نئے سال کا لائحہ عمل ترتیب دیں ـ شہلا خضر




عزیز بہنوں ہم میں سے اکثر خواتین وقت کی کمی اور زمہ داریوں کے انبار کا گلہ کرتی نظر آتی ہیں -بلکہ یہ کہنا زیادہ مناسب ہوگا کہ آج کے اس جدید ٹیکنالوجی اور انٹر نیٹ کے دور میں نت نۓ مشاغل اور تفریحات میسر ہونے کے باعث ہر شخص ہوا کے گھوڑے پر سوار وقت کی ڈگر پر سرپٹ دوڑتا دکھائ دیتا ہے ۔۔
چونکہ خواتین پر زاتی مصروفیت کے ساتھ ساتھ اپنے گھر والوں خصوصا”بچوں کی نگہداشت اور پرورش کی زمہ داری بھی عائد ہوتی ہے ،جو کہ ایک “فل ٹائم جاب” ہے لہزاٰ ان کی مصروفیت بھی دوگنی ہو جاتی ہے ۔
ہمارے پیارے نبیﷺ نے فرمایا “ عورت اپنے شوہر کے گھر اور بچوں کی نگران ہے،اور اس سے ان کی بابت پوچھا جاۓ گا”۔۔۔۔۔۔
ﷲ تعالیٰ کا وعدہ ہے کہ وہ کسی بھی نفس پر اس کی استعطاعت سے زیادہ بوجھ نہ ڈالے گا “ یقین جانیں کہ جو زمہ داریاں اور فرائض ہمیں دیۓ گۓ ہیں انہیں پورا کرنے کی مکمل صلاحیت بھی اس پاک پروردگار نے ہمیں عطا کر رکھی ہے ۔۔۔۔۔مسلۂ صرف اسس صلاحیت کواستعمال کرنے کے طریقۂ کار میں ہے ۔۔
اس کائنات کی تخلیق سے پہلے ربَ کائنات نے ہماری بقا اور سلامتی کے سارے اسباب اور وسائل بناۓ اور اور مکمل physibility planing ( منصوبۂ عمل )کے تحت قیامت تک کے آنے والے انسانوں کا لائحہ عمل تر تیب دیا۔۔۔۔۔۔۔ کائنات کا یہ ربط و نظم ﷲ تعالیࣿ کی سنت ہے ، اور بحیثیت نائب کے ہم سے بھی وہ ایسے ہی طرز عمل کی توقعہ رکھتا ہے ۔۔۔۔۔
عیسوی صدی کے نئے سال ۲۰۲۰ ء کا آغاز ہوگیا -دنیا کے باقی تما م ممالک کی طرح ہمارے ملک میں بھی سب کچھ اسی کیلنڈر کی مناسبت سے ہوتا ہے مثلا” گرمیوں کی چھٹیاں جون ، جولائی ہی میں ہوتی ہیں ،ہفتہ وار چھٹی سینیچر اور اتوار کے روز ہی ہوتی ہے ،سالانہ امتحا نات مارچ میں ،قومی بجٹ جون میں یہاں تک کے شادی بیاہ میں تاریخ طے کرنے کے لیۓ بھی اسی کیلنڈر سے مدد لی جاتی ہے ۔ ۔۔۔۔۔۔لہٰذا یہ بہترین موقعہ ہے آئندہ آنے والے سال کی منا سب پلاننگ کر لیں
مثلا” مارچ کے سالانہ امتحانات کے بعد جب بچے نئی اور بڑی کلاس میں جائیں گے تو فیس میں بھی یقینا” اضافہ ہو گا اور سلیبس خریدنے کے اخراجات بھی ہوںگے ۔۔آپ اس یقینی خرچ سے نمٹنے کے لیۓ سال کے آغاز ہی سے کچھ نہ کچھ بچت کریں تانکہ عین وقت پر کسی پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے ۔۔
اسی طرح اگر اس سال کے دوران کسی قریبی عزیز کے گھر شادی کی تقریب متوقع ہے تو اپنے کچھ غیر ضروری اخراجات کو روک دیں ،اور عقلمند خاتونِ خانہ ہونے کا ثبوت دیتے ہوۓ تحفے کا بندوبست پہلے ہی سے کر رکھیں ۔۔۔۔
پیاری بہنوں موجودہ دور بلا شبہ فتنوں کا دور ہے ۔ بحیثیت ایک مسلمان عورت کے ہمیں خود کو اور اپنے اہل وایال خصوصا”اپنے بچوں کو ان سے بچانا ہے ۔ہمارے نبیﷺ کا ارشاد ہے کہ “ مومن کبھی غافل نہی ہوتا “
۔اور عربی زبان کی کہاوت ہے جو شخص فتنوں سے نا واقف ہو اور نہ اس کے بد ترین انجامُ سے تو وہ کیسے فتنوں سے بچ سکتا ہے”۔ ۔۔۔۔اس کے لیۓ ہمیں چوکنا رہنا ہے ، اپنے بچوں کے ساتھ دوستانہ اور مشفقانہ رویۂ رکھیں انہیں اپنے سےقریب رکھیں ، اگر گزشتہ سال ہم مصروفیت کے باعث ایسا نہی کر پاۓ اور ہمیں یہ لگ رہا ہے کہ بچے انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا پر غیر ضروری وقت صرف کر رہے ہیں تو نۓ سال میں بچوں کو وقت کی قدر کرنا سکھائیں اور انہیں تعمیری کاموں میں مصروف کرنے کی کوشش کریں ۔۔مثلا” انہیں اچھی کتابیں پڑھنے کی ترغیب دلائیں ۔ہو سکے توگھر میں ایک چھوٹی سی لائیبریری بنا لیں ، جس میں بچوں کی دلچسپی بڑھانے کے لیۓ اسلامی ، سائنسی اور تاریخی کتب کے ساتھ تفریحی کہانیوں کی کتب بھی ہوں تاکہ بچے یکسانیت کا شکار نہ ہوں،،اور کتابوں سے لگائو بڑھے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
عزیز بہنوں ہمارا ملک شدید معاشی مسائل سے دوچار ہے ، جس کی وجہ سے نئے ٹیکس اور قیمتوں میں اضافے کا بوجھ بھی عوام پر بڑھتا جا رہا ہے ،اس آنے والے سال میں بھی ہمیں اسی نوعیت کے مسائل سے نبرد آزما ہونا ہے ۔جبکہ ہمارے گھروں کے کمانے والے مردوں کی آمدنی میں تو اضافہ ہوتا نظر نہی آرہا ۔اس سلسلے میں ہم خواتین ان کا ساتھ دینے اور مشکل وقت سےنکلنے کے لیۓ زیورات کپڑوں اور میک ا پ جیسے لوازمات کی لا محدوداور۔ غیر ضروری خریداری سے گریز کریں اور اشد ضرورت کے بغیر کچھ نہ لیں ۔۔۔۔
اسی طرح ہم دیکھتے ہیں کہ اکثر اوقات گھروں سے باہر کچرا پھینکنے کی ذمہ دار ہم خواتین ہی ہوتی ہیں “، صفائ نصف ایمان ہے “ پر عمل کرتے ہوۓ وہ اپنے گھر کو تو خوب صاف ستھرا کرلیتی ہیں مگر گھر کا کچرا چپکے سے باہر پھینک دیتی ہیں ۔گندگی کے باعث مختلف قسم کے امراض پھیل جاتے ہیں ۔ اس کچرے کی وجہ سے سب سے زیادہ متاثر ہمارے اڑوس پڑوس کے لوگ ہوتے ہیں جو سخت بد تہزیبی کی بات ہے ۔ پیاری بہنوں قیامت کے روز سب سے پہلے حقوق العباد میں دو پڑوسیوں کا مقدمہ ہی پیش ہو گا ۔اس نۓ سال کے آغاز ہی سے آپ اصول بنا لیں کے اچھی مسلمان اور اچھی پڑوسی ہونے کا ثبوت دیتے ہوۓ گھر کے ساتھ اپنے محلےاور علاقے کی صفائ کا رکھیں گی اور آئندہ کبھی گھر سے باہر کچرا پھینک کر دوسروں کے لیۓ ازئیت اور تکلیف کا باعث نہی بنے گیں ۔۔۔۔۔۔
اگر بہن بھائیوں پڑوسیوں یا سسرال والوں سے کوئی رنجش ہےتو نئے سال کا آغاز ﷲ کی رضا کے لئے ، تمامُ گلے شکوے معاف کر کے صلح میں پہل کریں ۔۔۔۔کچھ نہ کچھ وقت نکالیں اور غور وفکر کی عادت بنائیں ۔ گزشتہ سال حقوقﷲ اور حقوق العباد میں جو بھی کمی کوتاہی سرزد ہو گئ اسے دور کرنے کی پوری کوشش کریں ۔کیونکہ جو وقت گزر گیا وہ لوٹ کر نہی آۓ گا ، اور آنے والے وقت کا کچھ پتہ نہی ، ہماری مدت عمل نجانے کب ختم جاۓ لہزࣿاآج جو وقت میسَر ہے اس کا بہترین مصَرف نکالیں ۔۔۔
پیاری بہنوں معاشرے کا ہر گھرانہ ایک اکائ کی حیثیت رکھتا ہے ، اور ہم خواتین اگر منصوبہ بندی ، اور ہوشمندی کے تحت اپنے گھر انوں کو اسلامی شعائر کے مطابق چلائیں گے تو تمام اکائیاں مل کر بہترین اسلامی معاشرے کی تعمیر کر باعث بنیں گے ،۔۔۔۔۔
ؔ پختہ تر ہےگردشِ پیہم ہے جامِ زندگی
ہے یہی اے بے خبررازِدوامِ زندگی ۔
Shehla khizar

اپنا تبصرہ بھیجیں