میرے مولا مجھے صاحب ِ جنوں کردے – ماہین خان




آج کل جہاں دیکھو ہر طرف ایک ہی موضوع زیرِ بحث ہے ۔۔۔۔۔ کرونا کرونا اور پھر اس کا رونا !
یہی ایک بات کہ اس چھوٹے سے جرثومے نے ایک طرف کئی انسانوں کو موت کے منہ میں پہنچایا تو دوسری طرف انسان کو انسان سے بھی دور کردیا ۔۔۔۔۔ جس کی مثال یہ کے اب باپ اپنے بیٹے اور بیٹا اپنے باپ سے دور بیٹھا نظر آتا ہے ۔ لوگوں کو گھر میں رکھنے کا ایک بہانہ بھی بن گیا کہ اجتماعیت کے ساتھ عبادات کا لطف بھی نہ اٹھا سکیں ۔۔۔۔۔۔ پھر اسی کی وجہ سے تمام مذاہب کے عبادت خانوں پر پابندی بھی لگا دی گئی ۔ ہمارے بزرگ اور جوان نسل سے خالی مساجد دیکھنا بھی نصیب میں لکھا گیا ۔۔۔۔۔۔ خاص طور پر جب آج قریبی مسجد سے یہ اعلان ہوا کہ تمام حضرات پابندی کی وجہ سے گھروں میں نماز ظہر کا اہتمام کریں اور نماز جمعہ کی ادائیگی کے لیے مسجد تشریف نہ لائیں تو ایک افسوس اور رنج کی سی کیفیت ہوئی کہ رواں رواں کانپ اٹھا ۔۔۔۔۔
کیا اب ہمارے رب کو ہماری عبادتوں کی ضرورت نہیں رہی ؟کیا اب ہم ابھی اس قابل نہیں رہے کہ اس کے حضور اجتماعیت سے سجدہ کر سکیں ؟ کیا اب ہم بھی ان پچھلی قوموں کی طرح ہوگئے ہیں جنہوں نے ایسے ہی آفات کو آتا دیکھ کراپنی بڑائی کا گھمنڈ کیا ؟ کیا اب ہماری حیثیت اس قوم کی سی ہو گئی جس کو قرآن میں کہا گیا ہے اللہ اس قوم کو ہٹا کر دوسری قوم کو لے آئے گا جو اس کی عبادت گزار ہو گی ۔۔۔۔؟ ایسی صورتحال بہت زیادہ ڈرا دیتی ہے جب اللہ کے گھر کو ویران دیکھتے ہوئے ہماری زبان سے استغفار نہیں نکلتا۔۔۔۔۔ کیا مسلم امت اتنی بے حس ہو چکی ہے ؟ اتنی بے حس کے اسے مقاصدِ عبودیت بھول گئے۔۔۔۔؟ شید اس کا جواب سب کی طرف سے ہاں میں ہو ۔۔۔۔ بالکل ہاں ۔۔۔۔۔ کیونکہ اب ہم میں وہ جنوں نہیں رہا ۔۔!
کیا ہے یہ جنوں ؟ کس چیز کو یہاں جنوں کہا گیا اور رب سے مانگا گیا ۔۔۔۔
یہ وہ جنوں ہے۔۔۔۔۔ جس سے حضرت ابراہیمؑ نے کعبے کی دیواریں اٹھائیں- یہ وہ جنوں ہے ۔۔۔۔۔۔ جس سے عبدالمطلب نے ابرہہ کی فوج سے حفاظت کے لیے کعبے کے غلاف سے لپٹ کر امن کی دعائیں مانگیں – یہ وہ جنوں ہے ۔۔۔۔۔۔۔ جس سے یونسؑ کی قوم سجدہ میں گری- یہ وہ جنوں ہے ۔۔۔۔۔۔۔ جس سے اس امت وسط کا نبی صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم راتوں کو اٹھ اٹھ کر اسی امت کے لیے خیر مانگا کرتا تھا ۔۔۔۔ ہاں یہی ہے وہ جنوں جس سے حضرت بلالؓ مکہ کی گلیوں میں تپتی ریت پر احد احد چلایا کرتے تھے- یہی ہے وہ جنوں ۔۔۔۔۔ جس سے حضرت عمر ؓ نے اللہ اکبر کا نعرہ لگایا تھا کہ مکہ کی پہاڑیاں گون اٹھی تھیں ۔۔۔۔۔ جی ہاں یہ تھا وہ جنوں جس سے ابنِ زیاد نے کشتیاں جلوائی تھیں – یہی ہے وہ جنوں ۔۔۔۔۔۔ پاکیزہ جنوں جس کی آج اس امت میں کمی پڑ گئی ہے ۔ جس جنوں میں ان مسلمانوں نے کلمہ حق بلند کیا وہی آج اس امت میں موجود نہیں ۔۔۔۔۔۔
آج اسی کمی کی وجہ سے مسلم دنیا میں ایک طوفان کھڑا ہے ، دجالی فتنے سر اٹھا رہے ہیں ، گریٹر اسرائیل کی تیاریاں عروج پر ہیں تو یہ امت اپنے جنوں کو سلا کر سینیماز میں جانے کے لیے بے چیں نظر آرہی ہے ۔۔۔۔۔ ایسی آفات اور پر فتن دور اپنے رب کے حضور سجدہ ریز ہونے بھرپور ضرورت ہے ۔ اس جنوں کو جگانے کی بھی جو ہمارا شعار رہا ہے ۔بعید نہیں ہماری ذرا کی کوشش سے یہ جنوں ہم میں بھی رواں دواں ہو سکتا ہے ۔۔۔۔۔۔انشا اللہ تعالیٰ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں