میرے وطن تیری جنت میں آئیں گے اک دن (صائمہ وحید)




آج گھر میں خوب گھا گھمی تھی۔بڑی پھپھو دو سال بعد شادی میں شرکت کے لئے خصوصی طور پر پاکستان تشریف لائیں تھیں ۔وہ تین بھائ،تین بہنیں تھیں۔بہنیں شادی شدہ اپنے گھر میں خوش تھیں۔تینوں بھائ ایک گھر میں الگ الگ پورشنز میں اپنی فیملی کے ساتھ رہتے تھے۔آپس میں محبت تھی۔ایک دوسرے کی تکلیف میں مدد کرنا،ااور خوشی سب مل کر مناتے تھے۔
چونکہ بڑے بھائ کے بیٹے کی شادی تھی۔گھر میں رونق تھی۔سب بہنیں بھی موجود تھیں۔
عالیہ کا بہن بھائیوں میں چوتھا نمبر تھا ۔وہ اپنے شوہر اور تین بچوں کے ساتھ کینڈا سے آئ تھیں۔عالیہ کی آمد پر سب بہت خوش تھے۔وہ بہت ملنسار،خوش ا خلاق،سادہ تھیں۔بڑا سا دوپٹہ سر پر جمائے۔مسکرا مسکرا کر سب سے مل رہی تھیں۔
بڑی بھابھی نے ہنس کر کہا۔
عالیہ پر کینیڈا کے ماحول نے کوئ اثر نہی ڈالا
عالیہ نے مسکرا کر دیکھا۔
بھابھی ہم وہاں کے آزاد ماحول سے بہت بچتے ہیں۔میں نے اپنے بچوں کی تربیت بھی اپنی تہذیب،کلچر کے مطابق کی ہے۔وہاں کی بے حیائ،مادر پدر آزاد ماحول سے بچوں کو بچانے کی ہر ممکن کوشش کی ہے۔اللہ کا شکر ہے ہم وہاں کے ماحول کا حصہ نہی بنے۔
بہت اچھی بات ہے ۔عالیہ ۔ہماری تہذیب ہی ہماری پہچان،ہماری کامیابی ہے
بڑے بھائ نے ان کی تائید کی۔
انکی 8 سالہ بیٹی گڑیا بھی دوپٹہ اوڑھنے انکے برابر میں بیٹھی تھی۔
دوسرے دن انھوں نے سب کو تحائف دئیے جو وہ کینیڈا سے لائیں تھیں۔سب انکے گرویدہ تھے۔
انکی بھابھیاں کچن میں مصروف تھیں۔عالیہ کے شوہر،دونوں بیٹے انکے بھائ کے ساتھ باہر گئے تھے۔عالیہ مغرب کی نماز سے فارغ ہوکر آرام کررہی تھیں۔۔کہ۔۔
انکی بیٹی گڑیاانکے پاس آکر بیٹھی منہ پھولا،ناراض سی کہنے لگی۔
‘مما آپ نے کہا تھا۔موبائل پر گانے سننا،ڈانس،کیٹ واک یہ سب گندے،آگ میں لے جانے والے کام ہیں۔”دیکھیں۔ذنیرہ،رمشا سب یہ کررہی ہیں ۔
عالیہ اپنی بیٹی کی بات سن کر اٹھ کر بیٹھ گئیں۔
اچھا آؤ،۔۔وہ گڑیا کا ہاتھ پکڑے کمرے میں موجود تھیں۔جہاں انکی بھانجی، بھتیجیاں مل کر رونق لگارہی تھیں۔رنگیں ،جھلملاتے دوپٹے لئے کیٹ واک،موبائل پر گانے چل رہے تھے تالیاں بجائیں جارہی تھیں۔۔
عالیہ کو دیکھتے ہی سب انکے گرد جمع ہوگئیں۔عالیہ سب کے پاس بیٹھ گئیں۔
چندا یہ گانے تو بند کرو۔
انھوں نے پیار سے کہا۔
پھپھو آپکی اسکن تو بہت ڈائننگ ہے۔اپ فئیر اینڈ لولی لگاتی ہوں گی۔چھوٹی حورب نے انکے چہرے کو دیکھ کر معصومیت سے کہا۔
وہ بے ساختہ مسکرائیں۔
نہی! میں فئیر اینڈ لولی نہی لگاتی۔کیونکہ اسمیں سور کی چربی شامل ہوتی ہے۔
اخ،آااخ،اف توبہ۔۔کسی کو ابکائ،کسی کو متلی ہونے لگی۔
میں تو کبھی نہ لگاؤں ۔یہ رمشہ تھی
میں بھی پھینک دوں گی۔باییو نکھار لے لوں گی۔یہ ذونیرہ تھی
جی بالکل۔جس میں حرام شامل ہو۔وہ چیز استعمال نہی کرنی چاہئے۔
اللہ بھی ناداض،ااور نقصان بھی ہوتا ہے۔
چین میں دیکھا جوہے،چمگاڈر،حرام جانور کے سوپ سے کیسا خطرناک وائرس پھیلا ہے۔
جی پھپھو۔۔سب نے کہا
تو مما یہ گانا بجانا بھی تو حرام ہے۔
گڑیا نے تھنک کر کہا۔
زنیرہ نے گڑیا کو دیکھا۔پھر کہا۔۔۔۔
یہ تو شادی کی خوشی میں ہے۔خوشی میں تو سب چلتا ہے۔ناں۔۔پھپھو۔۔!
