میں سن ہوگئی (عالیہ عثمان)




عامر تم بڑے ہو کر کیا بنو گے؟ میں تو فوجی افسر بنوں گا جو سرحدوں کی حفاظت کرتے ہیں اور ملک کی سلامتی کے لئے قربان ہو جاتے ہیں اور شہید کہلاتے ہیں_
اچھا عبداللہ تم کیا بنوگے؟ میں پائلٹ بنوں گا مجھے جہاز بہت اچھے لگتے ہیں راشد منہا س جیسا پائلٹ بنوں گا_ اچھا آباد تم بڑے ہو کر کیا بنو گے، میں تو بڑا ہوکر بہت امیر آدمی بنوں گا تاکہ میرے پاس بڑی بڑی گاڑیاں ہوں شاندار کوٹھی ہو اور بہت سارا بینک بیلنس ہو اور میری بیوی اس ڈرامے والی جیسی نہ ہو جو اپنے غریب شوہر اور بچے کو چھوڑ کردوسرے آدمی کے پاس چلی جائے ایسی مما دو ٹکے کی عورت ہوتی ہے۔
گھر میں تقریب کی وجہ سے کافی مہمان جمع تھے بچوں نے ایک کونے میں ڈیرہ ڈالا ہوا تھا اور سب زور و شور سے بول کر اپنے خیالات کا اظہار کر رہے تھے جب میں نے عباد نامی بچے سے امیر بننے کی وجہ سنی تو میں جیسے سن ہوگئ۔ یہ اتنے اتنے سے بچے کیسی باتیں کر رہے ہیں ان کے ناپختہ ذہنوں میں کیا کچھ نہیں ڈالا جا رہا۔
ترجمہ، مرد عورت پر قوام ہیں اس فضیلت کی بنا ءپر، جو اللہ نے ان میں سے ایک کو دوسرے پر عطا کی ہے اور اس بنا ءپر کہ وہ ان پر اپنا مال خرچ کرے پس صالح بیویاں ںشوہروں کی اطاعت گزار اور اللہ کی توفیق سے شوہروں کی غیر موجودگی میں ان کے ناموس کی محافظ ہیں اللہ تعالی نے عورتوں کا رتبہ بہت بڑا رکھا ہے اس کے قدموں کے نیچےجنت رکھی ہے پھراس ڈرامے میرے پاس تم ہومیں دکھایا جا رہا ہے کہ عورت کی معصومیت یہ ہے کہ وہ اپنے حقوق چھوڑ کر ایسے حقوق مانگ ر ہی ہے جو اس کے ہیں ہی نہیں یعنی عورتیں مردوں کے حقوق سے اپنا حصہ مانگ رہی ہیں جو انہیں دیے نہیں جاسکتے عورت اور مرد برابر نہیں ہوسکتے مرد کو عورت پر فضیلت حاصل ہے ،اس میں عورت کو اتنا بے توقیر کیا گیا ہے اسے دو ٹکے کا کر دیا
ہمارے پیارے اسلام نےخاندانی نظام کی بنیاد عورت اور مرد کے باضابطہ تعلق یعنی نکاح کو قرار دیا ہے ایک مرد کے دائرہ نکاح میں آجانے کے بعد عورت نہ تو کسی دوسرے مردسے نکاح کرسکتی ہے اور نہ کسی مرد کے لیے یہ حق باقی رہتا ہےکہ وہ کسی منکوحہ عورت کو اپنے نکاح میں لا سکےاس کے علاوہ عورت کو پردے کاپابند بنا کر اس بات کے مواقع ختم کردیئے گئے ہیں کہ نامحرم مردوں کے ساتھ اس کے کسی قسم کے غلط اور ناپسندیدہ روابط قائم ہوں۔
اس ڈرامے کا آئیڈیا بھی ایک انگریزی فلم ان ڈیسینٹ پروپوزل سےلیا گیا ہے ۔ حتی کے اس فلم کے بعض مناظر تک اس ڈرامے میں شامل کیے گئے ہیں اس میں کئ مروجہ رجحانات کو غلط ثابت کیا گیا ہے جب سے ٹی وی نجی اداروں کے ہاتھ میں آیا ہے تب سے دیکھنے میں آرہا ہے کہ پاکستان کا نجی ٹی وی ڈرامے عورت کی مظلومیت اور کمزور ہوتی ہوئی عورتوں کے آنسووں کو بیچنے پر لگا دکھائی دیتا ہے۔
ٹی وی ڈرامے معاشرتی موضوعات پر ہونے چاہیے تاکہ ناظرین مختصر وقت میں ایک مفید اور بامقصد ڈرامے کا لطف اٹھاسکیں۔
اللہ تعالی ڈرامہ نویسوں کو ہوش کے ناخن دے کہ جو ہماری قوم کی ڈگمگاتی ناؤ کو رواں رکھ سکے اور معاشرے کی اصلاح میں اپنا کردار ادا کر سکیں آمین.

اپنا تبصرہ بھیجیں