اصل کام بھی کر لیجیے – ام نور




ہر طرف خوف وہراس ، بے بسی ، پریشانی ہے. ہر ایک اللہ کے حضور توبہ کررہا ہے استغفار کی تسبیحات پڑھیں جارہی ہیں . کہیں آ یت کریمہ کس ورد ہورہا ہے توکہیں لبوں پہ درود تنجینہ جاری ہے…….
علماء کرام مسلسل دعاؤں اور استغفار کی تلقین کررہے ہیں… میڈیا بھی مختلف مکاتب فکر کو بلا کر احتیاطی تدابیر اور دیگر حوالوں سے گفتگو کررہا ہے . ہلچل ہے افراتفری ہے دل نرم ہیں طویل سجدے ہیں رب کے حضور آہ و زاری ہے مگر …….عمل کی تبدیلی
جو مطلوب ہے وہ کہاں ہے؟؟ علماء کرام ہر ڈرامے اور اشتھار کے درمیان دعاؤں کا کہتے ہیں …..حفاظت کی دعائیں پڑھاتے ہیں مگر اللہ کے نبی کی وہ حدیث کیوں نہیں سناتے کہ جب تم نیکی کا حکم دینا اور گناہوں سے روکنا چھوڑ دوگے تو اللہ تعالیٰ تمہاری دعائیں قبول نہیں کرے گا…..!من حیث القوم کیا ہمارے رویے میں کوئی تبدیلی ہے؟
ہم تو زندگی کی معمولی ضروریات کے لیے اپنا دل بڑا نہیں کر پاتے بس اپنا پیٹ بھر جائے…….حق کی نصیحت اپنی ذات کے لیے ہمیں برداشت نہیں دوسروں کو مزے سے برا بھلا کہہ سکتے ہیں . نماز روزہ حج ہمارے نزدیک دین کا مفہوم بس یہی رہ گیا ہے . آ ج اللہ اکبر کی صدا ہر گھر سے بلند ہو رہی ہے مگر سوچنے کی بات یہ ہے کہ…….کیا ہم رب کی کبریائی واقعتاً اس معاشرے اور سب سے بڑھ کر اپنی ذات پر قائم کرنے کو تیار ہیں؟ اشھد ان لا الہ الااللہ …….کیا ہماراہر عمل اس الہ کے حکم کے تابع ہے جس کے معبود ہونے کی گواہی دیتے ہیں. اشھد ان محمد رسول اللہ ……..کیا ہم نے ہر اس بات کو ترک کردیا ہے جس سے محمد رسول اللہ نے ہمیں روک دیا ہے…….حی علی الصلاۃ………کیا نماز ہمیں دنیا کے سب کاموں سے بڑھ کے مرغوب ہے
حی علی الفلاح …….. فلاح ہمارے نزدیک کیا ہے دنیا کی چند روزہ زندگی یا ہمیشہ قائم رہنے والی آ خرت ……اللہ اکبر اللہ اکبر…….بےشک اللہ ہماری نیتوں اور خیالات سے بھی واقف ہے.
لا الہ الااللہ۔۔۔۔۔۔۔!

اپنا تبصرہ بھیجیں