خوشبو کی دکان – ماہین خان




“اچھا، تم کبھی خوشبو کی دکان پر گئی ہو کیا ؟
“ہاں گئی ہوں ۔۔۔۔ لیکن یہ ہماری باتوں میں خوشبو کی دکان کہاں سے آگئی ؟ “حیرت ہی حیرت تھی۔
“تو تم نے وہاں کیا محسوس کیا ؟ اچھا یا برا ”
“صرف اچھا ۔۔۔۔۔۔ بہت ہی اچھا ۔ ہر طرف مختلف اقسام کی خوشبو۔۔۔۔۔۔۔ پیاری پیاری بھینی بھینی دل کو موہنے والی”
” اور کیا لگا تمہیں وہاں ؟”
“بہت ہی فرحت بخش احساس۔۔۔۔ جب میں وہاں سے واپس آتی تو لگتا ، وہ خوشبویں پیچھے پیچھے آگئیں اور کئی دن تک محسوس ہوتیں۔”
اس نے گہری سانس اندر کی جانب کھینچی گویا کہ وہ اب بھی اپنے لاشعور میں ان کو محسوس کررہی تھی
“اچھا اب یہ بتاؤ کہ کبھی تم کوئلہ کی ٹال(وہ دکان جہاں کوئلہ ملتا ہے) پر گئی ہو یا کبھی گزرنے کا اتفاق ہوا ہو؟
“آں ہاں بالکل !”
“تو وہاں کیسا ماحول پایا؟”
“دھواں ، مٹی ، شور اور سب سے بڑھ کر کالک جس نے اس دکان کے علاوہ وہاں موجود لوگوں کے کپڑوں کو بھی کالا کردیا تھا ”
“تو تمہارا یہ مطلب کہ تم جب دو الگ الگ قسم کی دکانوں پر گئیں تو وہاں کے اثرات تمہارے ساتھ آئے ،صحیح؟”
“بالکل، ایسا ہی تھا ”
تو بس یہی حال ہماری محفلوں کا بھی ہے ہمارے اردگرد کتنی ہی اقسام کی محفلیں سرانجام پاتی ہیں۔ اور وہاں سے کوئی نہ کوئی اثر بھی ساتھ آتا ہے ۔ جیسے انسان جب خوشبو کی دکان پر جاتا ہے تو وہاں سے ضرور اثرات کے طور پر خوشبو اپنے اطراف میں دیر تک محسوس کرتا ہے ،ہر جگہ اسے معطر محسوس ہوتی ہے اسی طرح صالح اجتماعیت بھی اپنا نیک اور صالح اثر چھوڑتی ہیں جب ۔ایسی محفلوں میں جب اللہ کا ذکر کیا جاتا ہے تو پھر دل اور دماغ دونوں اس طرف کھینچے چلے آتے ہیں۔ ایسی اجتماعیت میں وہ اپنے آپ کو اللہ سے قریب جانتا ہے اور ان سب کو انسان کسی پیاری سی خوشبو کی صورت میں محسوس کرتا ہے.اسی طرح جب انسان کسی غلط محفل کا حصہ بنتا ہے تو چاہے وہ اپنی مرضی سے نہ گیا ہو ، تو بھی وہاں سے کچھ نہ کچھ اثر ساتھ لاتا ہےجو ہمارے اندر اللہ سے دوری کا باعث بن جاتی ہیں۔
اسی لئے نبی مہرباں صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم نے ہمیشہ صالح اجتماعیت سے جڑے رہنے کا حکم دیا تاکہ ہم وہاں پر اللہ سے دور ہونے کے بجائے اللہ کے قریب ہوں ۔ جب ہم ایسی محفلوں میں نیک اور صالح لوگوں سے ملیں گے ان کے اٹھیں گے بیٹھیں گے تو ہم بھی انھیں محفلوں کا حصہ بن جائیں گے ۔
اب یہ ہم پر منحصر ہے کہ ہم کس محفل کا حصہ بننا پسند کریں گے جہاں ہمارا کردار پروان چڑھ سکے ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں