد اعظم کے درجات بلند کرے۔آمین۔
صائمہ وحید۔کراچی۔۔

اپنا تبصرہ بھیجیں