غار والے – مریم خالد




سورہ کہف میں پہلا منظر ہے…….. غار کے قرنطینہ مرکز کا ۔ شہر میں شرک و ظلم کی وبا عام ہے…….. بادشاہ کے ایوانوں سے لے کر سماج کے مکانوں تک کوئی بھی محفوظ نہیں۔
وبا شدید ہے اوراصحابِ کہف کمزور…….. وہ غار میں پناہ لیتے ہیں۔ صدیوں محفوظ رہتے ہیں۔ پھر دھرتی کروٹ بدلتی ہے۔ حق کا مرہم شرک کی وبا کا خاتمہ کر دیتا ہے۔ نوجوان بیدار ہوتے ہیں مگر تاریخ کے ماتھے پہ وباؤں سے نبٹنے کا نسخۂ اکسیر لکھ کر ہمیشگی کی نیند سو جاتے ہیں۔ مضامین بدلتے جاتے ہیں، سورت آگے بڑھتی ہوئی کوچۂ اختتام کو آتی ہے۔ سورۃ کا آخری منظر آتا ہے۔ ہدایت کا سورج نصف النہار پہ ہے۔ جڑھتے سورج کی سرزمینوں سے لے کر اسکے گدلے پانیوں میں ڈوبنے تک کے خطوں پہ سلطان ذوالقرنین کی حکم رانی ہے۔ ایک جانب یاجوج ماجوج کے فساد کی وبا عام ہے…….. لوگ شہِ شرق و غرب سے التجا کرتے ہیں کہ بچنے کی تدبیر کی جائے۔ ذوالقرنین آہنی دیواروں میں پگھلا تانبہ بھر کر یاجوج ماجوج کو قرنطینہ میں بند کر دیتا ہے۔ قرنوں تلک انسانیت مامون رہتی ہے۔
یہ دنیا میں داستانِ حق کا خلاصہ ہے۔
عالم میں ظلم و جور کی فضائیں راج کرتی ہیں تو حق تنہا غاروں میں نمو پاتا ہے……. کبھی حرا میں ہوتا ہے اور کبھی ثور میں۔ اپنے ایمان و صبر و توکل کی آبیاری کرتا ہے۔ دل و نظر میں نالۂ دعا و فغاں جاری کرتا ہے۔ جنتوں کے سفر کی تیاری کرتا ہے۔ پھر وقت آتا ہے کہ مدینے سے اس کے لشکر نکلتے ہیں اور اسکے سیلِ بےپناہ کے آگے مشرک اپنے گھروں میں قرنطینہ تلاش کرتے ہیں……….جب بھی وقت آپ کو گھروں میں بند کر دے تو جان لیجیے کہ وبا کی شدت عالم کو گھیر چکی ہے۔ جان لیجیے کہ رب آپ کو موقع دے رہا ہے۔ مان لیجیے کہ یہ وقت ہے جنگی بنیادوں پہ خود کو پیامِ حق کے ساتھ جوڑنے کا………. شمعِ قرآن دل میں فروزاں کرنے کا۔ دل کا کینہ و حسد نکالنے کا۔ ظلم و جور کی روش سے باز آنے کا۔ جھوٹ اور نافرمانی سے خود کو پاک کرنے کا۔ سود اور بےحیائی کو مٹانے کا۔ اپنے دل اور زمین پہ اللہ کا نظام قائم کرنے کا۔
اگر جو ہم بدل جائیں …….. تو پھر سب جان جائیں کہ اگلا وقت جو آئے گا وہ دور ہمارا ہے۔ اگر ہم قوم مل کر حق کا کارواں بن جائیں تو بہت جلد وہ وقت آئے گا کہ ہمارے اہلِ طب، اہلِ ہنر، اہلِ دین اور اہلِ سلطنت مل کر دنیا کی ساری وباؤں کو پگھلے تانبے اور آہنی دیواروں کے قرنطینہ میں محصور کر دیں گے۔ ان شاء اللہ!

اپنا تبصرہ بھیجیں