کسک ( آمنہ آفاق )




” ماما بھوک لگی ہے کب دیں گی کھانا“
نوید کے کھانا مانگنے پر میرے ہاتھ اور تیزی سے چلنا شروع ہو گئے لو جی پندرہ منٹ میں میں نے اپنے بیٹے کو کھانا تیار کر کے کھلا بھی دیا اب وہ ہنستا کھیلتا کتنا پرسکون لگ رہا تھا اور میں مطمئن، اس کو کھیلتا دیکھتی رہی یہ کیفیت ہی الگ ہوتی ہے ، بے انتہا سکون والی کہ میرا بچہ بھوکا نہ ہو یا کسی تکلیف میں مبتلا نہ ہو بس میرا بچہ سکھ میں ہو ایک ماں کو اور کیا چاہیے
اسی کیفیت میں مگن ہی تھی کہ اچانک دل میں چھپی کشمیری ماوں کی کسک کہیں سے چپکے سے ذہن کے پردے پر آ وارد ہوئی اور میں بے چین ہوگئی..اللہ اللہ کیا وہ مائیں نہیں ہیں ان کی بھی تو ممتا پھڑک رہی ہوگی اور کتنی اس کا تو میں اندازہ بھی نہیں لگا سکتی چھ ماہ سے لگے اس کرفیو میں پتہ نہیں وہاں زندگیاں بچی ہوگی بھی یا نہیں ایک عرصے سے قید و بند کی صعوبتوں میں مبتلا وہاں کی مائیں اپنے پیارے بچوں کو بھوک سے بلکتا دیکھ پتہ نہیں کتنی ہیں موتیں مرتیں ہوں گی ، کتنی ہی ماؤں کی گودیں اجڑ چکی ہیں کتنے ظلم و ستم ہیں جو ہمارے مسلمان بھائی وہاں سہہ رہے ہیں
بے شک ہم سب کشمیریوں کے لیے اپنے دل میں نرم جذبات رکھتے ہیں ہم آئے روز وہاں پر ہونے والے واقعات کی خبر سنتے آرہے ہیں کتنے ہی جوان جام شہادت نوش کرچکے ہیں کتنی ہیں مائیں بہنیں بیٹیاں خوف و ہراس کا شکار ہیں ، بھارتی درندے سفاکی کی انتہا کو چھو چکے ہیں کونسا ظلم ہے جو ان پر نہیں ڈھایا گیا ہے ،چھے ماہ سے لگے اس کرفیو نے کتنی زندگی تنگ کردی ہے ان پر، یہ سب کچھ ہم جاننے کے بعد اور اپنے دل میں نرم گوشہ رکھنے کے باوجود دنیا کی چکاچوند میں گم ہیں ہم بحیثیت مسلمان روز محشر میں کیا جواب دیں گے جب ہمارا گریبان ہوگا اور کشمیری بھائیوں کا ہاتھ ہوگا،
ہمیں آئے روز وہاں اپنے دینی بھائیوں کو جان سے گزرتا دیکھنے کے باوجود رونا آتا ہے تو ٹی وی ڈراموں کے اداکاروں کی جھوٹی موت پر ، افسوس ہے کہ کہاں کھڑے ہیں ہم ، کیا کردار ہے ہمارا ، بھارت کے سفاکی کی انتہا کو چھو جانے کے باوجود ہم دبکے بیٹھے ہیں ، وہاں ہمارے کشمیری بھائی، بہن، بیٹیوں کو موت کی وادیوں میں سلایا جارہا ہے، ان کی منتظر نگاہیں ہماری جانب ہیں اور ہم منہ پھیرے بیٹھے ہیں لیکن ہم ان کے بارے میں کوئی قدم کیسے لیں؟؟؟ افسوس کا مقام ہے کہ ہمارے جسم کا ایک عضو سخت تکلیف میں مبتلا ہونے کے باوجود ہمارا پورا جسم وہ درد محسوس کرنے سے قاصر ہے
آج ہر جگہ مسلمان ہی ظلم و بربریت کا شکار ہے ، شام ہو ، فلسطین ہو ، کشمیر ہو یا برما ہر جگہ مسلمانوں کا لہو سستا ہوگیا ہے کیا ایسا نہیں لگتا کہ ساری طاقتیں جمع ہوکر مسلمانوں کو صفحہ ہستی سے مٹانے کی تیاری میں ہیں تو پھر سب مسلمانوں کو بھی یکجا ہوکر اپنے دینی بھائیوں کی مدد کے لیے اٹھنا چاہٸے نہ کہ دنیا کی چند روزہ زندگی کے مزے کی خاطر آخرت کی تیاری بھی نہ کر پائیں
١٩٩٠ کی دہائی سے جو تحریک چلی ہے کہ 5 فروری کو کشمیر ڈے منایا جائے گا کشمیر سے یک جہتی کا اظہار کیا جاتا ہے تمام اسکولز بند کر دیے جاتے ہیں اور کشمیریوں سے وعدہ ایفا کیا جاتا ہے کہ ہر مشکل گھڑی میں ہم آپ کے ساتھ ہیں مگر ان تمام وعدوں نعروں تقریروں سے ان کے اوپر کیا جانے والے مظالم میں رتی برابر بھی کمی نہیں آئی ہے ،
میرے عظیم حکمرانوں ،شاید آپ جانتے نہیں کہ جس منصب پر آپ فاٸز ہو یہ کوئی چھوٹا موٹا منصب نہیں ہے بلکہ ہر ایک کو اپنے مرتبےو منصب کے لحاظ سے جواب دینا ہے یہ کرسی یہ مرتبہ یہ منصب حتیٰ کی یہ زندگی بھی ہمیشہ رہنے والی نہیں ہے تو پھر کس بات کی دیر، کس بات کا ڈر جب اللہ کی مدد مسلمانوں کے ساتھ شامل حال ہے،
ہم جانتے ہیں کہ پاکستان ہر حال میں امن کا متلاشی ہے مگر ان لوگوں کے ساتھ امن قائم رکھنے کی خواہش کرنا اپنے آپ کو دھوکے میں ڈالنے کے مترادف ہے جو ہمارے ہی مسلمان بھائیوں کو گاجر مولی کی طرح کاٹ رہے ہیں، کشمیر میں ٨٠ فیصد مسلمان ہونے کے باوجود جس طرح ان کی نسل کشی کی جارہی ہے ،کسی کا باپ ، بھاٸی ، بیٹا حتیٰ کہ پورا خاندان مٹ چکا ہے، لوگ اپنے پیاروں کو اپنے ہی گھروں میں دفنا رہے ہیں تو کیا ؟؟؟ ایسے حالات میں ہمیں اپنے گھروں میں بیٹھ کر تماشہ دیکھنا زیب دیتا ہے ؟؟؟

اپنا تبصرہ بھیجیں