لگام (آمنہ آفاق )




”انشال تم وہ ڈرامہ دیکھتی ہو میرے پاس تم ہو “
سونیا کی منہ سے یہ الفاظ سن کر میں اپنے سارے کام چھوڑ کر اس کی طرف متوجہ ہوگئی کیونکہ سونیا محض نو سال کی بچی ہے اور اس کے ڈرامے میں اتنی دلچسپی میرے لیے افسوس کا مقام تھی
” کیا ہوا سونیا بیٹا آپ انشال کے ساتھ مل کر اپنا ہوم ورک کریں آپ ڈراموں کی باتیں کیوں کر رہی ہیں؟“ ”وہ انٹی ،ڈرامہ اتنا اچھا چل رہا ہے ناں تو میں اس کے بارے میں ہی سوچ رہی تھی “
سونیا نے معصومیت سے کہا مگر مجھے اندر تک سے ہلا ڈالا اس ڈرامے کا کافی چرچا میری نظروں سے بھی گزرا ہے اور ہر ایک کے منہ سے اس کی تعریف سن کر میں نے بھی ارادہ کر لیا تھا کہ آخر دیکھوں تو سہی کیا ہے جو اس کو اتنا پسند کیا جارہا ہے مگر یقین مانئے مجھے اس میں ایسی پسندیدگی والی کوئی بات نظر نہیں آئی اور اپنے بچوں کے ساتھ بیٹھ کر یہ ڈرامہ دیکھنا تو میرے نزدیک انتہائی حماقت کی بات ہے ایک عورت کو اتنا بے حیا اور بے باک دکھایا گیا ہے کہ اس کی نظر میں کسی بھی رشتے کا کوٸی تقدس کوٸی احترام نہیں صرف پیسوں کی چمک ،
سوال یہ ہے کہ کیا معاشرے سے اچھی عورتوں کا خاتمہ ہوگیا ہے ،جو عورت ذات کی اتنی تذلیل دکھاٸی گٸی ہے وہ بھی ایک مسلم معاشرے میں، حالانکہ مرد جو کہ قوام بنائے گئے ہیں اپنی فیملی اور اپنے خاندان کے بارے میں جواب دہ ہے لیکن اس ڈرامے میں ایک عورت کو ہی بدکردار دکھایا گیا حالانکہ کوئی عورت بد کردار ہے تو اس میں مرد بھی برابر کا حصہ دار ہے لیکن یہاں صنف نازک کی ذات پر حملہ کیا گیا ہے ایسے نازک مسئلہ کو اجاگر کیا گیا ہے کہ لوگوں کے دلوں اور ذہنوں پر عورت کی بری چھاپ بیٹھے حالانکہ جو عورت ممتا کے مراحل سے گزرتی ہے تو وہ سونے سے کندن بن جاتی ہے اس کی ذات معتبر ہوجاتی ہے لیکن یہاں اک ماں کو پر آسائش اور پرتعیش زندگی کے پیچھے بھاگتے ہوئے دکھایا گیا ہے اس کے لیے وہ ماں اپنے بچے اور با وفا شوہر کو بھی چھوڑ دیتی ہے یہاں سوچنے کا مقام ہے کیا اثرات مرتب ہوئے ہوں گے ہماری نئی نسل کی ذہنیت پر جب ایک عورت پر دو ٹکے کا ٹیگ لگ جاتا ہے، بہترین اداکاری کا جوہر دکھانے والی وہ اداکارہ جوکہ کافی پسند کی جاتیں ہیں ، انکے لۓ دلوں میں نفرت کے جذبات ابھرتے ہیں اور دانش کے لئے ہمدردی کے، اس طرح ذاتی زندگیوں میں لوگ اس طریقہ کے ڈراموں سے غلط سبق لیتے ہیں اور اپنی نیک پارساؤں بیویوں پر شک کرتے ہیں کیونکہ عورتوں کا کردار مشکوک جو بنا دیا گیا ہے
پھر یہاں جو سب سے حساس موضوع چھیڑا گیا ہے وہ ہے ایک عورت کا طلاق کے بعد عدت نہ کرنے کا یہ سب کچھ ڈراموں سے ہی لیا گیا سبق ہے جو اب معاشرے میں کافی رائج ہو چکا ہے میری آنکھوں کے سامنے بہت سی مثالیں ہیں کہ عورتوں کا طلاق یا شوہر کی وفات کے بعد عدت میں نہ بیٹھنا اور اب باقاعدہ ان ڈراموں کے ذریعے لوگوں کے ذہنوں سے یہ نظریہ ہی ختم کیا جا رہا ہے طلاق کے بعد ایک نامحرم کے ساتھ اس کے گھر میں رہنا ، نکاح سے پہلے بننے والے یہ تعلقات ذہنوں میں کتنے ہی سوالیہ نشانات چھوڑ رہے ہیں اور اب واپس اپنے پہلے شوہر سے تعلقات بحال کرنے کی تمنا ، خدارا لگام دیں ، بتا دیں لوگوں کو کے یہ سب ناقابل معافی ہے، گناہ ہے ، اس سے پہلے لوگ گناہ ثواب کی تمیز بھول بیٹھیں، بہت سارے لوگوں کے دلوں میں یہ جذبات ابھررہے ہیں کہ مہوش کو واپس دانش کے پاس چلے جانا چاہیے مہوش کی جاندار اداکاری اور گرتے ہوئے آنسو نے لوگوں کی ہمدردی تو مول لے لی لیکن اب یہ آپ کی ذمہ داری ہے کہ بتا دیں لوگوں کو کہ حقیقی زندگی میں تو کیا ڈراماٸی زندگی میں بھی یہ سب ممکن نہیں ہے
محترم خلیل الرحمن صاحب اللہ نے آپ کے قلم میں بہت طاقت پیدا کی ہیں براہ کرم اپنی اس صلاحیت کو بروئے کار لاتے ہوئے معاشرے میں مثبت تبدیلی کو فروغ دیجئے آپ کے قلم کی طاقت معاشرے میں بگاڑ کا سبب بنے گی تو روز محشر کیسے آپ ذمہ داری قبول کریں گے ہمیں قرآن پاک کے احکامات اور اس کی تعلیمات کو پھیلانے کا ذریعہ بننا ہے نہ کہ لوگوں کے دلوں میں سے اللہ کے احکامات کے بارے میں شکوک و شبہات کو پیدا کرنا ،اس ڈرامے کو بنانے میں جتنے بھی وسائل اور لاگت لگی ہوگی کاش اگر یہی وساٸل لوگوں کو راہ راست پر لانے میں لگاتے تو دنیا اور آخرت دونوں کی کامیابی سے ہمکنار ہوتے
سب سے زیادہ افسوس کا مقام تو یہ ہے کہ بے حیائی کو فروغ دینے والے اس قابل اعتراض ڈرامے کو حد سے زیادہ پذیرائی ملی ہے لیکن اس پذیراٸی اور شہرت کاصحیح استعمال اب آپ نے کرنا ہے

اپنا تبصرہ بھیجیں