عالیہ نے غور سے اپنی بھتیجیاں کو دیکھا۔
میری چندا۔!غم میں تو سب روتے ہیں۔خوشی میں ہی تو ان چیزوں سے پرہیز ضروری ہے۔خوشی میں بھی اللہ کی حد نہ توڑیں۔یہں تو امتحان ہے۔
اچھا یہ بتاؤ ۔ہمارے کندھوں پر فرشتے فرشتے موجود ہیں انکے نام،اور کام کیا ہیں۔۔؟
کراما کاتبین۔۔دائیں کندھے والا فرشتہ اچھے کام،بائیں کندھے والا گناہ لکھتا ہے ۔۔ذنیرہ نے جواب دیا ۔
بالکل ٹھیک۔۔اور جسکے گناہ زیادہ ہوں گے وہ کہاں جائے گا ۔۔جنت میں یا جھنم میں ۔؟
جھنم میں۔۔سب نے ساتھ جواب دیا۔۔
اور جس کے اچھے کام ذیادہ ہونگے وہ مسلمان کہاں جائیں گے۔؟
جنت میں ۔۔
شاباش۔۔
یہ بتائیں۔۔اچھے کام کونسے ہیں ۔؟
نماز،قران پڑھنا۔۔حوریہ نے جواب دیا۔۔
اور۔۔سب بتائیں۔۔عالیہ نے اکسایا۔۔
سچ بولنا،امی بابا کا کہنا ماننا،۔۔
حج کرنا،روزے رکھنا،
غریب کی مدد کرنا۔۔
اب سب بتارہیں تھیں۔۔شاباش۔۔!آپ سب تو بہت سمجھ دار ہیں ۔کمزور کی مدد کرنا۔بھی بہت بڑی نیکی ہے ۔
آپ کشمیر کے مسلمانوں کے بارے میں جانتی ہیں۔۔؟
جی کشمیر بہت خوبصورت ہے۔
اور۔۔؟ سب خاموش۔۔۔؟
کیونکہ ہمارے تعلیمی نصاب میں مقبوضہ کشمیر پر بھارت کے غاصبانہ قبضے،ظلم کے متعلق کوئ سبق شامل نہی۔نہ اسکولوں میں بچوں کو شعور دیا جاتا ہے۔کہ کشمیر بن ہماری شہہ رگ ہے ۔
ہمارے معصوم بچے کشمیر کے بارے میں نہی جانتے۔۔
پیاری بیٹیوں ۔پاکستان کے دریا کشمیر سے آتے ہیں۔ہمادے کشمیر پر انڈیا نے قبضہ کر رکھا ہے۔بھادتی فوجی پیلٹ گن سے فائر کرتے ہیں۔بچوں،بڑوں کی آنکھیں ضائع ہو جاتی ہیں۔سینکڑوں لوگ نابینا ہوگئے۔انڈین فوجی مسلمانوں کے گھروں میں گھس جاتے ہیں کھانے کا سب سامان پھینک دیتے ہیں۔بچوں،عورتوں کو مارتے،مردوں کو پکڑ کر لے جاتے ہیں۔وہاں 5 اگست 2019سے کرفیو لگا ہے ۔اسکول،ہسپتال،بازار سب بند کردکھا ہے۔بچے بھوکے روتے ہیں ۔
انڈین فوجی ایسا کیوں کررہے ہیں ۔؟
کیا انکے اپنے بچے نہی ہیں ۔؟
سب کی آنکھیں نم ہورہی تھیں۔
چندا۔اللہ تعالیٰ قران میں فرماتے ہیں۔
“اگر مسلمانوں کو خوشی،کامیابی ملتی ہے۔تو یہ ہندو،غصہ میں اپنے ہاتھ چبانے لگتے ہیں۔یہ مسلمانوں کے دشمن ہیں۔”
اس لئے وہ مسلمانوں پر ظم و تشدد کرتے ہیں۔
تاہم انکی مدد کیسے کریں۔۔؟
رافعہ نے سوال کیا۔۔۔
اوہ اچھا۔۔پھپھو۔۔آپ کشمیر کا بتارہیں ہیں۔جنکے لئے۔وزیراعظم عمران خان نے جمعہ،جمعہ احتجاج کیا تھا۔۔اور بہت اچھی تقریر بھی کی تھی میری اسکول ٹیچر نے بتایا تھا۔۔شاید ستمبر میں۔۔۔
