متنازعہ مسلم شہریت ( صبا احمد )




متنازعہ مسلم شہریت کا بل منظور ھو گیا بھارتی پارلیمنٹ میں ۔۔۔۔!
ھر چینل بریکنگ نیوز رھی چل رہی۔۔ تھی ۔کہ بھارت میں متنازعہ شہریت مسلمانوں کے لیے بل منظور کیا سینٹ میں ۔اس کے نتیجے میں باشعور اور اہل دانش قانون کو سمجھنے والوں۔اور نوجوان طالبعلم اور مسلمانوں کی مذہبی ور سیاسی جماعتوں کو اپنا وجود کا ھونے کا ثبوت دینا ہوگا جبکہ وہ صدیوں سے ھندوں کے ساتھہ اس ملک میں رہ رھے ھیں ۔ایک ساتھہ پڑھے لکھے جوان ہوۓ۔ ان کے آباوجداد یہاں ان کے ساتھہ آباد رھے یہی قبرستان میں مدفن ھیں
.ان سے شناخت مانگ رہے ھیں ۔اس بل کے خلاف مسلمان سمیت تمام اقلیتں بی سراپا احتجاج ھیں ۔یہ بڑی سنگین صورت حال ھے ۔بھارت میں اقلیتوں کیلیے ۔کشمیر سمیت ۔کیونکہ ایک کے بعد دوسری کی باری آۓ گی ۔
لوگ اور طالبعلم ور سیاسی پارٹیاں سڑکوں پر نکل آٸ ھیں ۔ جامعہ ملیہ میں لڑکیوں کے ھوسٹل میں پولیس ذبردستی ھو سٹل کی اندر داخل ہونے کی کوشش کر رھی تھی ۔لڑکوں کی مزاحمت پر لاٹھی چارج کیا گیا ۔گولیاں بھی چلاٸ گٸ ۔کسی بھی یونیورسٹی کے طالبعلموں پر تشدد کرنا قانوناًۭ جاٸز نہیں ۔
دو لڑکیوں پولیس کو ھوسٹل میں داخل ھونے سے منع کررھے تھی ۔اور لڑکوں پر لاٹھی چارج ھونے پر سامنے آکر انہیں بچایا ۔
اور کہا ” کہ وہ خدا کے سوا کسی سے نہیں ڈرتیغوث “ ۔ھندو لڑکی نے کہا ” کہ بھارت کے کسی حصے میں محفوظ نہیں “ ۔جمہوریت اس کو کہتے ھیں جہاں یونیورسٹی میں طالبعلم جو ملک کا مستقبل کو مارا جاتاھے ان کو اپنی راۓ دینے کا حق نہیں ۔قانون کی تعلیم دینے والا ملک خود انسانیت سوز سلوک کر رہا ھے۔نسل پرست بن گیا ھے ۔بھارت ۔شدید سردی میں لوگ بچوں کے ساتھہ احتاج کر رھےھیں ۔سڑکوں پر ۔ دو تین سال سے مسلمانوں کو سرکاری نوکریاں دینا بند کردیا گیا تھا ۔اس کا مطلب کے یہ نریندر مودی اس بل پر کام ھو رھا تھا ۔کرتار پور اھداری کھلنے پر انہوں نے عملی جامہ پہنایا ۔بابری مسجد کی جگہ مندربنانے کی اجازت دے دی ۔
اس کا چرچا ھو رھا ھے کتنے دن پورے بھارت میں اس بل کے غلاف مظاہروں میں کتنی ھی لوگ زخمی اور شہید ھوچکے ھیں جیلوں میں قید ھیں تشدد کا نشانہ بن چکے ھیں ۔
کشمیر شق ٣٧٠ کو ختم کر کے ان کی جداگانہ حیثیت ختم کی ۔جبکہ قیام پاکستان کے وقت ١٩٤٦ سے ۔بلا شبہ یہ بڑی تشویناک بات ھے ۔
برکھا دت نے کہا ”ا کہ آج قاٸد عظم محمد علی جناح آج ہنس رھے ھیں ہم پر ۔…!ن کا دو قومی نظریہ آج صیح ثابت ھوا کہ“ ۔…..!
مسلمان اور ھندو دو الگ قومیں ھیں ان کی تہزیب رھن سہن اور سب سے بڑہ کر ان کا دین ۔ پاکستان اسی دن وجود مین آگیا تھا ۔جس دن پہلے انسان نے ھندوستان میں اسلام قبول کیا ۔قاٸد اعظم نے کہا تھا . ”ھندوستان مختلف مذہبوں سے تعلق رکھنے والے لوگوں کی سرزمین ھے ۔ان کو اکٹھے کر دینا خانہ جنگی کو دعوت دینا ہ“ اب شہریت بل سے یہ ثابت ھو رھا ہے۔
قاٸداعظم نے پہلے کانگرس پھر چھوڑ کر مسلم لیگ میں شامل ھوۓ کیونکہ وہ ھندو کے عزاٸم سے واقف ھو گیے تھے ۔کے وہ مسلمانوں کو محکوم بنانا چاھتے تھے جو وہ آج کشمیر اور مسلمانوں سے کر رہا تھا ۔
ان کا الگ اسلامی ریاست قاٸم کرنے کا مطالبہ درست ثابت ھوا ۔مگر اس وقت جن مسلمانوں نے پاکستان بنانے اور بھارت میں ھی رہنے کا فیصلہ کیا تھا انہوں نے ١٩٤٦ کے الیکشن میں ووٹ بھی نہ ڈالے تھے ۔بلکہ اسوقت ووٹ ١٨ سال کا بالغ کاسٹ کرنے کا قانون نہیں تھا بلکہ تاجر ۭزمیندار ۭٹیکس ادا کرنے والے حضرات اور جن کی تعلیم بی ۔اے تھی وہ وہ الیکشن میں حصہ لے سکتے تھے ۔اس وقت مسلمانوں میں شرح خواندگی بھی کم تھی ۔
دوسری وجہ بنگلہ دیش یعنی مشرقی پاکستان ۭپنجاب ۭسندھ ۭبلوچستان اور خیبر پختون خواہ کےلوگوں نے ۔آزادی کی تحریک چلاٸ تھی ۔بقیہ ھندوستان سے مسلمانوں نے آزادی کا تصور بھی نہیں رکھتے تھے ۔
نعرہ نہیں لگایا تھا ۔جن ١٦ یا١٧فیصد نے لگایا وہ بنگال حیدر آباد لکھنو۶ سے ھجرت کر کے پاکستان آگے۶ تھے اب بنگلہ دیش کی طرح یہ بھی پاکستان کی حامیوں کا بہانہ کر کے مسلمانوں کی نسل کشی کر رھا ھے ۔مودی ۔اقلیتوں سے اتنی نفرت خاص کرکے مسلمانوں سے کے انہوں نے یہاں حکومت کی یا خوف ھے ۔مسلمانوں سے ۔ انگریزوں سے آزادی کی جدو جہد میں اپنی جانیں قربان کیں ۔دھلی ۔سے پشاور تک تحریک آزادی میں مسلمان علما۶ کی لاشیں درختوں پر انگریزوں نے لٹکاٸ قربانیاں کنہوں نے دیں ۔ٹیپو سلطان نے شہادت کس سر زمین کے لیے دی ھندوستان کے لیے ۔آج آپ ان سے ان کی سر زمین چھین رھے ھیں ۔شہریت نہیں دیں گے ۔
قطب مینار ۭلال قلعہ ۭتاج محل تعمیر کرنے والے کون تھے ۔کن کی یہ سرزمین ھے ۔آپ اپنے ھدوستانی ھونے کا ثبوت دیں نریند مودی ۔
آپ نے ھندوستان کے لیے کیا کیا ۔کتنے مدرسے قاٸم کیے یونیورسٹی بناٸیں ۔
ھندتوا تحریک کے وہ بھارت کو خالص برہمن کی حکومت قاٸم کرنا چاہتے ھیں ۔اقلیتوں کے وجود کو ختم کرنا ۔چھوٹی ذات کے شودر لوگوں سے ناتواں سلوک جو پہلی ان کے پرکھہ کرتے آۓتھے. کانگرس کا سیکولر لیبرل گاندھی کے نعروں کے برعکس ۔۔اس کے علاوہ چالیس ہزار مسلمانوں کوجن کا تعلق بنگلہ دیش ۭافغانستان سے ھے ان کو وہاں بھیج دیں گے ۔
