شامِ موسیقی اور ہم – طاہرہ فاروقی




”شامِ موسیقی “ کا پوسٹر دیکھ کر دل دکھ کی اتھاہ گہرائیوں میں ڈوب گیا۔—پچھلے سال قاٸد کی کسی کو یاد ہی نہ آئی۔ سرکاری سطح پر کوئی تقریب ہونا تو درکنار، صدرِ مملکت یا وزیرِاعظم کی طرف سے بھی کوئی بیان تک نہ آیا خراجِ عقیدت پیش کرنے کو۔ ہرچند کہ یہ ایک رسم ہی ہوتی ہے مگر ہر سال یہ رسم نبھائی ضرور جاتی تھی۔ کوئی نہ کوئی چھوٹی موٹی تقاریب وفاقی اور صوبائی سطح پر ہوتی تھیں۔
قاٸدِاعظم کے کچھ اقوال دہرائےجاتے تھے لگتا تھا کہ ایک دن کے لیے ہی سہی بانیِ پاکستان کی یاد ابھی دلوں میں باقی ہے۔ پچھلے سال محسوس ہوا کہ قاٸد کے نام پر دی گٸی چھٹی کو کرسمس منانےمیں استعمال کیا گیا۔ سرکاری سطح پر صرف کرسمس کے پیغامات میڈیا پر نظر آۓ۔ قاٸد کہیں نہیں تھے۔ لگا جیسے اب یہ دن بھلا دیا جائے گا اور آئندہ پچیس دسمبر کی چھٹی بھی نہ ہوگی۔ لیکن چھٹی کو تو باقی رکھنا ہے ناں کیونکہ جب ضرورت پڑے یہ عیسائیوں سے اظہارِ یکجہتی میں بھی کام آتی ہے۔ جیسے گزشتہ سال ہوا۔
اب چونکہ اظہارِ وفاداری ہمہ جہت پچھلے سال ہوچکا ہے اِس لیے اِس سال قاٸد کا یومِ پیدائش گانے بجانے میں اڑا کر پیغامِ قاٸد کوبھلایا جاۓ گا۔ انکی قربانیوں کا مذاق اڑایا جاۓ گا۔سمجھ میں نہیں آتا ہم کس طرف جار ہے ہیں۔ دنیا میں کوئی قوم ایسی نہ ہوگی جو اتنے شوق سے اجتماعی خودکشی پر تلی رہتی ہو۔کیا ہمارے اندر سے صالح عنصر بالکل ہی ختم ہو گیا ہے۔
نچنئیے اور گوئیے تو ہر ملک میں ہی ہوتے ہیں مگر نہ تو انہیں اس طرح سر پہ سوار کیا جاتا ہے کہ قوم کا پڑھا لکھا سنجیدہ اور با وقار تاثر ابھر ہی نہ پاۓ۔ اور نہ کسی موقع پر وہ طبقہ اپنے ملک قوم کو انکے ہدف سے بھٹکا کر بے ہنگم اچھل کود میں الجھاتا ہے۔
بلکہ ملک کا سنجیدہ اور باوقار طبقہ سامنے آتا ہے اور اپنی قوم کو جگاتا اور وقت کے تقاضوں سے روشناس کراتا ہے نوجوانوں میں انکی ذمہ داریوں کا احساس انگیز کرتا ہے۔
کیا ہمارے ملک میں اب تمام ماہرینِ تعلیم انتقال فرما چکے؟؟؟تمام محبِ وطن صحافی اور دانشور تہہ گور جا چکے؟؟؟
تمام علماءِ دین و ملت کا جنازہ اٹھ چکا؟ مادرِ وطن کی گود اجڑ چکی؟؟؟اگر نہیں تو کہاں ہیں سب؟
اپنی زندگی کا ثبوت کیوں نہیں دیتے۔۔۔!پاکستان کا نام اور تاثر ان نچنیوں اور مراثیوں سے کیوں دھندلایا جارہاہے۔۔۔!

اپنا تبصرہ بھیجیں