غافل تجھے گھڑیال یہ دیتا ہے منادی – راحیلہ چوہدری




اس وقت پوری امتِ مسلمہ سخت آزمائش کے وقت سے گزر رہی ہے ۔ کیسا کڑا وقت ہے کہ اللہ نے ہمارے شاندار اور آسائشوں سے بھرے محل چند ہی دنوں میں قید خانوں میں تبدیل کر دیے ہیں ۔
معاملاتِ زندگی بند ہیں ۔ ہر انسان ایک ذہنی اذیت سے گزر رہا ہے ۔ باہر کی دنیا سے رابطے کا ذریعہ صرف میڈیا رہ گیا ہے…… جسے لوگوں کو آگاہ کرنے سے زیادہ خوف پھیلانے کے لیے استعمال کیا جارہا ہے۔ پہلے دو دن کے لاک ڈاون کا سن کر سوشل میڈیا پر عوام کی ذہنی افراتفری نظر آئی …….. اورپندرہ دن کے لاک ڈاون کا سنتے ہی سارا سوشل میڈیا پریشانی ، خوف اور اضطراب میں ڈوب گیا ۔ عوام کو آئندہ چند دنوں میں برگر، پیزے اور شوارموں کے ذائقے نہ ملنے سے بڑھنے والاسارا پریشر بیچارے خان صاحب پہ نکل گیا۔ ان دنوں ہمارے بیچارے خان صاحب اللہ کی پکڑ کے ساتھ ساتھ پاکستانی عوام کی پکڑ میں آئے ہوئے ہیں۔ بہر حال وقت کا تقاضہ ہے کہ عوام اس وقت خاموش رہے اس وقت تصویر کا دوسرا رخ دیکھنے اور اس پہ توجہ کرنے کی زیادہ ضرورت ہے ۔
آزمائش کی اس سخت گھڑی میں بھی اس سر زمین پر اللہ سے ڈرنے والوں کے بے شمار دستے ہماری ضروریات ِ زندگی اورحفاظت کے لیے دن رات مصروف ِ عمل ہیں اور نبیﷺکی سنت کو زندہ اور قائم کیے ہوئے ہیں ۔ آزمائش کی اس گھڑی میں ڈاکٹرز ، الخدمت فاونڈیشن ، سیلانی ویلفئیر ، جماعت ِ اسلامی اور وہ تمام لوگ جو رضا کارانہ طور پر دن رات مخلوقِ خدا کی خدمت میں مصروف ہیں ان کا عمل مثالی ہے ۔ تاریخ گواہ ہے پاکستان بننے کے بعد سے لے کرآج تک پاکستان میں آنے والے ہر مشکل وقت میں جماعت ِ اسلامی اور الخدمت فاونڈیشن عوام کی خدمت کے لیےہمیشہ اسکے ساتھ کھڑی رہی ہے۔آ ج اس آزمائش کی گھڑی میں بھی جماعت ِ اسلامی صرف امداد پہنچانے کی حد تک کام نہیں کر رہی اس کے ساتھ ساتھ کورونا سے لڑنے کی آگاہی مہم اور اجتماعی استغفار کے حوالے سے بھی بہترین اور منظم سرگرمیاں انجام دے رہی ہے۔
پاکستانی قوم میں جتنی بھی برائیاں ہوں ………اس کا خاصہ ہے کہ مشکل وقت میں اکھٹی ہو جاتی ہے …….لیکن اس کے ساتھ ہی اب یہ وقت بھی آچکا ہے ۔ اجتماعیت میں کیے جانے والے گناہ اتنے بڑھ چکے ہیں کہ کورونا کی شکل میں اللہ کی طرف سے بھیجی گئی آزمائش ہم پر اُتر چکی ہے۔ جن اعمال سے ہم نے اللہ کےاس تھوڑے سے غضب کو دعوت دی ہے ۔ اُن پہ اب صبر کے ساتھ استغفار کرتے ہوئے آئندہ آنے والے دنوں میں ان دنوں میں کی گئی توبہ پہ قائم رہنے کی اللہ سے توفیق مانگیں ۔ اس وقت باہر اور گھر میں بیٹھنے والوں سب کی کڑی آزمائش ہے………ایسے وقت میں میڈیا کے ذریعے بات کرنے والے تمام افراد کو چاہیے کہ اتنا خوف و ہراس مت پھیلائیں کہ امید ختم ہوجائے ہمارے اعصاب جواب دے جائیں اور ہم آئندہ آنے والے مشکل دنوں کا مقابلہ نہ کر سکیں۔اس وقت جب سب لوگ قید کی حالت میں ہیں لفظوں کی اہمیت زخموں پہ مرہم لگانے کے برابر ہے ۔اس لیے ان کا استعمال سوچ سمجھ کر کریں۔
وقت کا تقاضہ ہے کہ ہمیں ہر طرح کی سیا ست ،فرقہ بندی نام اور نسل کی بیڑیوں سے جان چھڑا کر انفرادی محاسبہ خدا کے سامنے رکھ کر کرنے کی ضرورت ہے ۔آزمائش کے وقت سے نکلنے کے بعد بھی احادیث کی روشنی میں دنیا جس طرف اپنا رُخ موڑنے جا رہی ہے ۔آنے والا وقت اس وقت سے بھی زیادہ کڑا ہے ۔ یہ پندرہ دن کا وقت اپنے گریبان میں استغفار کے ساتھ اس طرح سے جھانکنے کاہے کہ ایسا کیا ہواکہ اللہ تعالیٰ نے منہ کے سارے ذائقے ، شاپنگ کی عیاشیاں، رقص و موسیقی میں ڈوبی رنگین شامیں اور آوارگی کا لطف ہم سے یکایک چھین لیا ہے ۔ ایسا کیا کیا ہے ہم نے جو اللہ نے کورونا جیسی آزمائش میں ہمیں مبتلا کر دیا ہے۔؟ قوم کی ماوں کو سب سے زیادہ اپنا محاسبہ کرنےکی ضرورت ہے ۔ ان کے زیرِسایہ پلنے والی اولاد جب گھر سے ڈاکٹر، وکیل ، صحافی، استاد یا لیڈربن کر معاشرے میں نکلتی ہے تو ایسا کیا ہے جو انہیں اپنا ایمان بیچنے پہ مجبور کر دیتا ہے ؟جو کسی بھی عہدے کو حاصل کر کے فرعون بن جاتا ہے اور خدا کی مخلوق سے انصاف نہیں کر پاتا؟
عورت جس کو اللہ نے خاندان کا محور اور معاشرے کا سب سے مضبوط ستون بنایا ۔ اپنے گھر میں بیٹھ کےوہ کیا کر رہی ہےکہ اسے معاشرے میں بے راہ روی کا تپا بازار نظر ہی نہیں آرہا ۔اس وقت خاص طور پر خواتین کو قرآن سے جُڑ کر اپنا محاسبہ کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ اللہ تعالی ٰ سورۃ الشوری آیت نمبر30میں فرماتے ہیں ’’ اور تمہیں جو کوئی مصیبت پہنچتی ہے وہ تمہارے اپنے ہاتھوں کئے ہوئے کاموں کی وجہ سے پہنچتی ہےاور بہت سے کاموں سے تو وہ درگزر ہی کرتا ہے ‘‘۔ ساری امتِ مسلمہ بے بسی اور حیرت کے عالم میں رب کو اب کیوں چیخ چیخ کر پکار رہی ہے ۔ اُس وقت یہ چیخیں یہ آہیں کہاں تھیں جب عراق، شام اور روہنگیا پر بم پرسائے جا رہے تھے ۔ کشمیریوں پہ کرفیو لگ رہا تھا اور ہم اپنے ہی مسلمانوں کی مدد کے لیے نکلنے والی چیخ و پکاراسی میڈیا پہ نہ شئیر کر سکے …….نہ سن سکے نہ سنوا سکے نہ اس قتل عام کے لیے اپنی آواز بلند کر سکے ۔اللہ تعالیٰ اس کورونا کے ذریعے عالم ِاسلام کے حکمرانوں اور فرعونوں کو آج سپین میں پانچ سوسال سے بند رہنے والی مسجد میں آذان دلوا کر خبردار کر رہا ہے کہ قادرِ مطلق صرف میری ذات ہے ۔آج اگر سعودی حکومت نے اعلان کیا ہے کہ اس سال حج شاید نہ ہو سکے تو تصور کریں اس کے بعد بھی کسی دلیل کی ضرورت ہے کہ اللہ کی ناراضگی کتنی شدید ہے ۔
اس وقت بار بار اللہ سے آنے والے وقت میں میانہ روی کے ساتھ زندگی گذارنے کی توفیق مانگنی چاہیے ۔ یہ محاسبے کے دن اور عبادت کی راتیں ہیں ……..یاد رکھیں انسان کو ہدایت اور خود شناسی ہمیشہ کڑے وقتوں میں ہی ملا کرتی ہے ۔ مسجدیں ویران ہیں تو انہیں بعد میں قیامت تک آباد رکھنے کا اللہ سے وعدہ کریں ۔ اپنے گھروں کو مسجدوں میں تبدیل کر لیں ،جو لوگ مرنے سے بچ گئے ہیں اس وقت کو اللہ کی طرف سے خود کو سدھارنے کا ایک سُنہری موقع سمجھ لیں ۔ خود کو دروشریف کا وینٹی لیٹر لگا لیں ۔ گھروں میں بیٹھ کر سنتوں کوعملی طور پر زندہ کریں ۔ ٹوٹے پھوٹے خاندانی نظام کو مضبوط کرنے کے لیے ٹوٹے رشتوں کو جوڑ لیں آج کی اس خاموش قیامت سے اُس دن کی قیامت کا تصور کریں جو ہر صورت میں آنی ہی آنی ہے ۔
آخرت کے دن کا سوچیں جب اللہ کی پکڑ اس سے بھی سخت اور ہمیشہ کے لیےہو گی ۔ اِن پندرہ دنوں میں عمل کی توفیق مانگ کر پھر دیکھیں اللہ کی رحمت اس کورونا کا کیسے مقابلہ کرتی ہے ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں