بوڑھا برگد – ثمینہ نعمان




میں گاوں کی کچی پگڈنڈی پہ اپنی پرانی سائیکل کے پیڈل پر تیزی سے پاوں مارتا ھوا گھر کی طرف رواں دواں تھا…. مئی کی جھلسا دینے والی گرمی اور لو کے تھپیڑوں نے اسکول سے گھر تک کا مختصر سا سفر انتہائی طویل کر دیا تھا.
دور ہی سے تایا رحمت کے گھر کے صحن میں لگا بڑا، گھنا اور سایہ دار درخت نظر آ رہا تھا… ہرا بھرا یہ درخت آنکھوں کو ٹھنڈک کا احساس دے رہا تھا، اور اس کے سائے کا تصور ہی گرمی کی شدت کو کم کرنے میں معاون ھو رہا تھا… اس درخت کی بھی بڑی برکت تھی، گھر کے اندر اس کے سائے میں چارپائیاں ڈلی رہتی تھیں، جن پر بیٹھ کے گھر کی خواتین گھر کے کام کاج مثلا سبزی کاٹنا، سلائی کڑھائی اور کروشیا بنانا اور سوئٹر بنا کرتی تھیں… اسی درخت کے نیچے مہمان داری بھی ھوتی تھی….ایک طرف اس کی ایک ڈال میں گاوں کی لڑکیوں کے لئے جھولا بھی ڈلا ھوا تھا….. جس پر فارغ اوقات میں گھر کی خواتین اور پڑوس کی بچیاں جھولا جھول کے اپنا دل خوش کیا کرتی تھیں…. درخت کے چوڑے تنے کے ساتھ تایا رحمت نے گولائی میں چبوترا بنوایا ھوا تھا….. جس پر مٹی کے دو صاف ستھرے گھڑے رکھے رہتے تھے….. چبوترے کے داہنی طرف مرغیوں کا دڑبہ تھا، جس میں مرغیاں رات میں ہی آرام فرماتی تھیں…. دن میں تو بڑے سے صحن میں چرتی چگتی پھرتی تھیں، جو کہ برگد کے سائے کی وجہ سے ٹھنڈا اور پرسکون رہتا تھا….
میں یہ تمام باتیں سوچتے ھوئے آخر تایا رحمت کے گھر کے باہر پہنچ گیا…. جہاں گھر کی چار دیواری کے باہر تک سایہ کرتے درخت کے نیچے گنے کے رس والا اور چھلی والا شام تک کھڑے آرام سے اپنا کاروبار چلاتے تھے…. میں بھی روز وہاں سے ایک گلاس رس پی کے تازہ دم ھو کے آگے گھر تک جاتا تھا…..
رس پیتے ھوئے مجھے احساس ھوا کہ اس برگد اور تایا رحمت کی زندگی میں بہت مماثلت ھے…….تایا رحمت بھی تو خاندان بھر کے لئے ایک شجر سایہ دار ھیں….. اپنے تمام بھائی بہنوں کے حقیقت میں بڑے ان کی ہر مشکل، ہر پریشانی میں کام آنے والے….. سب کے لئے چھتر چھاوں پھیلائے ھوئے، ان کی خوشیوں میں دل سے خوش ھونے والے….. رشتے داروں کے حقوق ادا کرنے اور روٹھوں کو منانے میں پیش پیش….. محلہ داروں سے اچھے تعلقات، ہاری مزارعوں کے دکھ درد کے ساتھی…… غرض وہ اپنے ذریعے ہر فرد کو نفع پہنچا کے خوش ھونے والوں میں سے ھیں….. گاوں کے کئی گھر ان کے زیر سایہ پرورش پا رہے تھے….. مجھ سمیت کئی بچوں کی تعلیم کے اخراجات ان کے مرہون منت تھے….
گاوں کا ہر فرد، ہر بچہ ہر خاندان ان کی صحت اور زندگی کے لئے دعاگو رہتا….اور یہی وجہ ھے کہ ماشا اللہ لمبی عمر کے ساتھ اللہ تعالی نے انہیں صحت والی خوشیوں بھری زندگی عطا کی ھوئی تھی…..
میں بھی اپنے بھائی بہنوں میں سب سے بڑا ھوں…..ہر وقت ہر بات میں تایا رحمت کو کاپی کرنے کی کوشش میں لگا رہتا ھوں…. تایا رحمت نے مجھ سے وعدہ کیا ھے کہ اگر میٹرک میں اچھے نمروں سے کامیاب ھوا تو میرا داخلہ شہر کے سب سے ا چھے کالج میں کروائیں گے اور نئی سائیکل بھی دلائیں گے…..
میرا نصب العین ھے کہ پڑھ لکھ کے ان شا اللہ میں تایا رحمت کے نقش قدم پہ چلوں گا…. لوگوں کو اپنی ذات سے نفع پہنچاوں گا، اور اپنے گھر کے صحن میں تو میں ابھی سے ہی سایہ دار درخت لگاوں گا…… بالکل تایا رحمت کے برگد کی طرح-

اپنا تبصرہ بھیجیں