دوستی ۔ کشف زاہراء




دوستی. . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . .
تحریر کشف زاہراء۔۔۔۔۔،۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ . ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دوست کے معنی ہیں رفیق، ساتھی۔دو دوست ایک قالب اور دو جان ہوتے ہیں عربی میں ان کو خلیل کہتے ہیں۔ جن دو شخصوں میں بے حد موافقت ہو ان کو حبیب کہتے ہیں۔
انسان سماج میں تنہا بھی رہ سکتا ہے لیکن تنہا آدمی کے لیے زندگی گزارنا تھوڑا سا مشکل ہو جاتا ہے۔عام طور پر ہم عمر لوگوں میں دوستی پیدا ہونے کا زیادہ امکان رہتا ہے۔ دو آدمیوں میں کوئی مناسبت نہ ہو تو دوستی پیدا نہیں ہوسکتی۔ لڑکے اور بوڑھے میں، عالم اور جاھل میں، توانگر اور مفلس میں،دنیا دار اور درویش میں دوستی ہونا ناممکن ہے۔جن کی طبیعت کا میلان ایک ہی کام کی طرف ہوتا ہے ان میں فطرتاً دوستی پیدا ہوتی ہے۔
طبیعت کے اعتقاد کی یکسوئی دوستی کو قائم اور زیادہ مضبوط بناتی ہے۔ غیر مناسب عمر، مختلف فطرت والے لوگوں کی دوستی عموماً ناپائیدار اور محض غرض مندانہ ہوتی ہے۔ اس جہان میں دوست صادق کا پایا جانا بہت مشکل ہے اور جس نے اسے پایا وہ خوش نصیب ہے۔داناؤں کا قول ہے کہ جو خوشی، غم ،افلاس اور زندگی موت میں ساتھ دے وہی دراصل سچا دوست ہے۔
سچا دوست اپنے دوست کی کامیابی کے لئے ہمیشہ کوشاں رہتا ہے۔ وہ اپنے دوست سے کسی خدمت کا عوض نہیں لینا چاہتا اور نہ اپنا کوئی مطلب حاصل کرنا چاہتا ہے۔ وہ اپنے دوست کو خراب راستے سے روک کر اچھے راستے پر لگاتا ہے۔ اس کی برائیوں پر وہ پردہ ڈالتا ہے اور اس کے عمدہ اوصاف کا اظہار سب کے سامنے کرتا ہے اور دل و جان سے اس کی بھلائی میں مشغول رہتا ہے۔ وہ غم کی حالت میں دوست کو تسلی اور تشفی دیتا ہے۔ اچھے کاموں کا شوق دلاتا ہے۔ وہ اپنے دوست کے لئے اپنی جان قربان کرنے کو تیار رہتا ہے۔
ہم اکثر اوقات اپنے ماں باپ اور بھائی بہن وغیرہ سے بعض باتوں میں رائے لینے میں پس و پیش کرتے ہیں۔ مگر ہچکچاہٹ دوست سے نہیں ہوتی۔ جب اپنے والدین اور بھائی بہن کی محبت کے باوجود ہمیں ان سے راز دل کہنے میں تامل ہوتا ہے تو ہمیں لازم ہے کہ اس زندگی کے سفر کو طے کرنے کے لئے کسی سچے اور پرخلوص دوست کی تلاش کریں اور اس کی محبت میں زندگی آرام اور اطمینان سے گزاریں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں