سوشل میڈیا اور اس کے فتنے ـ عائشہ قریشی




سوشل میڈیا اور اس کے فتنہ ،
– ہر چیز کے اچھے اور برے پہلو ہوتے ہیں۔کوئی بھی چیز بذات خود بری یا اچھی نہیں ہوتی لوگوں کا استعمال اسے اچھا یا برا بنا تا ہے سوشل میڈیا بہت سے لوگوں کی نظر میں بہت بری چیز ہے۔
لیکن ہم اگر غور کریں تو معلوم ہو کہ ہم اس سے بہت زیادہ فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ہم فضول سرچنگ کے بجائے اگر اسکا صحیح معنوں میں استعمال کریں تو یہ ہماری بہت مضبوط آواز بن سکتا ہے۔آج کےدور میں فتنے ہمارے اردگرد پھیلے ہوئے ہیں۔ جیسا کہ ایک حدیث میں ارشاد ہے:
– بلاشبہ میں بارش کے قطروں کی طرح تمہارے گھروں کے درمیان فتنے گرتے ہوئے دیکھ رہا ہوں۔(ابو داؤد)
– اسی طرح سوشل میڈیا بھی تو ایک فتنہ ہی ہے۔ہمیں خو د کو اس فتنے سے بچاتے ہوئےاسے اپنے لیے فائدے مند بنانا ہوگا۔اگر ہم سوشل میڈیا استعمال کرنے بیٹھ رہیں ہیں تو اعوذ بالله اور دعائیں پڑھ کر بیٹھیں۔کوئی مقصد لے کر اسے استعمال کرنے بیٹھیں اور مقصد پورا ہوتے ہی اسے آف کر دیں، ورنہ یہ ہمیں جکڑ لے گا۔اس کے لیے اپنا وقت مقرر کریں۔اپنے اصولوں پر سختی سے عمل کریں۔
اخبارات اور رسائل میں ہم جو بھی لکھتے ہیں وہ خبر صرف ہما رے ملک تک ہی محدود رہتی ہے،لیکن آگر یہی خبر ہم سوشل میڈیا پر ڈال دیں تو وہ چند منٹوں اور گھنٹوں میں پوری دنیا میں پھیل جاتی ہے۔
– جوخبر پہلے پہنچنے میں پورا دن لگتا تھا اب وہ خبر منٹوں میں پہنچ جاتی ہے ۔گوگل جیسا اتنا بڑا سرچ انجن جس میں دنیا کی ہر طرح کی معلومات ہمیں چند سیکنڈذ میں معلوم ہو جاتی ہے، وہ ہمارے چند فنگر ٹپس پر ہوتا ہے۔لوگ سوشل میڈیا کے ذریعے گھر بیٹھے معقول ملازمت بھی حاصل کر لیتے ہیں۔
– فیس بک،انسٹاگرام اور واٹس ایپ پر ہم اگر اسٹیٹس لگانے اور فضول پوسٹس کرنے سے گریز کریں تو ہمیں معلوم ہو کہ یہ چیزیں کتنی فائدے مند ہیں۔ہم ان کے ذریعے اپنا پیغام پوری دنیا میں پھیلا سکتے ہیں،اہنا احتجاج ریکارڈ کروا سکتے ہیں،پوری دنیا میں دین کی تعلیم کو پھیلا سکتے ہیں۔اگر یہ چیزیں ہمارے دشمنوں نے بنائی ہے تو بجائے اس کو اپنے اوپر حاوی کرنے کےاس کے اوپر حاوی ہو جائیں ۔یہ تو ہماری لیے ایک ہتھیار ہونا چاہیے۔یہ تو آپ پر منحصر ہے کہ آپ اسے کیسے استعمال کرتے ہیں۔
عائشہ قریشی

اپنا تبصرہ بھیجیں