مگر جواہر لال نہروا یونیورسٹی میں آزادی کے نعرے کشمیر کا جھنڈا لہرایا ۔فیض احمد فیض اور حبیب جالب کا کلام پڑھتے ھیں ”ھم دیکھیں گے “ ھم دیکھیں گے “
انقلاب نوجوان قیادت ھی برپا کرتی ھے ۔تاریخ گواہ ھے۔ بھارت کے اندرونی حالات وے جے پے اور آٸ آر ایسوسی ایشن کی انتہا پسندی کی وجہ سے اور اس بل کے پاس ہونے پر کے جو ١٩٥٥ سے ٢٠١٤ تک بھارت میں پیدا ھوۓھیں وہ بھی دوسری اقلیتیں سکھہ اور عیساٸ اور پارسی ان کو دیں گے ۔
آپ یہ ملک خرید کر لاۓھیں خدا سے یا اپنے بھگوان سے ۔دنیا کو آپ کی اصلیت کا پتا چل چکا ھے ۔کشمیر میں مکمل لاک ڈاٶن کہ ١٧٠ دن ھورھے ھیں خدا کی پناہ زندہ لوگوں کو در گور کررھے ھیں ۔انکی زمین کیوں ہڑپ کررھے ھیں ۔اتنے بڑے منصف بن رہے ھیں ۔تو اقوام متحدہ کی قرار داد کے مطابق راۓ شماری کرانا چاھیے تھا ۔جیسا کے تقسیم ھند کے وقت طے ھوا تھا۔
اسوقت جن علاقوں میں مسلم حکمران تھے مگر عوام ھندو اکثریت میں تھی وہ بھارت کے حوالے کر دی گی۶ ۔مگر مسلمانوں کی اکثریت کے علاقوں میں مثلاً ً حیدر آباد جونا گڑہ بھی پاکستان میں نہ شامل کیا اور کشمیر کا مسٸلہ التوا میں ڈال دیا ۔
امریکہ نے کہا کہ کشمیر بھارت کا اندرونی معاملہ ھے ۔اقوام متحدہ کا اجلاس بھی آج ١٦جنوری کو ھورہا ھے پاکستان اور چین قرارداد اور کشمیریوں کی مشکلات کو پیش کریں گے ۔
اللہ تعالی ان کی مشکل حل کرے ۔ان کو آزادی کی نعمت ملے شہریت کا مسٸلہ حل ھو ۔ھمارے دل مسلمانوں کے لیے دھڑکتے ھیں ۔مسلمان کہتے ھیں کہ یہ ہماری سرزمین ھے ۔ہم بے دخل نہیں ھونگے ۔
کسی میں اتنی ہمت نہیں ادھر حریت قیادت جیلوں میں ھے ۔مزاحمت ھوتی ھے ۔ابھی بھی چار دنوں میں پانچ نوجوان شہید ھو چکے ھیں ۔بھارتی فوج تمام انسانی حقوق کی پامالی کر چکی ھے خواتین محفوظ نہیں ۔ھند کے مسلمانوں اللہ حفاظت کرے ۔
اس بل کو مودی حکومت واپس لیتی ھے کہ نہیں جس طرح وہ کشمیر میں پانچ ماہ سے مکمل لاک ڈاٶن کی ھوۓ ھیں وہ کسی کی نہیں سن رھے مگر اللہ کی لاٹھی بے آواز ھے ۔مولانا ابو کلام آزاد دھلی کی جامع مسجد میں مسلمانوں سے یہ کہ رھے تھے تقسیم ھند کے وقت کہ یہ تمہاری زمین ھے ۔تم کیوں اسے چھوڑ کر جارھے ھیں ۔ قاٸد اعظم کی دانشمندی تدبر ۭاور دور ا ندیشی کی مثال نہیں کی کہ وہ دنیا کی واحد قاٸد ھیں بغیر قیدو بند کے ایک قوم کو آزادی کی منزل تک لے گیے-

اپنا تبصرہ بھیجیں