الخدمت کی بلاتفریق رنگ و نسل، مذہب کے خدمت – عالم خان




پوری دنیا کی طرح وطن عزیز کے عوام بھی کرونا وائرس کی وجہ سے ہر رات ٹینشن میں لیٹتے ہیں اور صبح جب اٹھتے ہیں تو بھی فکر کی لکیریں ان کی پیشانیوں پر نمایاں ہوتی ہیں ۔ کسی کے پاس بچوں کا پیٹ پالنے کی فکر ہے تو کسی کے ساتھ ملک میں صحت کی سہولیات کے فقدان کی پریشانی ……..الغرض دیہاڑی دار مزدور سے لے کر قوم کے مسیحاؤں (ڈاکٹرز) تک پریشان ہیں …….. جبکہ منتخب عوامی نمائندے ائسولیشن میں ہیں۔
اس لیے یہ وقت مذہب، رنگ ، نسل اور زبان سے بالاتر ہوکر بلا تفریق انسانیت کی خدمت کا ہے ……..اپنے کھانے پینے کی اشیاء اور دیگر دستیاب سہولتوں میں ممکن حد تک اوروں کو بھی شریک کریں کیونکہ یہ ہمارا اخلاقی کے ساتھ ساتھ دینی فریضہ بھی ہے اور صدقہ بھی جس کو رد البلاء کہا گیا ہے۔ مجھے خوشی ہوئی اور سر فخر سے بلند ہوا کہ الخدمت فاونڈیش کے رضاکار جہاں مساجد میں جراثیم کش سپرے کر رہے ……. وہاں انہوں نے مقامی چرچوں، گردواروں، اور مندروں کو بھی نظر انداز نہیں کیا ۔ یہی اسلام اور پاکستان کا حقیقی چہرہ ہے جس پر میڈیا خاموش ہے، اہل قلم پر سکوت اور لبرل پر خوف طاری ہے کیونکہ یہی انسانیت کے ٹھیکدار لوگوں کو سالوں سے گمراہ کرتے چلے آرہے تھے اور انہی خدمتگاروں کو وحشیوں کی شکل میں پیش کرتے تھے کہ اگر یہ کبھی اقتدار میں اگئےتو انسانیت خطرے میں پڑ جائیگی۔
جب انسانیت کی خدمت کا وقت آیا تو یہی دعویدار حکومتی آرڈراور صحت کے اصولوں کو مدنظر رکھ کر آور انسانیت کو بھول کر اپنی جان کی فکر میں ائیسولیشن میں چلے گئے۔ لیکن وہ داڑھی اور پگڑی والے بنیاد پرست تین سو ایمبولینس، تریپن ہسپتال، دس جدید لیبز اور ہزاروں رضا کاروں کے ساتھ ملک وقوم کی خدمت کے لیے میدان میں اتر آئے جو ذات پات اور رنگ و نسل سے بالاتر ہو کر مصروف خدمت ہیں۔ جس کی زندہ مثال سراج الحق صاحب کی اقلیتوں اور خواجہ سراوں کے بارے میں فکر مندی ہے کیونکہ ان کمیونٹیز کو اکثر ہی اہل خیر اپنے تعاون میں نظر انداز کرتے ہیں لیکن الخدمت نے ان کو فراموش نہیں کیا ۔
لہذا! ……..یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ یہی اسلامی، فلاحی اور خوشحال پاکستان ہوگا جہاں ایک مخصوص طبقے کی پر آسائش کچن کی نہیں بلکہ ہر ایک کےچولہے کی فکر کی جائیگی، جہاں صرف مسجد اور مدرسہ کی نہیں بلکہ اقلیتوں کے عبادت خانوں کی بھی حفاظت کی جائیگی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں