اس فرصت کو غنیمت جانیئے – زرینہ انصاری




کرونا وائرس نے جہاں اسکول اورکالج کے بچوں کو فرصت دے دی ہے وہیں ما ؤ ں کو خوب مصروف کردیا ہے، حدیث کا مفہوم ہے کہ مومن کے لیےہر حال میں خیر ہے ،تو پھر کیوں نہ ہم اپنے اور اپنے گھروالوں کے لیئے ان فرصت کے لمحات سے خیر حاصل کرلیں۔ زندگی جب اپنے ڈھب پر رواں دواں ہو صبح و شام اپنے نہج پر چل رہے ہوں ہر کام ہی پابندی وقت کے ساتھ ہو رہا ہو بچے وقت پر تیار ہو کر اسکول جارہے ہیں مرد حضرات اپنے وقت پر آفس اورکاروبار کے لیئے گھر سے نکل جاتے ہیں اور ان دونوں کے گھر سے روانہ ہوتے ہی کچھ خواتین اپنی بقیہ نیند پوری کرتی ہیں کیونکہ ابھی چھوٹا بچہ سو رہا ہے اور ماسی کے آنے میں کافی وقت ہے کچھ ملازمت پیشہ خواتین مردوں اور بچوں کے ساتھ ہی اپنے آفس روانہ ہو جاتی ہیں اور کچھ گھریلو خواتین جو اپنے وقت کو بہترین انداز میں استعمال کرنا چاہتی ہیں وہ صبح کے بابرکت وقت سے خوب فائدہ اٹھاتی ہیں۔
لیکن اچانک ایک خبر ایک واقعہ ایک وباء پوری دنیا میں واویلا مچا دیتی ہے کہ اب گھروں میں رہیں بلا ضرورت باہر نہ نکلیں اسکول بند، امتحانات میں تاخیر، ملازمین آفس نہ جائیں، کاروبار کچھ عرصے تک معطل۔ ویسے تو اسکول اور کالج جانے والے بچے اپنی معمول کی چھٹیاں بہت شوق سے مناتے ہیں مگر کرونا وائرس کی بندش کے لیے کوئی بھی انسان ذہنی طور پر تیار نہیں تھا۔ اسی کو ہنگامی حالت کہتے ہیں اور اسطرح کی ہنگامی حالت کے لیے ہمیں بحثیت ایک قوم تیار رہنا چاہیےاور بحثیت ایک مسلم قوم ہم بہت ہی خوش قسمت ہیں کہ قرآن جیسی ایک بہترین کتاب ہمارے پاس ہے جس میں ایک انسان کے لیے مکمل ضابطہ حیات موجود ہے۔ کہتے ہیں کہ ہر شر میں خیر کا ایک پہلو ضرور ہوتا ہے ہم بھی اس وباء کے شر سے خیر کا پہلو نکالیں اور ان فرصت کے اوقات کو اپنے اور اپنے گھر والوں کے لیے قیمتی اور یادگار بنا لیں۔ سب سے پہلے تو ہم ایک ٹائم ٹیبل بنا لیں ہمارے سونے جاگنے کے اوقات کار ویسے ہی رہیں جیسے اسکول کے زمانے میں ہوتے ہیں، بچوں کو صبح سورے جگائیں فجر کی نماز کی ادائیگی کے بعد ہلکی پھلکی ورزش ،چھوٹی کلاس کےبچوں کو روزانہ ایک گھنٹہ اسکول کانصاب پڑھائیں پھر ان بچوں اور بچیوں کو کوئی ایسی سرگرمی کروائیں جو ان کی دلچسپی کا باعث بھی ہو ۔
مختلف قسم کی تصویریں بنوانا اور پھر اس میں رنگ بھرنا وغیرہ ۔ روزانہ کی بنیاد پر قاعدہ پڑھانا، کلمے اور چھوٹی چھوٹی دعائیں یاد کروانا۔ بڑی کلاس کے بچے اور بچیوں کے لیے بھی اسی طرح سے ٹائم ٹیبل بنائیں ، بچوں سے گھر کے ہلکے پھلکے کام بھی کروائیں مثلا آپ جب بھی کھانا بنانے باورچی خانے میں جائیں کسی ایک بڑے بچے کو اپنے ساتھ لگا لیں بیٹی کے ساتھ ساتھ بیٹوں کو بھی یہ کام آنا چاہئے تاکہ وقت ضرورت وہ اپنے لیے بھی اس ہنر کو استعمال کرسکیں ، اسکے علاوہ کپڑے طے کرنا گھر کی صفائی میں ان سے مدد لینا کیونکہ آج کل ماسی بھی چھٹی پر ہے۔ رمضان کا مبارک مہینہ اب ہم سے بہت دور نہیں آخری پارہ ہم خود بھی حفظ کریں اور بچوں کو بھی کروائیں اگر آخری پارہ حفظ ہے تو قرآن کی دیگر سورہ حفظ کریں، نفلی روزے بھی رکھیں، یقینا ہمارے بچے نیٹ سے اور ٹی وی سے دور نہیں رہ سکتے یہ بھی ہو سکتا ہے کہ ہم ان کے ساتھ بیٹھ کر ان کو مثبت چیزیں دیکھنے پر مائل کردیں، رات کو سونے سے پہلے سٹوری ٹائم سے لطف اندوز ہوں سٹوری ٹائم میں تمام گھر والے اکٹھے ہوں اس سے بچوں میں بھی اس وقت کی اہمیت ہوگی۔
اپنے اور بچوں کے اندر موجودہ حالات کے تناظر میں حوصلہ اور بہادری سے مقابلہ کرنے کے لیے کچھ پرانے اور کچھ اس دور کے واقعات دہرائیں ، شعیب ابی طالب یاد کریں ایک نہیں دو نہیں پورے تین سال کا محاصرہ کھانے کو کچھ نہیں بچوں کے رونے کی آوازیں کسی کو تڑپا دیتی ہیں تو کوئی نظر انداز کردیتا ہے، فلسطین ایک نسل جوان ہوگئی ،ان کی آنکھوں کے سامنے ان کے گھر ڈھائے جارہے ہیں ان کے رونے کی آوازیں بھی کسی کو تڑپادیتی ہیں اور کوئی نظرانداز کر دیتا ہے ۔ بے شمار واقعات ہمارے ارد گرد ہیں ، اٹلی میں سینکڑوں افراد کا ایک ہی وقت میں ہلاک ہونا ،چین میں لوگوں کو ان کے اپنے ہی گھروں میں محصور کر دینا ،شام ، لبنان عراق، یمن جنگ کی آگ میں جھونک دیئے گئے، بھارت میں مسلمانوں کی زندگی اجیرن کی جارہی ہے اور کشمیر جہاں کئی ماہ سے کرفیو لگا دیا گیا ہے نہ راشن ،نہ انٹرنیٹ نہ اسکول ، ہر وقت موت کا ڈر اپنے ہی بھائی بیٹوں کے سامنے عصمت دری۔ ان تمام واقعات کو اپنے اور اپنے گھر والوں کے سامنے رکھیں اور اس رب سے بہت استغفار کریں اور شکر ادا کریں کہ ہم اب بھی بہت بہتر ہیں بہت محفوظ ہیں ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں