یوم یکجہتی کشمیر ۔ اسماء اشفاق




“یوم یکجہتی کشمیر”
شاہراہ فیصل سے گزتی گاڑی کی ونڈو اسکرین پے نظرجاتی ہے اور سامنے مشہور شاپنگ مال سے نکلتے افراد ساتھ ہی لمبی قطاروں میں لگی گاڑیاں بہت کچھ سوچنے پر مجبور کرگئی۔
اللہ کریم کی انگینت نعمتیں جن سے ہم صبح وشام مستفید ہوتے ہیں کتنے ماہ سے ہمارے کشمیری بھائیوں پر بھارت کے ظالمانہ تسلط کہ ان پر یہ آئے روز کی اشیاء کا حصول بند کردیا گیا ہے۔ایک وقت کا راشن میسر نہ ہو تو ہم کتنے کلبلا اٹھتے ہیں ۔اور جہاں مہینوں سے بھوک، پیاس، خوراک اور علاج کی تکلیفیں سہی جارہی ہوں ۔گھروں سے نکلنے پر شہادتوں کا سامنا ۔ فون انٹر نیٹ بند کرکے بیرونِ دنیا سے رابطہ منقطع کردیا گیا ہو ۔
ایسے میں جب کسی ذرایع سے انہیں خبر ملتی یو کہ پاکستان میں ہمارے لیے احتجاج کیا جارہا ہے یا کسی ریلی، جلسے کا اہتمام کیا گیا تو انکے حوصلے کتنے بلند ہوتے ہونگے کہ آزمائش کی ان گھڑیوں میں ہوہ تنہا نہی بلکہ ہم انکے ساتھ ہیں ۔انکی تکلیف کو اپنی تکلیف سمجتے ہیں ۔انکے حق کی آواز بلند کررہے ہیں ۔انکی مدد کے لیے عوام و خاص سب کو جمع کیا جارہا ہے ۔
سوچنے کی بات یہ ہے کہ کیا ہم نے انکے لیے کچھ وقت نکالا ۔ انکے حق کی آواز اٹھانے میں ہمارا کتنا کردار رہا یا ہم نے چھٹی کے دن کو بطور چھٹی سیرو تفریح کی نظر کرڈالا۔یا اسے چند سیاسی مفاد کی جدو جہد تصور کیا۔ مگر خوش قسمتی سے اب ایسی عوامی سوچ نہی رہی۔ دیکھا یہ گیا کہ ہر طبقہ اور ہر پارٹی جو پہلے اپنے ہی مفاد کی جدوجہد کرتی تھی اب انہیں بھی کشمیر کی آزادی کی آواز اٹھاتے سناگیا ۔یعنی اب انہیں اتنا احساس ضرور ہوا کہ کشمیری بھائیوں کے لیے بھی کوئی کانفرنس منعقد ہونی چاہیے ۔یوں ایک ایشو پر قومی یکجہتی کا تصور دکھائی دیا جو یقیناً جہاں کشمیریوں کے لیے مفید ہو گا وہیں پاکستانیوں کے لیے بھی خوش آیند ہے۔
اسماء اشفاق

اپنا تبصرہ بھیجیں