صبح کا بھولا – ثمینہ نعمان




آج اتوار کا دن تھا……. ہفتہ بھر کی تھکاوٹ کی وجہ سے میں نے فجر پڑھ کر قران پڑھا اور دیر تک سونے کا ارادہ کیا، رات کو بھتیجےکی شادی سے واپسی پر بھابی نے کھانا ساتھ کر دیا تھا، اس لئے آج کام کچھ ایسا خاص نہ تھا سو میں تمام گدھے گھوڑے بیچ کر سو گئی …مگر نو بجے سے ہی گلی میں ٹین ڈبہ والے، خواجہ سرا اور سبزی والوں کی ایسی ہلچل شروع ھوئی کہ مجھے ان کے شور سے بیزار ہو کے اٹھنا ہی پڑا…….
یوں محسوس ھو رہا تھا کہ جیسے میں گلی میں استراحت فرما رہی ھوں…. ناشتہ سے فارغ ھوئی تو سوچا کہ باتھ روم کا شاور لیک کر رہا ھے، کیوں نہ نیا منگوا کے لگوا لوں….. میاں جی سے کہا کہ کل سے بچوں کے اسکول کھل رہے ھیں ، جاتے ھوئے بچوں کو نائی کے پاس بٹھا جائیے گا، تاکہ ایک پنتھ دو کاج ہو جائیں….. پھر تو آپ پورا ہفتہ مصروف رہیں گے، میاں جی نے طنزیہ مسکراتے ھوئے کہا کہ کس ہوا میں ہو، گھڑی دیکھو….. ابھی تو دس بھی پورے نہیں بجے. یہاں تو تمام دکانیں اور کاریگر ایک بجے سے پہلے دستیاب نہیں ہوتے، کیا یورپ سے آئی ہو…. اور میری یاداشت واپس آ گئی کہ میں تو پاکستان میں رہ رہی ہوں، جہاں ہر غلط اور بری چیز پاک ہے….. یورپین ممالک نے ہماری اقدار، ہمارے قوانین، ہمارے اصول یہاں تک کہ ہمارے مذہب کی چیدہ چیدہ خصوصیات اپنا کے اپنی دنیا کا نقشہ ہی بدل لیا ہے…..
اور ایک ہم ہیں کہ….. کوا چلا ہنس کی چال کے مصداق ، اپنی اصل بھول چکے ہیں .وہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ کے قوانین سے فائدہ اٹھا رہے ہیں اور ہم ہر قانون سے آزاد ہو چکے ھیں. ہمارے ملک میں قانون صرف کتابوں کی حد تک محدود ہے، قانون بنانے والے ممبران اسمبلی ، قانون کے محافظ وکیل اور قانون کی پاسداری کرنے کے علمبردار عوام سب مادر پدر آزاد معاشرہ بنانے پر تل گئے ہیں….. توانائی کے بحران کے پیش نظر حکومت نے جب بھی تاجروں سے درخواست کی کہ رات کو دکانیں اور بازار جلد بند کر دیں، اور صبح جلد کھولیں تاکہ سورج کی روشنی کا فائدہ اٹھایا جا سکے…. تاجروں نے ہڑتال کی دھمکی دے دی، اور حکومت نے گھٹنےٹیک دیئے. موٹر وے پر قانون کی خلاف ورزی کرنے پر جرمانہ بڑھایا تو ٹرانسپورٹرز نے احتجاج شروع کر دیا، اور قانون معطل کر دیا گیا….. جس طرح ہندووں میں انسان چار طرح کے درجوں میں منقسم ہیں . ملک کا تعلیمی نظام تین طرح کے اسکولوں کا مرہون منت ہے، غریب کا بچہ سرکاری اسکول میں، متوسط درجے کے لوگ اپنے بچوں کو پرائیوٹ اسکول میں اور امیر باہر کے اسکول یا یونی ورسٹی سے جڑے ہوئے تعلیمی اداروں میں اپنے بچوں کو بھیجتے ہیں…. مساوات ، جو قومی اتحاد کے لئے انتہائی ضروری ہے صد افسوس کہ ناپید ہے.
لوگوں کی زندگی بھر کی جمع پونجی سے خریدے ہوئے پلاٹوں کو قبضہ مافیا ہتھیا لیتا ہے، سرکاری اسکولوں میں وڈیروں اور زمینداروں کے ڈنگر بندھے پائے جاتے ہیں….. میڈیا کے بند بھی ٹوٹ چکے ہیں، حد سے بڑھا گلیمر لوگوں میں احساس محرومی پیدا کر رہا ہے…. اس کے ڈراموں میں دکھایا جانے والا نامکمل لباس اور اخلاق سے گری ہوئی زبان نوجوان نسل کا مستقبل بگاڑ رہی ہے…
کھا نے پینے کی اشیا کے علاوہ دواوں تک میں ملاوٹ عام بات ہو گئی ہے…. اشیائے خورد نوش کی قیمتوں میں دن دوگنی اور رات چوگنی بڑوھتری عوام کی نیندیں اڑا رہی ہے، مگر حکومت کو کچھ نظر نہیں آتا…. راوی سب چین لکھ رہا ھے…. کہاوت مشہور ھے کہ جیسی روح ویسے فرشتے، بس یہی کچھ حال پاکستان کی عوام کا ھے، جس طرح وہ مطلق العنان طور پر زندگی گزار رہے ہیں ویسے ہی حکمران اللہ تعالی نے ان پر مسلط کر دیئے ھیں.
عوام بھی ساتھ کے لوگوں پر خودغرضی اور خود فریبی کے جال پھینک رہی ہے اور حکمرانوں نے بھی ان کی زندگی تنگ کی ہوئی ہے….. جدوجہد پاکستان کے وقت ہمارے پاس ملک نہ تھا مگر ہم ایک مضبوط قوم تھے اور حصول پاکستان کے بعد قوم نہ جانے کہاں کھو گئی…. ملک کا آدھا حصہ گنوا دیا مگر ہم ھیں کہ اب بھی خواب خرگوش کے مزے لے رہے ہیں… کشمیر جسے ہم برسبیل تذکرہ اپنا اٹوٹ ا نگ کہتے رہے، مگر کوئی عملی اقدام نہ کرنے کے سبب آج کشمیر بھی ہمارے ہاتھوں سے نکل گیا… اب ہم کس انتظار میں ہیں ؟؟
اب تو ہمارا طرز عمل یہ ھونا چاہیئے کہ ” جو بچے ہیں سنگ سمیٹ لو” اس سے پہلے کہ مزید دیر ہو جائے ہم سب کو اپنا قبلہ درست کر لینا چاہیئے.
کہتے ہیں کہ صبح کا بھولا اگر شام کو گھر واپس آ جائے تو اسے بھولا نہیں کہتے…. اس لئے بے شک شام ہو چلی ہے مگر اب بھی لوٹنے کا وقت باقی ہے ….

صبح کا بھولا – ثمینہ نعمان” ایک تبصرہ

اپنا تبصرہ بھیجیں