زنیرہ بڑے جوش سے بول رہی تھی۔۔
مگر پھپھو وزیراعظم نے کہا تھا ۔
جنگوں سے تباہی ہوتی ہے۔لوگ مرتے ہیں۔جیت کسی کی نہی ہوتی۔ہم جنگ نہی لڑیں گے
ہم انکی مدد کے لئے احتجاج کرتے تو ہیں۔۔
عالیہ نے اپنی تیرہ سالہ بھتیجیاں کو محبت سے دیکھا۔
جی بیٹا ۔ہم احتجاج تو کرتے ہیں۔
مگر احتجاج سے آگے بھی عملی اقدامات کرنے ضروری ہیں۔۔
اور جنگوں سے تباہی جب ہوتی ہے۔جب جنگیں لالچ،قبضہ،کمزور کا حق مارنے،لوگوں پر ظلم کرنے کے لئے کی جائیں ۔
لیکن جب اسلام کے نظام کے لئے ،کمزور کا حق دلانے،ظلم ختم کرنے کے لئے جنگ،جہاد کیا جاتا ہے۔تو امن قائم ہوتا ہےفساد ختم ہوتا ہے۔
آپ کو معلوم ہے۔محمد بن قاسم نے سندھ پر حملہ کرکے بن فتح کیا۔تو ہندوؤں کو بھی امن ملا۔راجہ داہر نچلی ذات کے ہندوؤں کو بھی غلام بناکر رکھتا تھا۔جب محمد بن قاسم نے سندھ فتح کیا۔تو عدل و انصاف کا نظام نافذ کیا۔۔ہندو بھی ان سے خوش تھے۔
آج بھی ہندو گائے کا گوشت کھانے والوں کو بھی قتل کر دیتے ہیں ۔کیونکہ وہ گائے کو ماتا کہتے ہیں۔گائے ان کے لئے انسان سے بڑھ کر ہے۔
کشمیر تو جنگ سے ہی آذاد ہوگا۔انشاء اللہ۔۔
مگر ہمیں فضول خرچ کرنے کے بجائے اپنی پاکٹ منی سے رقم جمع کریں۔کشمیر فنڈ دیں۔اور انکے گانے،ڈرامے۔۔سب دیکھنا چھوڑ دیں۔۔
جی پھبھو آپ ٹھیک کہہ رہی ہیں ۔بھادتی فوج کے حملوں سے آزاد کشمیر میں بھی بہت نقصان ہوتا ہے۔ہم ضرور کشمیر فنڈ دیں گے۔۔
اوہو۔۔یہ بچوں کے ساتھ محفل سجا رکھی ہے۔۔
تینوں بھابھیاں کمرے میں داخل ہوئیں۔
جی آپ بھی ائیے۔۔
عالیہ نے کہا۔۔
اور ہمارے نبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا جو دجال اور ہندوؤں سے جنگ کرے گا وہ جنت میں جائے گا۔۔
غزوہِ ہند میں مسلمانوں کو فتح کی خوش خبری دی ہے۔
ارے ہاں کشمیر میں مسلمانوں پر بہت ظلم ہوتا ہے۔اللہ انکی مدد کرے۔آزادی دلائے۔
بڑی بھابھی نے دکھ سے کہا۔۔
اور کشمیر جب آذاد ہوگا جب ہم سب محمد بن قاسم،نورالدین زنگی،سلطان صلاح الدین ایوبی جیسے سربراہان مملکت کا انتخاب کریں گے۔۔ورنہ بس تقریریں ہی اچھی ہوں گی ۔
چھوٹی بھابھی نے مسکرا کر کہا۔۔
ہم سب آپ سے اتفاق بن کرتے ہیں۔
سب بھابھیاں نے ساتھ جواب دیا۔
عالیہ بے ساختہ مسکرادیں۔انکی آنکھیں نم تھیں۔اور دل گا رہا تھا ۔
میرے وطن ،میرے وطن
تیری جنت میں آئیں گے اک دن ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں