رمضان نیا مہمان – قانتہ رابعہ




موسم ایک سے نہیں رہتے کبھی خزاں کبھی بہار اور کبھی گرمی سے پسینہ تو کبھی سرما کی شدت ۔۔۔۔۔یہ سارے اللہ کے رنگ ہیں ہر موسم اس کی مخلوق کئ کے فائدہ کے لئے ہے ۔۔ان کے بیچوں بیچ بھی موسم انگڑائی لیتا ہے آندھی اتی ہے اور گردو غبار کے طوفان سے ہر چیز نظروں سے اوجھل ہو جاتی ہے ۔۔۔گھر کے اندر سات تہوں میں چھپی چیزوں پر بھی گرد کا ذرہ پہنچ جاتا ہے در و دیوار مٹی سے اٹ جاتے ہیں اور اللہ نہ کرے ایک آدھ زرہ آنکھوں میں چلا جاے تو ذہنی ہی نہیں جسمانی اذیت کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے ۔۔۔۔
بالکل اسی طرح آج کل کرونا کی آندھی بلکہ طوفان آیا ہوا ہے۔۔ہماری گفتگو ہمارے سوچوں تک پر کرونا غالب ہے سوشل میڈیا پر بھی کرونا کی آندھی نے طوفان مچا رکھا ہے کچھ اور نظر ہی نہیں آرہا ۔۔۔جب کرونا کا طوفان تھمے گا ۔۔سوشل میڈیا کو بے شمار نت نئے موضوعات مل جآئیں گے۔۔۔۔بھانت کی بھانت کی جو بولیاں اب بولی جارہی ہیں تب بھی بولی جائیں گی۔۔۔۔فرق صرف یہ ہوگا کہ تب ۔۔میں نے تو کہا تھا اس نقصان کے متعلق ۔۔۔مجھے پتہ تھا یہ تباہی ہو گی ۔۔کرونا کو انسانی لیبارٹری میں تیار کرنے والے اور خدائ عذاب قرار دینے والے سارے اپنے خیالات کو اپنے موقف میں ڈھال لیں گے ۔۔۔۔۔۔تب اندازہ ہوگا جب یہ گرد بیٹھ جاے گی۔۔۔ہر چیز اپنی اصلی حالت میں آجاے گی کس نے کیا کھویآ کیا پایا ۔۔۔۔قیام پاکستان کے بعد بہت عرصہ تک ادب کا موضوع دونوں ملکوں کے درمیان سرحد اور ہجرت کےخونی مناظر رہے تھے۔۔کرونا کے بعد بھی اس موضوع سے ہٹ کے لکھنے کے لئے لمبا عرصہ چاہئیے ہوگا ۔۔۔۔۔۔۔
ہر فرد اپنا محاسب خود ہوگا لیکن مسلمان اور غیر مسلم کی سوچ میں فرق ہوتا ہے اج کے دور میں مسلمان بھی موت سے ڈرتا ہے ۔۔اسے بھی یہودیوں کی طرح زندگی اچھی لگتی ہے لیکن فرق پھر بھی ہے مسلمان جو پانچ وقت نماز کا عادی ہو۔۔۔۔۔۔۔۔۔اس کے لئے بار بار ہاتھ دھونا ہا طہارت کا انتظام قطعی مشکل نہیں ۔۔۔وہ وضو کی وجہ سے ہاتھ بار بار دھونے کا عادی ہوتا ہے۔۔۔بہ نسبت ایک غیر مسلم کے ۔۔۔۔مسلمان دن میں دس مرتبہ بھی قضاے حاجت کے لئے جاے گا تو طہارت کر کے ہی اے گا جبکہ غیر مسلم کے لئے یہ کاردشوار ہے ۔۔ اسی طرح ایک مسلمان اور غیر مسلم کی سوچ میں فرق ہوگا۔۔۔کرونا سے پہلے اور کرونا کے بعد کے حالات کے تجزیہ میں۔زمین آسمان کا فرق ہوگا غیر مسلم کا سارا سود و زیآں دنیا کے متعلق اور مسلمان کے آخرت کے متعلق ہوگا۔۔۔۔۔۔۔اس کرونائ بحران میں اس نے اپنے رب کی ناراضگی کو محسوس کیا یا نہیں رب کو راضی کرنے کے لئے کچھ کیا یا نہیں ۔۔اس عرصہ میں آخرت تو نظر انداز نہیں ہو گئ ۔۔۔۔رشتوں کو راضی کرنے کا معاملہ بس ایسا ہے کہ نیت صاف ہو صلہ رحمی کا کٹھن مرحلہ گزر ہی جاتا ہے انسان خونی رشتے کی زنجیر میں بندھا ہو یا نہ کبھی آپس میں بے پناہ محبت رحم دلی اوف کبھی آنکھیں پھیر کے ماتھے پر رکھ لے گا ۔۔۔۔۔انسان تو تعلقات اپنے پیاروں سے بھی کبھی ایک سے نہیں رکھ سکتا بس حقوق و فرائض کی ادائیگی میں توازن ہی صلہ رحمی کا کمال ہے ۔۔۔۔۔۔۔
بات تو اپنے خالق سے تعلق کی ہے جسے تم نبھانا چاہو یا نہ چاہو ۔۔اس سے ملنے کی خواہش ہو نہ ہو ۔۔۔ملنا تو پڑے گا جانا تو پڑے گا ۔۔۔۔دنیا کی زندگی کا کھاتا کھولنا تو پڑے گا ۔۔۔حساب کتاب کے کڑے مرحلے سے گزرنا تو ہوگا ۔۔۔۔حشر کے دن تمہارے اعمال کی وجہ سے وہ یا تو تمہیں روشن چہروں والوں میں شامل کرے گا یا سیاہ چہرے والوں میں ۔۔۔۔۔قدم رکھنا تو ہوگا جنت میں یا جہنم میں ۔۔۔۔۔۔کافر بھلا یہ کب سوچے گا یہ مسلمان کی سوچیں ہیں جو اسے عاجز بناتی ہین مطیع رکھتی ہیں آنے والی کل کی تیاری میں مصروف رکھتی ہیں ۔۔۔۔۔۔اسی آخرت کی تیاری میں سب سے زیادہ کوتاہی سستی اور غفلت ہے ۔۔اللہ نے کسی انسان کو محض جسمانی بد صورتی پر جہنم اور خوبصورتی پر جنت کی ٹکٹ نہیں دینا ۔۔بلکہ یہ کلی طور پر اس کے اعمال کے مطابق ہوگا ۔۔وہ جسم جس کے تقاضوں کو پورا کرتے کرتے وہ قبر کے اندر ڈال دیا جاتا ہے قبر کی مٹی میں مل کے مٹی ہونے کے لئے ہے یا قبر کے کیڑوں کی خوراک ۔۔دیکھا تو روح کے معاملے کو جاے گا وہ جسم جس کے لئے مشقت کا بوجھ لادتے لادتے ملک الموت کا منہ دیکھ لیتے ہیں محض دنیا دکھاوا تھا اس کے لئے صبح سے شام کردیتے ہیں اور وہ روح جو رحمان کا حکم ہے اس کی نشانی ہے اس کی خوراک تقاضوں کو جاننے کی خواہش تو رکھتے ہیں مگر خواہش کی تکمیل میں سستی آڑے آتی رہتی ہے ۔۔ہم نیک بننا چاہتے ہیں ہم اپنا تزکیہ کرنا چاہتے ہین ہم قرآن سے تعلق جوڑنا چاہتے ہیں ۔۔ہم موت کی تیاری کرنا چاہتے ہیں ۔۔ہم حقوق و فرائض کے بارے میں بھی آگے نکلنا چاہتے ہیں مگر دنیا کے تقاضوں کو پورا کرتے کرتے وہ وقت ہی میسر نہیں ہوتاکہ اس پر عمل کر سکیں ۔۔۔۔۔وجہ ۔۔۔سستی ۔۔۔سورہ توبہ کے تینوں مرکزی کرداروں حضرت ہلال حضرت کعب اور حضرت مرارہ یہ بدری صحابی تھے جنت کی بشارت تھی ۔۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت کا دن رات شرف حاصل تھا نیکیوں میں بہت آگے تھے ۔۔ ان کو ملزم سے مجرم بننے میں کیا چیز شامل ہوئ ۔۔۔محض سستی ۔۔۔۔۔۔جو ہم نیکی کے ہر کام میں کرتے ہیں کر لیں گے ۔۔۔۔یاد رکھئیے یہاں ان سے زنا شراب جوے کا نہیں صرف سستی کا گناہ سرزد ہوا تھا حالانکہ دلوں کے بھید جاننے والا جانتا تھا کہ ان کی نیت میں کھوٹ یا فتور نہیں تھا وہ جاناچاہتے تھے ۔۔۔۔وہ واقعی جانا چاہتے تھے ۔۔۔لیکن کل جائیں گے ۔۔۔شام میں چلے جائیں گے نے ان کو خالق اور مخلوق دونوں کی نظر میں مجرم بنا دیا ۔۔۔۔۔۔روح کو جلا دینے والا نکھارنے والامہینہ بس آیا ہی چاہتا ہے کرونا کے موضوع نے ہمیں اللہ کے مہمان کی آمد سے بھی غافل کردیا ہے ۔۔۔کہاں تو دو ماہ پہلے استقبال رمضان کے لئے تیاریاں شروع ہو جاتی تھیں اور اب یہ حال ہے کہ روزے تین ہفتے کے بعد آرہے ہیں اور اس کے مقاصد کو تازہ کیا نہ تیاری کآ سوچا ۔۔۔۔
کرونا عذاب الہی ہے کرونا کے آنے سے رب کی ناراضگی کا سب کو یقین ہے اس نے اپنے گھر اور اپنے محبوب کے در بند کردئیے لیکن اس نے اپنا مہمان بھیج کے ثابت کیا ہے کہ وہ اتنا بجی ناراض نہیں ۔۔۔۔۔اس کے گھر کے در تو دنیا میں بند ہوے اس کا در کھلا ہے اس کا مہمان آرہا ہے ٹھیک ہے ہر سال اس کی دورہ قرآن سے آو بھگت ہوتی ہے شائد اس مرتبہ وہ اپنے مہمان کے لئے نئ مہمان نوازی چاہتا ہو ۔۔۔اور وہ کیا ہے سستی غفلت کے پردے چاک کرنا ۔۔۔دورہ قرآن ممکن نہیں تو اس سے بھی آگے کا درجہ ہے ۔۔۔۔قرآن کو غور و فکر سے پڑھنا ہر آیت کو اپنا مخاطب سمجھنا رک کر جواب دینا ۔۔رمضان کے ان تیس دنوں میں آپ نے چھ ہزار چھ سو چھیاسٹھ آیات کا جواب دینا ہے ۔۔ہر آیت ان شاءاللہ آپ سے مخاطب ہوگی آپ سے کلام کرے گی ۔۔آپ نے ان تمام آیات کا جواب دینا ہے ۔۔۔چند آیات کے بعد آپ اس کے اثرات خود محسوس کریں گے ۔۔۔جہنم۔کی آیت پر رک کے پناہ مانگنا ہے جنت کی آیت پر اس کے طالب بننا ہے منافقوں کے ذکر پر بچنے کی دعا مومنوں کے ذکر پر ان میں شامل ہونے کی خواہش۔۔۔۔۔۔۔یاد رکھئے یہ کام معمولی نہیں ہاں قرآن سے غفلت والوں کا رب کو بھول جانے والوں کے لئے نادر موقع ہے آئیے ۔۔۔سنبھل جائیے غفلت دور کیجئیے ۔۔یہ موقع بار بار نہیں آے گا رب نے بلایا ہے اپنا مہمان بھیج کے میزبانئ کی سعادت بخشی ہے تو اس نے اس قابل سمجھا ہے ورنہ کان کھڑے کر لیجئیے توبہ استغفار کیجئیے اس کے نزدیک جانور نہیں جانوروں سے بدتر ہیں ۔۔۔
ائیے قرآن کھولئیے سورت الاعراف کی آیت نمبر 179 نکالئیے ۔۔۔۔دل ہلا دینے والی رونگٹے کھڑے کرنے والی آیت کا ترجمہ دیکھئیے ۔۔۔۔اور ہم نے بہت زیادہ انسانوں اور جنوں کو پیدا ہی جہنم کے لئے کیا ہے یہ وہ لوگ ہیں ۔۔جن کے پاس دل ہیں مگر سوچتے ہین جن کے پاس آنکھیں ہیں مگر دیکھتے نہیں ان کے پاس کان ہیں مگر سنتے نہیں ۔۔۔۔یہ وہ لوگ ہیں ہیں جو جانور ہیں ۔۔۔۔بلکہ ۔۔۔جانوروں سے بھی بدتر ۔۔یہ وہ لوگ ہیں جو غافل ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔الاعراف ۔۔۔179 ۔۔۔۔۔۔۔سوچ لیجئیے سخت غصے کی حالت میں بھی ماں اپنے بچے کے لئے جانور کا کوی لفظ استعمال نہیں کرتی اللہ کے ہاں جانور بدتر نہیں وہ جو اشرف المخلوقات ہوتے ہوے عقل ودانش کا تاج سر پررکھتے ہوے بھیجنے والے سے غفلت رکھنے والا گالی ہے جانوروں سے بدتر اور نفرت کا اظہار ہے ۔۔۔رمضان آرہاہے اسی مہربان رب کے مہمان کو لے کے ۔۔۔یاد رکھئے یہ بار بار آنے والا نہین اس دعا کا بکثرت اہتما۔ کیجئیے ۔۔اللھم انی اعوذبک من العجز والکسل ۔۔۔۔۔۔۔۔#

اپنا تبصرہ بھیجیں