اقوال ۔کشف زاہراء




اقوال . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . تحریر
کشف زاہراء۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(ایک ہزار سے زائد اقوالِ زرین کا دل کش خزانہ) 
انسانی زندگی میں مختلف قسم کے نشیب و فراز آتے رہتے ہیں۔ دکھ درد اور آرام و آسایش سبھی کچھ سے انسان گذرتا رہتا ہے۔ جب اسے پریشانیوں اور مصائب کا سامنا کرنا پڑتا ہے تو اس کے حوصلے پست ہونے لگتے ہیں اور جب آرام و اطمینان کا دَور ہوتا ہے تو اس کے اندر خود اعتمادی کی زیادتی ہونے لگتی ہے، یہ دونوں ہی باتیں اس کے لیے نقصان دہ ہیں۔
ایسے حالات میں بزرگوں کے اقوال اور ان کی پیاری پیاری باتیں ہمیں صحیح راستہ دکھاتی ہیں۔ 
اقوالِ زرین کی اہمیت سے قطعاً انکار نہیں کیا جا سکتا۔ انسان کے اندر موٹی موٹی کتابوں کے مطالعہ کے بعد بھی کبھی کبھی وہ انقلابات نہیں پیدا ہو پاتے جیسا کہ ان اقوال کو پڑھ اور سُن کر پیدا ہوتے ہیں۔اقوالِ زرین کی ان ہی اہمیت کے پیشِ نظر دورانِ مطالعہ ایسے گراں قدر جواہر پاروں کو جو کہ ذہن و دل کو براہِ راست متاثر کرتے تھے مرتب اپنی ذاتی ڈائری میں نقل کر لیا کرتا تھا۔ اب جب کہ ایک اچھا خاصا ذخیرہ ان اقوال کا جمع ہو گیا تو لوگوں کے استفادہ کے لیے اسے کتابی صورت میں پیش کیا جا رہا ہے۔
٭  آخرت میں کسی عمل کے قبول ہونے کے لیے ضروری ہے کہ وہ عمل ایمان کے ساتھ کیا جائے۔
٭  اپنی زبان سے وہی بات کہو جو تمہارے دل میں ہے اللہ ہر چیز کو جانتا ہے۔
٭ جو شخص کل اپنی موت کا دن سمجھتا ہے اسے موت آنے سے کوئی تکلیف نہیں ہوتی۔
٭  جب مسلمان کا دل اللہ کے ڈر سے کانپتا ہے تو اس کے گنا ہ ایسے جھڑتے ہیں جیسے درختوں کے پتے۔
٭  انسان گنا ہ کرنے کی وجہ سے جہنم میں نہیں جاتا، بل کہ گناہ پر مطمئن رہنے اور توبہ نہ کرنے کی وجہ سے جہنم میں جاتا ہے۔
٭  بے شک صدقہ کے ذریعہ سے اللہ عمر بڑھا دیتا ہے اور بری موت کو دفع فرماتا ہے۔
٭  آپ کے لیے جو لوگ کام کرتے ہیں ان کے ساتھ ہمیشہ احسان کرو اور ان کے ساتھ اچھے سے رہو۔
٭ کھانے کو ٹھنڈا کر لیا کرو کہ گرم کھانے میں برکت نہیں ہوتی۔
٭ سچ بولنا نیکی ہے اور نیکی جنت میں لے جاتی ہے، جھوٹ بولنا فسق و فجور ہے اور فسق و فجور دوزخ میں لے جاتا ہے۔
٭ جو شخص نرمی سے محروم کر دیا گیا وہ بھلائی سے محروم کر دیا گیا۔
٭ جو کھانے کے بعد برتن کو چاٹ لے گا وہ برتن اس کے لیے استغفار کرے گا۔
٭ کھاؤ اور پیو اور صدقہ کرو اور پہنو جب تک اسراف(فضول خرچی) اور تکبر کی آمیزش نہ ہو۔
٭ کھانے سے پہلے اور بعد میں وضو کرنا محتاجی کو دور کرتا ہے اور یہ انبیائے کرام علیہم السلام کی سنتوں میں سے ایک پاکیزہ سنت ہے۔
٭ دو چیزیں منافق میں نہیں ہوتیں (۱) نیک اَخلاق اور (۲) دین کی صحیح سمجھ۔
٭ انسان زبان کے پردے میں چھپا ہے۔
٭ ہمیشہ سچ بولو تاکہ تمہیں قسم کھانے کی ضرورت نہ پڑے۔
٭ جو شخص جھوٹ بولتا ہے تو رحمت کا فرشتہ اس سے ایک میل دور چلا جاتا ہے۔
٭  وہ شخص کیسے تکبر کرسکتا ہے جو مٹی سے بنا ہو، مٹی میں ملنے والا ہو اور مٹی میں کیڑے مکوڑوں کی غذا بننے والا ہو۔ 
٭ تم میں بہترین شخص وہ ہے جو خود قرآن کی تعلیم حاصل کرے اور دوسروں کو قرآن کی تعلیم دے۔
٭ خاموشی ہر مصیبت کا علاج ہے لیکن ظلم کے خلاف آواز اٹھانا بہترین عمل ہے۔
٭  سچا مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں۔ 
٭ عقل مند اپنے آپ کو پست کر کے بلندی حاصل کرتا ہے اور نادان اپنے آپ کو بڑھا کر ذلّت اٹھاتا ہے۔ 
٭ محتاج اور مسکین کی پرورش کرنے والا اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والے کی طرح ہے۔
٭ دنیا کی ہر چیز کی حفاظت کرنی پڑتی ہے مگر علم ایک ایسی چیز ہے کہ وہ تمہاری حفاظت کرتا ہے۔
٭ آپس میں مصافحہ کرو دل کا کینہ جاتا رہے گا۔ تحفہ دیا لیا کرو محبت پیدا ہو گی عداوت نکل جائے گی۔
٭ بے شک دلوں میں برے خیالات آتے ہیں مگر عقل و دانش اور اللہ کا فضل و کرم انسان کو ان سے دور رکھتے ہیں۔
٭  جس چیز کو زیادہ پینے سے نشہ پیدا ہوتا ہے اسے تھوڑا پینا بھی حرام ہے۔
٭ جسے یہ پسند ہو کہ اللہ تعالیٰ تنگ دستی کے وقت اس کی دعا قبول کرے تو وہ خوش حالی میں دعا کی کثرت کرے۔
٭  کھڑے ہو کر ہرگز کوئی پانی نہ پیے اور جو بھول کر ایسا کر گذرے تو وہ قَے کرے۔
٭ جس کے سینے میں کچھ قرآن نہیں وہ ویرانے مکان کی مانند ہے۔
٭ دنیا کا غم دل میں تاریکی لاتا ہے اور آخرت کی فکر دل میں نور پیدا کرتی ہے۔
٭ دنیا میں عزت کا سبب مال ہے اور آخرت میں عز ت کا مدار اعمال پر ہے۔
٭ عورت کا گھر سے باہر جانا شوہر کو پسند نہیں تو آسمان کے سارے فرشتے اس پر لعنت بھیجتے ہیں۔ 
٭ جو شخص پہلے سلا م کرتا ہے وہ تکبر سے پاک ہوتا ہے۔
٭  جو قبر میں بغیر اعمالِ خیر کے گیا گویا وہ سمندر میں بغیر کشتی کے گیا۔
٭  جھوٹے ہونے کے لیے یہی کافی ہے کہ سنی سنائی باتیں لوگوں سے کہتا پھرے۔

اقوال ۔کشف زاہراء” ایک تبصرہ

اپنا تبصرہ بھیجیں